يونس
Yunus
Jonah
الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱلْكِتَـٰبِ ٱلْحَكِيمِ
alif-lam-ra til'ka āyātu l-kitābi l-ḥakīmi
ا ل ر، یہ اُس کتاب کی آیات ہیں جو حکمت و دانش سے لبریز ہے۔1
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ ٱلنَّاسَ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ ۗ قَالَ ٱلْكَـٰفِرُونَ إِنَّ هَـٰذَا لَسَـٰحِرٌۭ مُّبِينٌ
akāna lilnnāsi ʿajaban an awḥaynā ilā rajulin min'hum an andhiri l-nāsa wabashiri alladhīna āmanū anna lahum qadama ṣid'qin ʿinda rabbihim qāla l-kāfirūna inna hādhā lasāḥirun mubīnun
کیا لوگوں کے لیے یہ ایک عجیب بات ہو گئی کہ ہم نے خود اُنہی میں سے ایک آدمی کو اشارہ کیا کہ (غفلت میں پڑے ہوئے) لوگوں کو چونکا دے اور جو مان لیں ان کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اُن کے ربّ کے پاس سچی عزت و سرفرازی ہے؟1 (کیا یہی وہ بات ہے جس پر ) منکرینِ نے کہا کہ یہ شخص تو کھُلا جادوگر ہے؟2
إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۖ يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ ۖ مَا مِن شَفِيعٍ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ إِذْنِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
inna rabbakumu l-lahu alladhī khalaqa l-samāwāti wal-arḍa fī sittati ayyāmin thumma is'tawā ʿalā l-ʿarshi yudabbiru l-amra mā min shafīʿin illā min baʿdi idh'nihi dhālikumu l-lahu rabbukum fa-uʿ'budūhu afalā tadhakkarūna
حقیقت یہ ہے کہ تمہارا ربّ وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر تختِ حکومت پر جلوہ گر ہوا اور کائنات کا انتظام چلارہا ہے۔1 کوئی شفاعت (سفارش) کرنے والا نہیں ہے اِلّا یہ کہ اس کی اجازت کے بعد شفاعت کرے۔2 یہی اللہ تمہارا ربّ ہے لہٰذا تم اُسی کی عبادت کرو۔3 پھر کیا تم ہوش میں نہ آوٴ گے؟4
إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًۭا ۖ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقًّا ۚ إِنَّهُۥ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ بِٱلْقِسْطِ ۚ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَهُمْ شَرَابٌۭ مِّنْ حَمِيمٍۢ وَعَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ
ilayhi marjiʿukum jamīʿan waʿda l-lahi ḥaqqan innahu yabda-u l-khalqa thumma yuʿīduhu liyajziya alladhīna āmanū waʿamilū l-ṣāliḥāti bil-qis'ṭi wa-alladhīna kafarū lahum sharābun min ḥamīmin waʿadhābun alīmun bimā kānū yakfurūna
اسی کی طرف تم سب کو پلٹ کا جانا ہے1، یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے۔ بے شک پیدائش کی ابتداء وہی کرتا ہے، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا،2 تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ان کو پورے انصاف کے ساتھ جزا دے، اور جنہوں نے کُفر کا طریقہ اختیار کیا وہ کھولتا ہوا پانی پئیں اور دردناک سزا بُھگتیں اُس انکارِحق کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے۔3
هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ ٱلشَّمْسَ ضِيَآءًۭ وَٱلْقَمَرَ نُورًۭا وَقَدَّرَهُۥ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا۟ عَدَدَ ٱلسِّنِينَ وَٱلْحِسَابَ ۚ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ
huwa alladhī jaʿala l-shamsa ḍiyāan wal-qamara nūran waqaddarahu manāzila litaʿlamū ʿadada l-sinīna wal-ḥisāba mā khalaqa l-lahu dhālika illā bil-ḥaqi yufaṣṣilu l-āyāti liqawmin yaʿlamūna
وہی ہے جس نے سُورج کو اجیالا بنایا اور چاند کو چمک دی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کر دیں تاکہ تم اُس سے برسوں اور تاریخوں کے حساب معلوم کرو اللہ نے یہ سب کچھ (کھیل کے طور پر نہیں بلکہ) با مقصد ہی بنایا ہے وہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کر رہا ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں
إِنَّ فِى ٱخْتِلَـٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَّقُونَ
inna fī ikh'tilāfi al-layli wal-nahāri wamā khalaqa l-lahu fī l-samāwāti wal-arḍi laāyātin liqawmin yattaqūna
یقیناً رات اور دن کے اُلٹ پھیر میں اور ہر اُس چیز میں جو اللہ نے زمین اور آسمانوں میں پیدا کی ہے، نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو (غلط بینی و غلط روی سے) بچنا چاہتے ہیں۔1
إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا وَرَضُوا۟ بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَٱطْمَأَنُّوا۟ بِهَا وَٱلَّذِينَ هُمْ عَنْ ءَايَـٰتِنَا غَـٰفِلُونَ
inna alladhīna lā yarjūna liqāanā waraḍū bil-ḥayati l-dun'yā wa-iṭ'ma-annū bihā wa-alladhīna hum ʿan āyātinā ghāfilūna
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہو گئے ہیں، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں
أُو۟لَـٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمُ ٱلنَّارُ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ
ulāika mawāhumu l-nāru bimā kānū yaksibūna
اُن کا آخری ٹھکانہ جہنم ہو گااُن برائیوں کی پاداش میں جن کا اکتساب وہ (اپنے اُس غلط عقیدے اور غلط طرزِ عمل کی وجہ سے ) کرتے رہے۔1
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُم بِإِيمَـٰنِهِمْ ۖ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمُ ٱلْأَنْهَـٰرُ فِى جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ
inna alladhīna āmanū waʿamilū l-ṣāliḥāti yahdīhim rabbuhum biīmānihim tajrī min taḥtihimu l-anhāru fī jannāti l-naʿīmi
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے (یعنی جنہوں نے اُن صداقتوں کو قبول کر لیا جو اس کتاب میں پیش کی گئی ہیں) اور نیک اعمال کرتے رہے اُنہیں اُن کا ربّ اُن کےایمان کی وجہ سے سیدھی راہ چلائے گا، نعمت بھری جنتّوں میں اُن کے نیچے نہریں بہیں گی،1
دَعْوَىٰهُمْ فِيهَا سُبْحَـٰنَكَ ٱللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَـٰمٌۭ ۚ وَءَاخِرُ دَعْوَىٰهُمْ أَنِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ
daʿwāhum fīhā sub'ḥānaka l-lahuma wataḥiyyatuhum fīhā salāmun waākhiru daʿwāhum ani l-ḥamdu lillahi rabbi l-ʿālamīna
وہاں اُن کی صدا یہ ہوگی کہ”پاک ہے تُو اے خدا“، اُن کی یہ دُعا ہوگی کہ ”سلامتی ہو“ اور اُن کی ہر بات کا خاتمہ اِس پر ہو گا کہ ”ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے1۔“
۞ وَلَوْ يُعَجِّلُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ ٱلشَّرَّ ٱسْتِعْجَالَهُم بِٱلْخَيْرِ لَقُضِىَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ ۖ فَنَذَرُ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا فِى طُغْيَـٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ
walaw yuʿajjilu l-lahu lilnnāsi l-shara is'tiʿ'jālahum bil-khayri laquḍiya ilayhim ajaluhum fanadharu alladhīna lā yarjūna liqāanā fī ṭugh'yānihim yaʿmahūna
اگر کہیں 1اللہ لوگوں کے ساتھ بُرا معاملہ کرنے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی وہ دُنیا کی بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کے مہلت ِعمل کبھی کی ختم کر دی گئی ہوتی۔ (مگر ہمارا یہ طریقہ نہیں ہے) اِس لیے ہم اُن لوگوں کو جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اُن کی سرکشی میں بھٹکنے کے لیے چھُو ٹ دے دیتے ہیں
وَإِذَا مَسَّ ٱلْإِنسَـٰنَ ٱلضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۢبِهِۦٓ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَآئِمًۭا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُۥ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَآ إِلَىٰ ضُرٍّۢ مَّسَّهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
wa-idhā massa l-insāna l-ḍuru daʿānā lijanbihi aw qāʿidan aw qāiman falammā kashafnā ʿanhu ḍurrahu marra ka-an lam yadʿunā ilā ḍurrin massahu kadhālika zuyyina lil'mus'rifīna mā kānū yaʿmalūna
انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے، مگر جب ہم اس کی مصیبت ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے کہ گویا اس نے کبھی اپنے کسی بُرے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا اس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لیے ان کے کرتوت خوشنما بنا دیے گئے ہیں
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا ٱلْقُرُونَ مِن قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوا۟ ۙ وَجَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ وَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْقَوْمَ ٱلْمُجْرِمِينَ
walaqad ahlaknā l-qurūna min qablikum lammā ẓalamū wajāathum rusuluhum bil-bayināti wamā kānū liyu'minū kadhālika najzī l-qawma l-muj'rimīna
لوگو، تم سے پہلے کی قوموں کو 1( جو اپنے اپنے زمانہ میں برسرِ عرُوج تھیں) ہم نے ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم کی روِش2 اختیار کی اور اُن کے رسول اُن کے پاس کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر آئے اور انہوں نے ایمان لاکر ہی نہ دیا۔ اِس طرح ہم مجرموں کو اُن کے جرائم کا بدلہ دیا کرتے ہیں
ثُمَّ جَعَلْنَـٰكُمْ خَلَـٰٓئِفَ فِى ٱلْأَرْضِ مِنۢ بَعْدِهِمْ لِنَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ
thumma jaʿalnākum khalāifa fī l-arḍi min baʿdihim linanẓura kayfa taʿmalūna
اب اُن کے بعد ہم نے تم کو زمین میں ان کی جگہ دی ہے ، تا کہ دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو۔1
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَاتُنَا بَيِّنَـٰتٍۢ ۙ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا ٱئْتِ بِقُرْءَانٍ غَيْرِ هَـٰذَآ أَوْ بَدِّلْهُ ۚ قُلْ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنْ أُبَدِّلَهُۥ مِن تِلْقَآئِ نَفْسِىٓ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ
wa-idhā tut'lā ʿalayhim āyātunā bayyinātin qāla alladhīna lā yarjūna liqāanā i'ti biqur'ānin ghayri hādhā aw baddil'hu qul mā yakūnu lī an ubaddilahu min til'qāi nafsī in attabiʿu illā mā yūḥā ilayya innī akhāfu in ʿaṣaytu rabbī ʿadhāba yawmin ʿaẓīmin
جب انہیں ہماری صاف صاف باتیں سُنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے ، کہتے ہیں کہ ”اِس کے بجائے کوئی اور قرآن لاوٴ یا ا س میں کچھ ترمیم کرو“۔1 اے محمد ؐ ، ان سے کہو ”میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اِس میں کوئی تغیّر و تبدّل کر لوں، میں تو بس اُس وحی کا پیرو ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے ربّ کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے۔“2
قُل لَّوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا تَلَوْتُهُۥ عَلَيْكُمْ وَلَآ أَدْرَىٰكُم بِهِۦ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًۭا مِّن قَبْلِهِۦٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
qul law shāa l-lahu mā talawtuhu ʿalaykum walā adrākum bihi faqad labith'tu fīkum ʿumuran min qablihi afalā taʿqilūna
اور کہو”اگر اللہ کی مشیّت یہی ہوتی تو میں یہ قرآن تمہیں کبھی نہ سُناتا اور اللہ تمہیں اس کی خبر تک نہ دیتا۔ آخر اس سے پہلے میں ایک عمر تمہارے درمیان گُزار چُکا ہوں ، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے 1؟
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَـٰتِهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلْمُجْرِمُونَ
faman aẓlamu mimmani if'tarā ʿalā l-lahi kadhiban aw kadhaba biāyātihi innahu lā yuf'liḥu l-muj'rimūna
پھر اُس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسُوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جھوٹا قرار دے۔1 یقیناً مجرم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔“2
وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَـٰٓؤُلَآءِ شُفَعَـٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِ ۚ قُلْ أَتُنَبِّـُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ سُبْحَـٰنَهُۥ وَتَعَـٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ
wayaʿbudūna min dūni l-lahi mā lā yaḍurruhum walā yanfaʿuhum wayaqūlūna hāulāi shufaʿāunā ʿinda l-lahi qul atunabbiūna l-laha bimā lā yaʿlamu fī l-samāwāti walā fī l-arḍi sub'ḥānahu wataʿālā ʿammā yush'rikūna
یہ لوگ اللہ کے سوا اُن کی پرستش کر رہے ہیں جو ان کو نا نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ اے محمد ؐ ، ان سے کہو ”کیا تم اللہ کو اُس بات کی خبر دیتے ہو جسے نہ وہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں؟1“ پاک ہے وہ اور بالا وبرتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
وَمَا كَانَ ٱلنَّاسُ إِلَّآ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ فَٱخْتَلَفُوا۟ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
wamā kāna l-nāsu illā ummatan wāḥidatan fa-ikh'talafū walawlā kalimatun sabaqat min rabbika laquḍiya baynahum fīmā fīhi yakhtalifūna
ابتداءً سارے انسان ایک ہی اُمّت تھے ، بعد میں انہوں نے مختلف عقیدے اور مسلک بنا لیے1، اور اگر تیرے ربّ کی طرف سے پہلے ہی ایک بات طے نہ کر لی گئی ہوتی تو جس چیز میں وہ باہم اختلاف کر رہے ہیں اس کا فیصلہ کر دیا جاتا۔2
وَيَقُولُونَ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۖ فَقُلْ إِنَّمَا ٱلْغَيْبُ لِلَّهِ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ
wayaqūlūna lawlā unzila ʿalayhi āyatun min rabbihi faqul innamā l-ghaybu lillahi fa-intaẓirū innī maʿakum mina l-muntaẓirīna
اور یہ جو وہ کہتے ہیں کہ اِس نبی ؐ پر اِ س کے ربّ کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اُتاری گئی،1 تو اِن سے کہو ”غیب کا مالک و مختار تو اللہ ہی ہے، اچھا، انتظار کرو ، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔“2
وَإِذَآ أَذَقْنَا ٱلنَّاسَ رَحْمَةًۭ مِّنۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُم مَّكْرٌۭ فِىٓ ءَايَاتِنَا ۚ قُلِ ٱللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ
wa-idhā adhaqnā l-nāsa raḥmatan min baʿdi ḍarrāa massathum idhā lahum makrun fī āyātinā quli l-lahu asraʿu makran inna rusulanā yaktubūna mā tamkurūna
لوگوں کا حال یہ ہے کہ مصیبت کے بعد جب اُنہیں رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو فوراً ہی وہ ہماری نشانیوں کے معاملے میں چال بازیاں شروع کر دیتے ہیں۔1 ان سے کہو”اللہ اپنی چال میں تم سے زیادہ تیز ہے، اُس کے فرشتے تمہاری سب مکّاریوں کو قلمبند کر رہے ہیں۔“2
هُوَ ٱلَّذِى يُسَيِّرُكُمْ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُمْ فِى ٱلْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍۢ طَيِّبَةٍۢ وَفَرِحُوا۟ بِهَا جَآءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌۭ وَجَآءَهُمُ ٱلْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍۢ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَـٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ
huwa alladhī yusayyirukum fī l-bari wal-baḥri ḥattā idhā kuntum fī l-ful'ki wajarayna bihim birīḥin ṭayyibatin wafariḥū bihā jāathā rīḥun ʿāṣifun wajāahumu l-mawju min kulli makānin waẓannū annahum uḥīṭa bihim daʿawū l-laha mukh'liṣīna lahu l-dīna la-in anjaytanā min hādhihi lanakūnanna mina l-shākirīna
وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے۔ چنانچہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو کر با دِ موافق پر فرحاں و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکایک بادِ مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ گھِر گئے،اُس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کر کے اُس سے دعائیں مانگتے ہیں کہ ”اگر تُو نے ہم کو اِس بلا سے نجات دے دی تو ہم شُکر گزار بندے بنیں گے۔“1
فَلَمَّآ أَنجَىٰهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ ۗ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُم ۖ مَّتَـٰعَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
falammā anjāhum idhā hum yabghūna fī l-arḍi bighayri l-ḥaqi yāayyuhā l-nāsu innamā baghyukum ʿalā anfusikum matāʿa l-ḥayati l-dun'yā thumma ilaynā marjiʿukum fanunabbi-ukum bimā kuntum taʿmalūna
مگر جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں لوگو، تمہاری یہ بغاوت اُلٹی تمہارے ہی خلاف پڑ رہی ہے دنیا کے چند روزہ مزے ہیں (لُوٹ لو)، پھر ہماری طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت ہم تمہیں بتا دیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو
إِنَّمَا مَثَلُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَآءٍ أَنزَلْنَـٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخْتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ ٱلنَّاسُ وَٱلْأَنْعَـٰمُ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذَتِ ٱلْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَٱزَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَآ أَنَّهُمْ قَـٰدِرُونَ عَلَيْهَآ أَتَىٰهَآ أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًۭا فَجَعَلْنَـٰهَا حَصِيدًۭا كَأَن لَّمْ تَغْنَ بِٱلْأَمْسِ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لِقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ
innamā mathalu l-ḥayati l-dun'yā kamāin anzalnāhu mina l-samāi fa-ikh'talaṭa bihi nabātu l-arḍi mimmā yakulu l-nāsu wal-anʿāmu ḥattā idhā akhadhati l-arḍu zukh'rufahā wa-izzayyanat waẓanna ahluhā annahum qādirūna ʿalayhā atāhā amrunā laylan aw nahāran fajaʿalnāhā ḥaṣīdan ka-an lam taghna bil-amsi kadhālika nufaṣṣilu l-āyāti liqawmin yatafakkarūna
دنیا کی یہ زندگی (جس کے نشے میں مست ہو کر تم ہماری نشانیوں سے غفلت برت رہے ہو) اس کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا تو زمین کی پیداوار، جسے آدمی اور جانور سب کھاتے ہیں، خوب گھنی ہو گئی، پھر عین اُس وقت جبکہ زمین اپنی بہار پر تھی اور کھیتیاں بنی سنوری کھڑی تھیں اور ان کے مالک یہ سمجھ رہے تھے کہ اب ہم ان سے فائدہ اُٹھانے پر قادر ہیں، یکایک رات کو یا دن کو ہمارا حکم آ گیا اور ہم نے اسے ایسا غارت کر کے رکھ دیا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں اس طرح ہم نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سوچنے سمجھنے والے ہیں
وَٱللَّهُ يَدْعُوٓا۟ إِلَىٰ دَارِ ٱلسَّلَـٰمِ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ
wal-lahu yadʿū ilā dāri l-salāmi wayahdī man yashāu ilā ṣirāṭin mus'taqīmin
( تم اس ناپائیدار زندگی کے فریب میں مبتلا ہو رہے ہو) اور اللہ تمہیں دارالسلام کی طرف دعوت دے رہا ہے۔1 (ہدایت اُس کے اختیار میں ہے) جس کو وہ چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے
۞ لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ ٱلْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌۭ ۖ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌۭ وَلَا ذِلَّةٌ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ
lilladhīna aḥsanū l-ḥus'nā waziyādatun walā yarhaqu wujūhahum qatarun walā dhillatun ulāika aṣḥābu l-janati hum fīhā khālidūna
جن لوگوں نے بھلائی کا طریقہ اختیار کیا اُن کے لیے بھلائی ہے اور مزید فضل۔1 ان کے چہروں پر رُو سیاہی اور ذلّت نہ چھائے گی۔ وہ جنّت کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے
وَٱلَّذِينَ كَسَبُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ جَزَآءُ سَيِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌۭ ۖ مَّا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِنْ عَاصِمٍۢ ۖ كَأَنَّمَآ أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعًۭا مِّنَ ٱلَّيْلِ مُظْلِمًا ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ
wa-alladhīna kasabū l-sayiāti jazāu sayyi-atin bimith'lihā watarhaquhum dhillatun mā lahum mina l-lahi min ʿāṣimin ka-annamā ugh'shiyat wujūhuhum qiṭaʿan mina al-layli muẓ'liman ulāika aṣḥābu l-nāri hum fīhā khālidūna
اور جن لوگوں نے بُرائیاں کمائیں ان کی برائی جیسی ہے ویسا ہی وہ بدلہ پائیں گے،1 ذلّت ان پر مسلّط ہو گی ، کوئی اللہ سے ان کو بچانے والا نہ ہو گا ، ان کے چہروں پر ایسی تاریکی چھائی ہوئی ہو گی2 جیسے رات کے سیاہ پردے ان پر پڑے ہوئے ہوں، وہ دوزخ کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے
وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًۭا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَآؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ ۖ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُم مَّا كُنتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ
wayawma naḥshuruhum jamīʿan thumma naqūlu lilladhīna ashrakū makānakum antum washurakāukum fazayyalnā baynahum waqāla shurakāuhum mā kuntum iyyānā taʿbudūna
جس روز ہم ان سب کو ایک ساتھ (اپنی عدالت میں) اکٹھا کریں گے، پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے کہ ٹھہر جاوٴ تم بھی اور تمہارے بنائے ہوئے شریک بھی ، پھر ہم ان کے درمیان سے اجنبیت کا پردہ ہٹا دیں گے1 اور ان کے شریک کہیں گے کہ ”تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے
فَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًۢا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِن كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَـٰفِلِينَ
fakafā bil-lahi shahīdan baynanā wabaynakum in kunnā ʿan ʿibādatikum laghāfilīna
ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے کہ ( تم اگر ہماری عبادت کرتے بھی تھے تو ) ہم تمہاری اس عبادت سے بالکل بے خبر تھے۔“ 1
هُنَالِكَ تَبْلُوا۟ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّآ أَسْلَفَتْ ۚ وَرُدُّوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ مَوْلَىٰهُمُ ٱلْحَقِّ ۖ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ
hunālika tablū kullu nafsin mā aslafat waruddū ilā l-lahi mawlāhumu l-ḥaqi waḍalla ʿanhum mā kānū yaftarūna
اُس وقت ہر شخص اپنے کیے کا مزا چکھ لے گا، سب اپنے مالک حقیقی کی طرف پھیر دیے جائیں گے اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے گم ہو جائیں گے
قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ أَمَّن يَمْلِكُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَـٰرَ وَمَن يُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَىِّ وَمَن يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ
qul man yarzuqukum mina l-samāi wal-arḍi amman yamliku l-samʿa wal-abṣāra waman yukh'riju l-ḥaya mina l-mayiti wayukh'riju l-mayita mina l-ḥayi waman yudabbiru l-amra fasayaqūlūna l-lahu faqul afalā tattaqūna
اِن سے پُوچھو، کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں؟ کون بے جان میں سے جاندار کو اور جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے؟ کون اِس نظم عالم کی تدبیر کر رہا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ کہو، پھر تم (حقیقت کے خلاف چلنے سے) پرہیز نہیں کرتے؟
فَذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ ٱلْحَقِّ إِلَّا ٱلضَّلَـٰلُ ۖ فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ
fadhālikumu l-lahu rabbukumu l-ḥaqu famādhā baʿda l-ḥaqi illā l-ḍalālu fa-annā tuṣ'rafūna
تب تو یہی اللہ تمہارا حقیقی ربّ ہے۔1 پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا باقی رہ گیا؟ آخر یہ تم کدھر پھرائے جار ہے ہو؟2
كَذَٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى ٱلَّذِينَ فَسَقُوٓا۟ أَنَّهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
kadhālika ḥaqqat kalimatu rabbika ʿalā alladhīna fasaqū annahum lā yu'minūna
(اے نبی ؐ ، دیکھو) اس طرح نافرمانی اختیار کرنے والوں پر تمہارے ربّ کی بات صادق آگئی کہ وہ مان کر نہ دیں گے۔1
قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ ۚ قُلِ ٱللَّهُ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ
qul hal min shurakāikum man yabda-u l-khalqa thumma yuʿīduhu quli l-lahu yabda-u l-khalqa thumma yuʿīduhu fa-annā tu'fakūna
اِن سے پوچھو، تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو تخلیق کی ابتداء بھی کرتا ہو اور پھر اس کا اعادہ بھی کرے؟۔۔۔۔ کہو وہ صرف اللہ ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہے اور اس کا اعادہ بھی،1 پھر تم یہ کس اُلٹی راہ پر چلائے جا رہے ہو ؟2
قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَهْدِىٓ إِلَى ٱلْحَقِّ ۚ قُلِ ٱللَّهُ يَهْدِى لِلْحَقِّ ۗ أَفَمَن يَهْدِىٓ إِلَى ٱلْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّىٓ إِلَّآ أَن يُهْدَىٰ ۖ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ
qul hal min shurakāikum man yahdī ilā l-ḥaqi quli l-lahu yahdī lil'ḥaqqi afaman yahdī ilā l-ḥaqi aḥaqqu an yuttabaʿa amman lā yahiddī illā an yuh'dā famā lakum kayfa taḥkumūna
اِن سے پوچھو تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہو؟1۔۔۔۔ کہو وہ صرف اللہ ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ پھر بھلا بتاوٴ جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے وہ اِس دنیا کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو رہنمائی نہیں کر سکتا اِلّا یہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے؟ آخر تمہیں ہو کیا گیا ہے، کیسے اُلٹے فیصلے کرتے ہو؟
وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا ۚ إِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ ٱلْحَقِّ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِمَا يَفْعَلُونَ
wamā yattabiʿu aktharuhum illā ẓannan inna l-ẓana lā yugh'nī mina l-ḥaqi shayan inna l-laha ʿalīmun bimā yafʿalūna
حقیقت یہ ہے کہ اِن میں سے اکثر لوگ محض قیاس و گمان کے پیچھے چلے جارہے ہیں 1، حالانکہ گمان حق کی ضرورت کو کچھ بھی پُورا نہیں کرتا۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے
وَمَا كَانَ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانُ أَن يُفْتَرَىٰ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَـٰكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ ٱلْكِتَـٰبِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ
wamā kāna hādhā l-qur'ānu an yuf'tarā min dūni l-lahi walākin taṣdīqa alladhī bayna yadayhi watafṣīla l-kitābi lā rayba fīhi min rabbi l-ʿālamīna
اور یہ قرآن وہ چیز نہیں ہے جو اللہ وحی و تعلیم کے بغیر تصنیف کر لیا جائے۔ بلکہ یہ تو جو کچھ پہلے آچکا تھا اس کی تصدیق اور الکتاب کی تفصیل ہے۔1 اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فرمانروائے کائنات کی طرف سے ہے
أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا۟ بِسُورَةٍۢ مِّثْلِهِۦ وَٱدْعُوا۟ مَنِ ٱسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ
am yaqūlūna if'tarāhu qul fatū bisūratin mith'lihi wa-id'ʿū mani is'taṭaʿtum min dūni l-lahi in kuntum ṣādiqīna
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر ؐ نے اسے خود تصنیف کر لیا ہے؟ کہو، ”اگر تم اپنے اس الزام میں سچے ہو تو ایک سُورة اس جیسی تصنیف کر لاوٴ اور ایک خدا کو چھوڑ کر جس جس کو بُلا سکتے ہو مدد کے لیے بلا لو۔1“
بَلْ كَذَّبُوا۟ بِمَا لَمْ يُحِيطُوا۟ بِعِلْمِهِۦ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلظَّـٰلِمِينَ
bal kadhabū bimā lam yuḥīṭū biʿil'mihi walammā yatihim tawīluhu kadhālika kadhaba alladhīna min qablihim fa-unẓur kayfa kāna ʿāqibatu l-ẓālimīna
اصل بات یہ ہے کہ جو چیز اِن کے علم کی گرفت میں نہیں آئی اور جس کا مآل بھی ان کے سامنے نہیں آیا اُس کو اِنہوں نے (خواہ مخواہ اٹکل پِچّو) جھُٹلا دیا۔1 اِسی طرح تو ان سے پہلے کے لوگ بھی جھُٹلا چکے ہیں پھر دیکھ لو اُن ظالموں کا کیا انجام ہُوا
وَمِنْهُم مَّن يُؤْمِنُ بِهِۦ وَمِنْهُم مَّن لَّا يُؤْمِنُ بِهِۦ ۚ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِٱلْمُفْسِدِينَ
wamin'hum man yu'minu bihi wamin'hum man lā yu'minu bihi warabbuka aʿlamu bil-muf'sidīna
اِن میں سے کچھ لوگ ایمان لائیں گے اور کچھ نہیں لائیں گے اور تیرا ربّ اُن مفسدوں کو خوب جانتا ہے۔1
وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّى عَمَلِى وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيٓـُٔونَ مِمَّآ أَعْمَلُ وَأَنَا۠ بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تَعْمَلُونَ
wa-in kadhabūka faqul lī ʿamalī walakum ʿamalukum antum barīūna mimmā aʿmalu wa-anā barīon mimmā taʿmalūna
اگر یہ تجھے جھُٹلاتے ہیں تو کہہ دے کہ ”میرا عمل میرے لیے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لیے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بَری ہو اور جو کچھ تم کر رہے ہو اُس کی ذمہ داری سے میں بَری ہوں۔“1
وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ ۚ أَفَأَنتَ تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ وَلَوْ كَانُوا۟ لَا يَعْقِلُونَ
wamin'hum man yastamiʿūna ilayka afa-anta tus'miʿu l-ṣuma walaw kānū lā yaʿqilūna
ان میں بہت سے لوگ ہیں جو تیری باتیں سُنتے ہیں ، مگر کیا تُو بہروں کو سُنائے گا خواہ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوں؟1
وَمِنْهُم مَّن يَنظُرُ إِلَيْكَ ۚ أَفَأَنتَ تَهْدِى ٱلْعُمْىَ وَلَوْ كَانُوا۟ لَا يُبْصِرُونَ
wamin'hum man yanẓuru ilayka afa-anta tahdī l-ʿum'ya walaw kānū lā yub'ṣirūna
اِن میں سے بہت سے لوگ ہیں جو تجھے دیکھتے ہیں ، مگر کیا تُو اندھوں کو راہ بتائے گا خواہ انہیں کچھ نہ سُو جھتا ہو؟1
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظْلِمُ ٱلنَّاسَ شَيْـًۭٔا وَلَـٰكِنَّ ٱلنَّاسَ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
inna l-laha lā yaẓlimu l-nāsa shayan walākinna l-nāsa anfusahum yaẓlimūna
حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا، لوگ خود ہی اپنے اُوپر ظلم کرتے ہیں۔1
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ كَأَن لَّمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةًۭ مِّنَ ٱلنَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ ۚ قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ
wayawma yaḥshuruhum ka-an lam yalbathū illā sāʿatan mina l-nahāri yataʿārafūna baynahum qad khasira alladhīna kadhabū biliqāi l-lahi wamā kānū muh'tadīna
(آج یہ دُنیا کی زندگی میں مست ہیں) اور جس روز اللہ اِن کو اکٹھا کرے گا تو (یہی دُنیا کی زندگی اِنہیں ایسی محسُوس ہوگی) گویا یہ محض ایک گھڑی بھر آپس میں جان پہچان کرنے کو ٹھہرے تھے۔1 (اُس وقت تحقیق ہو جائے گا کہ) فی الواقع سخت گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھُٹلایا2 اور ہر گز وہ راہِ راست پر نہ تھے
وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ ٱلَّذِى نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ ٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ
wa-immā nuriyannaka baʿḍa alladhī naʿiduhum aw natawaffayannaka fa-ilaynā marjiʿuhum thumma l-lahu shahīdun ʿalā mā yafʿalūna
جن بُرے نتائج سے ہم انہیں ڈرا رہے ہیں ان کا کوئی حصہ ہم تیرے جیتے جی دکھا دیں یا اس سے پہلے ہی تجھے اُٹھا لیں، بہرحال اِنہیں آنا ہماری ہی طرف ہے اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اس پر اللہ گواہ ہے
وَلِكُلِّ أُمَّةٍۢ رَّسُولٌۭ ۖ فَإِذَا جَآءَ رَسُولُهُمْ قُضِىَ بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
walikulli ummatin rasūlun fa-idhā jāa rasūluhum quḍiya baynahum bil-qis'ṭi wahum lā yuẓ'lamūna
ہر اُمّت کے لیے ایک رسُول ہے1، پھر جب کسی اُمّت کے پاس اُس کا رسُول آجاتا ہے تو اس کا فیصلہ پُورے انصاف کے ساتھ چُکا دیا جاتا ہے اور اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جاتا۔2
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ
wayaqūlūna matā hādhā l-waʿdu in kuntum ṣādiqīna
کہتے ہیں اگر تمہاری یہ دھمکی سچّی ہے تو آخر یہ کب پُوری ہو گی؟
قُل لَّآ أَمْلِكُ لِنَفْسِى ضَرًّۭا وَلَا نَفْعًا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۗ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۚ إِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ فَلَا يَسْتَـْٔخِرُونَ سَاعَةًۭ ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
qul lā amliku linafsī ḍarran walā nafʿan illā mā shāa l-lahu likulli ummatin ajalun idhā jāa ajaluhum falā yastakhirūna sāʿatan walā yastaqdimūna
کہو ”میرے اختیار میں خُود اپنا نفع و ضرر بھی نہیں، سب کچھ اللہ کی مشیّت پر موقوف ہے۔1 ہر اُمّت کے لیے مہلت کی ایک مدّت ہے، جب یہ مدّت پُوری ہو جاتی ہے تو گھڑی بھر کی تقدیم و تاخیر بھی نہیں ہوتی۔“2
قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَتَىٰكُمْ عَذَابُهُۥ بَيَـٰتًا أَوْ نَهَارًۭا مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ ٱلْمُجْرِمُونَ
qul ara-aytum in atākum ʿadhābuhu bayātan aw nahāran mādhā yastaʿjilu min'hu l-muj'rimūna
اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ کا عذاب اچانک رات کو یا دن کو آ جائے (تو تم کیا کر سکتے ہو؟) آخر یہ ایسی کونسی چیز ہے جس کے لیے مجرم جلدی مچائیں؟
أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ ءَامَنتُم بِهِۦٓ ۚ ءَآلْـَٔـٰنَ وَقَدْ كُنتُم بِهِۦ تَسْتَعْجِلُونَ
athumma idhā mā waqaʿa āmantum bihi āl'āna waqad kuntum bihi tastaʿjilūna
کیا جب وہ تم پر آ پڑے اسی وقت تم اسے مانو گے؟ اب بچنا چاہتے ہو؟ حالانکہ تم خود ہی اس کے جلدی آنے کا تقاضا کر رہے تھے!
ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْخُلْدِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ
thumma qīla lilladhīna ẓalamū dhūqū ʿadhāba l-khul'di hal tuj'zawna illā bimā kuntum taksibūna
پھر ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب ہمیشہ کے عذاب کا مزا چکھو، جو کچھ تم کماتے رہے ہو اس کی پاداش کے سوا اور کیا بدلہ تم کو دیا جا سکتا ہے؟
۞ وَيَسْتَنۢبِـُٔونَكَ أَحَقٌّ هُوَ ۖ قُلْ إِى وَرَبِّىٓ إِنَّهُۥ لَحَقٌّۭ ۖ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ
wayastanbiūnaka aḥaqqun huwa qul ī warabbī innahu laḥaqqun wamā antum bimuʿ'jizīna
پھر پُوچھتے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے جو تم کہہ رہے ہو؟ کہو“میرے رب کی قسم، یہ بالکل سچ ہے اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے ظہُور میں آنے سے روک دو"
وَلَوْ أَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍۢ ظَلَمَتْ مَا فِى ٱلْأَرْضِ لَٱفْتَدَتْ بِهِۦ ۗ وَأَسَرُّوا۟ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ۖ وَقُضِىَ بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ ۚ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
walaw anna likulli nafsin ẓalamat mā fī l-arḍi la-if'tadat bihi wa-asarrū l-nadāmata lammā ra-awū l-ʿadhāba waquḍiya baynahum bil-qis'ṭi wahum lā yuẓ'lamūna
اگر ہر اُس شخص کے پاس جس نے ظلم کیا ہے، رُوئے زمین کی دولت بھی ہو تو اُس عذاب سے بچنے کے لیے وہ اُسے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہو جائے گا۔ جب یہ لوگ اس عذاب کو دیکھ لیں گے تو دل ہی دل میں پچھتائیں گے۔1 مگر ان کے درمیان پورے انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا، کوئی ظلم ان پر نہ ہو گا
أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ أَلَآ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
alā inna lillahi mā fī l-samāwāti wal-arḍi alā inna waʿda l-lahi ḥaqqun walākinna aktharahum lā yaʿlamūna
سنو! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے سُن رکھو! اللہ کا وعدہ سچّا ہے مگر اکثر انسان جانتے نہیں ہیں
هُوَ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
huwa yuḥ'yī wayumītu wa-ilayhi tur'jaʿūna
وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور اسی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُم مَّوْعِظَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَآءٌۭ لِّمَا فِى ٱلصُّدُورِ وَهُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ لِّلْمُؤْمِنِينَ
yāayyuhā l-nāsu qad jāatkum mawʿiẓatun min rabbikum washifāon limā fī l-ṣudūri wahudan waraḥmatun lil'mu'minīna
لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے
قُلْ بِفَضْلِ ٱللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِۦ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا۟ هُوَ خَيْرٌۭ مِّمَّا يَجْمَعُونَ
qul bifaḍli l-lahi wabiraḥmatihi fabidhālika falyafraḥū huwa khayrun mimmā yajmaʿūna
اے نبیؐ، کہو کہ“یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں"
قُلْ أَرَءَيْتُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ لَكُم مِّن رِّزْقٍۢ فَجَعَلْتُم مِّنْهُ حَرَامًۭا وَحَلَـٰلًۭا قُلْ ءَآللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ ۖ أَمْ عَلَى ٱللَّهِ تَفْتَرُونَ
qul ara-aytum mā anzala l-lahu lakum min riz'qin fajaʿaltum min'hu ḥarāman waḥalālan qul āllahu adhina lakum am ʿalā l-lahi taftarūna
اے نبی ؐ ، ان سے کہو”تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق1 اللہ نے تمہارے لیے اُتارا تھا اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھہرا لیا2“اِن سے پوچھو، اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی؟ یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟3
وَمَا ظَنُّ ٱلَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ
wamā ẓannu alladhīna yaftarūna ʿalā l-lahi l-kadhiba yawma l-qiyāmati inna l-laha ladhū faḍlin ʿalā l-nāsi walākinna aktharahum lā yashkurūna
جو لوگ اللہ پر یہ جھوٹا افترا باندھتے ہیں ان کا کیا گمان ہے کہ قیامت کے روز ان سے کیا معاملہ ہو گا؟ اللہ تو لوگوں پر مہربانی کی نظر رکھتا ہے مگر اکثر انسان ایسے ہیں جو شکر نہیں کرتے۔ 1
وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍۢ وَمَا تَتْلُوا۟ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍۢ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ ۚ وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِى ٱلسَّمَآءِ وَلَآ أَصْغَرَ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكْبَرَ إِلَّا فِى كِتَـٰبٍۢ مُّبِينٍ
wamā takūnu fī shanin wamā tatlū min'hu min qur'ānin walā taʿmalūna min ʿamalin illā kunnā ʿalaykum shuhūdan idh tufīḍūna fīhi wamā yaʿzubu ʿan rabbika min mith'qāli dharratin fī l-arḍi walā fī l-samāi walā aṣghara min dhālika walā akbara illā fī kitābin mubīnin
اے نبی ؐ ، تم جس حال میں بھی ہوتے ہو اور قرآن میں سے جو کچھ بھی سُناتے ہو، اور لوگو، تم بھی جو کچھ کرتے ہو اس سب کے دوران میں ہم تم کو دیکھتے رہتے ہیں۔ کوئی ذرہ برابر چیز آسمان اور زمین میں ایسی نہیں ہے، نہ چھوٹی نہ بڑی، جو تیرے ربّ کی نظر سے پوشیدہ ہو اور ایک صاف دفتر میں درج نہ ہو۔1
أَلَآ إِنَّ أَوْلِيَآءَ ٱللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
alā inna awliyāa l-lahi lā khawfun ʿalayhim walā hum yaḥzanūna
سُنو! جو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے، ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے
ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ
alladhīna āmanū wakānū yattaqūna
جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا ،
لَهُمُ ٱلْبُشْرَىٰ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِى ٱلْـَٔاخِرَةِ ۚ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَـٰتِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ
lahumu l-bush'rā fī l-ḥayati l-dun'yā wafī l-ākhirati lā tabdīla likalimāti l-lahi dhālika huwa l-fawzu l-ʿaẓīmu
دُنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں ان کے لیے بشارت ہی بشارت ہے اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے
وَلَا يَحْزُنكَ قَوْلُهُمْ ۘ إِنَّ ٱلْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا ۚ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
walā yaḥzunka qawluhum inna l-ʿizata lillahi jamīʿan huwa l-samīʿu l-ʿalīmu
اے نبیؐ، جو باتیں یہ لوگ تجھ پر بناتے ہیں وہ تجھے رنجیدہ نہ کریں، عزّت ساری کی ساری خدا کے اختیار میں ہے، اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَمَا يَتَّبِعُ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ شُرَكَآءَ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ
alā inna lillahi man fī l-samāwāti waman fī l-arḍi wamā yattabiʿu alladhīna yadʿūna min dūni l-lahi shurakāa in yattabiʿūna illā l-ẓana wa-in hum illā yakhruṣūna
آگاہ رہو! آسمان کے بسنے والے ہوں یا زمین کے، سب کے سب اللہ کے مملوک ہیں اور جو لوگ اللہ کے سوا کچھ (اپنے خودساختہ) شریکوں کو پکار رہے ہیں وہ نِرے وہم و گمان کے پیرو ہیں اور محض قیاس آرائیاں کرتے ہیں
هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيْلَ لِتَسْكُنُوا۟ فِيهِ وَٱلنَّهَارَ مُبْصِرًا ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَسْمَعُونَ
huwa alladhī jaʿala lakumu al-layla litaskunū fīhi wal-nahāra mub'ṣiran inna fī dhālika laāyātin liqawmin yasmaʿūna
وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا۔ اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ( کُھلے کانوں سے پیغمبر کی دعوت کو) سُنتے ہیں۔1
قَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَدًۭا ۗ سُبْحَـٰنَهُۥ ۖ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ۖ لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ إِنْ عِندَكُم مِّن سُلْطَـٰنٍۭ بِهَـٰذَآ ۚ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
qālū ittakhadha l-lahu waladan sub'ḥānahu huwa l-ghaniyu lahu mā fī l-samāwāti wamā fī l-arḍi in ʿindakum min sul'ṭānin bihādhā ataqūlūna ʿalā l-lahi mā lā taʿlamūna
لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایاہے1، سُبحان اللہ!2وہ تو بے نیاز ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اُس کی مِلک ہے۔3 تمہارے پاس اِس قول کے لیے آخر دلیل کیا ہے؟ کیا تم اللہ کے متعلق وہ باتیں کہتے ہو جو تمہارے علم میں نہیں ہیں؟
قُلْ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ
qul inna alladhīna yaftarūna ʿalā l-lahi l-kadhiba lā yuf'liḥūna
اے محمدؐ، کہہ دو کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹے افترا باندھتے ہیں وہ ہرگز فلاح نہیں پا سکتے
مَتَـٰعٌۭ فِى ٱلدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ ٱلْعَذَابَ ٱلشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ
matāʿun fī l-dun'yā thumma ilaynā marjiʿuhum thumma nudhīquhumu l-ʿadhāba l-shadīda bimā kānū yakfurūna
دنیا کی چند روزہ زندگی میں مزے کر لیں، پھر ہماری طرف اُن کو پلٹنا ہے پھر ہم اس کفر کے بدلے جس کا ارتکاب وہ کر رہے ہیں ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے
۞ وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦ يَـٰقَوْمِ إِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُم مَّقَامِى وَتَذْكِيرِى بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ فَعَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْتُ فَأَجْمِعُوٓا۟ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةًۭ ثُمَّ ٱقْضُوٓا۟ إِلَىَّ وَلَا تُنظِرُونِ
wa-ut'lu ʿalayhim naba-a nūḥin idh qāla liqawmihi yāqawmi in kāna kabura ʿalaykum maqāmī watadhkīrī biāyāti l-lahi faʿalā l-lahi tawakkaltu fa-ajmiʿū amrakum washurakāakum thumma lā yakun amrukum ʿalaykum ghummatan thumma iq'ḍū ilayya walā tunẓirūni
اِن کو نوحؑ 1کا قصہ سُناوٴ، اُس وقت کا قصہ جب اُس نے اپنی قوم سے کہا تھا ”اے برادرانِ قوم، اگر میرا تمہارے درمیان رہنا اور اللہ کی آیات سُنا سُنا کر تمہیں غفلت سے بیدار کرنا تمہارے لیے ناقابلِ برداشت ہو گیا ہے تو میرا بھروسہ اللہ پر ہے، تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ساتھ لے کر ایک متفقہ فیصلہ کر لو اور جو منصُوبہ تمہارے پیشِ نظر ہو اس کے خوب سوچ سمجھ لو تاکہ اس کا کوئی پہلو تمہاری نگاہ سے پوشیدہ نہ رہے، پھر میرے خلاف اس کو عمل میں لے آوٴ اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو۔2
فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ
fa-in tawallaytum famā sa-altukum min ajrin in ajriya illā ʿalā l-lahi wa-umir'tu an akūna mina l-mus'limīna
تم نے میری نصیحت سے منہ موڑا (تو میرا کیا نقصان کیا) میں تم سے کسی اجر کا طلب گار نہ تھا، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ (خواہ کوئی مانے یا نہ مانے) میں خود مسلم بن کر رہوں"
فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيْنَـٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِى ٱلْفُلْكِ وَجَعَلْنَـٰهُمْ خَلَـٰٓئِفَ وَأَغْرَقْنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلْمُنذَرِينَ
fakadhabūhu fanajjaynāhu waman maʿahu fī l-ful'ki wajaʿalnāhum khalāifa wa-aghraqnā alladhīna kadhabū biāyātinā fa-unẓur kayfa kāna ʿāqibatu l-mundharīna
انہوں نے اسے جھٹلایا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اسے اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے، بچا لیا اور انہی کو زمین میں جانشین بنایا اور ان سب لوگوں کو غرق کر دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا پس دیکھ لو کہ جنہیں متنبہ کیا گیا تھا (اور پھر بھی انہوں نے مان کر نہ دیا) اُن کا کیا انجام ہوا
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَآءُوهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ بِمَا كَذَّبُوا۟ بِهِۦ مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ نَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلْمُعْتَدِينَ
thumma baʿathnā min baʿdihi rusulan ilā qawmihim fajāūhum bil-bayināti famā kānū liyu'minū bimā kadhabū bihi min qablu kadhālika naṭbaʿu ʿalā qulūbi l-muʿ'tadīna
پھر نوح ؑ کے بعد ہم نے مختلف پیغمبروں کو اُن کی قوموں کی طرف بھیجا اور وہ اُن کے پاس کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو اُنہوں نے پہلے جُھٹلا دیا تھا اسے پھر مان کر نہ دیا۔ اِس طرح ہم حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر ٹَھپّہ لگا دیتے ہیں۔1
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَـٰرُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ بِـَٔايَـٰتِنَا فَٱسْتَكْبَرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوْمًۭا مُّجْرِمِينَ
thumma baʿathnā min baʿdihim mūsā wahārūna ilā fir'ʿawna wamala-ihi biāyātinā fa-is'takbarū wakānū qawman muj'rimīna
1پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا، مگر انہوں نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا 2 اور وہ مجرم لوگ تھے
فَلَمَّا جَآءَهُمُ ٱلْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوٓا۟ إِنَّ هَـٰذَا لَسِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ
falammā jāahumu l-ḥaqu min ʿindinā qālū inna hādhā lasiḥ'run mubīnun
پس جب ہمارے پاس سے حق اُن کے سامنے آیا تو اُنہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کُھلا جادُو ہے۔1
قَالَ مُوسَىٰٓ أَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ ۖ أَسِحْرٌ هَـٰذَا وَلَا يُفْلِحُ ٱلسَّـٰحِرُونَ
qāla mūsā ataqūlūna lil'ḥaqqi lammā jāakum asiḥ'run hādhā walā yuf'liḥu l-sāḥirūna
موسیٰ ؑ نے کہا: ”تم حق کو یہ کہتے ہو جب کہ وہ تمہارے سامنے آگیا؟ کیا یہ جادُو ہے؟ حالانکہ حالانکہ جادُو گر فلاح نہیں پایا کرتے۔“1
قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا ٱلْكِبْرِيَآءُ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ
qālū aji'tanā litalfitanā ʿammā wajadnā ʿalayhi ābāanā watakūna lakumā l-kib'riyāu fī l-arḍi wamā naḥnu lakumā bimu'minīna
اُنہوں نے جواب دیا”کیا تُو اِس لیے آیا ہے کہ ہمیں اُس طریقے سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور زمین میں بڑائی تُم دونوں کی قائم ہو جائے؟1 تمہاری بات تو ہم ماننے والے نہیں ہیں۔“
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ٱئْتُونِى بِكُلِّ سَـٰحِرٍ عَلِيمٍۢ
waqāla fir'ʿawnu i'tūnī bikulli sāḥirin ʿalīmin
اور فرعون نے (اپنے آدمیوں سے) کہا کہ“ہر ماہر فن جادوگر کو میرے پاس حاضر کرو "
فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلْقُوا۟ مَآ أَنتُم مُّلْقُونَ
falammā jāa l-saḥaratu qāla lahum mūsā alqū mā antum mul'qūna
جب جادو گر آ گئے تو موسیٰؑ نے ان سے کہا“جو کچھ تمہیں پھینکنا ہے پھینکو"
فَلَمَّآ أَلْقَوْا۟ قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُم بِهِ ٱلسِّحْرُ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ سَيُبْطِلُهُۥٓ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ ٱلْمُفْسِدِينَ
falammā alqaw qāla mūsā mā ji'tum bihi l-siḥ'ru inna l-laha sayub'ṭiluhu inna l-laha lā yuṣ'liḥu ʿamala l-muf'sidīna
پھر جب اُنہوں نے اپنے اَنچھر پھینک دیے تو موسیٰ ؑ نے کہا”یہ جو کچھ تم نے پھینکا ہے یہ جادُو ہے1، اللہ ابھی اسے باطل کیے دیتا ہے، مفسدوں کے کام کو اللہ سُدھرنے نہیں دیتا
وَيُحِقُّ ٱللَّهُ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَـٰتِهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُجْرِمُونَ
wayuḥiqqu l-lahu l-ḥaqa bikalimātihi walaw kariha l-muj'rimūna
اور اللہ اپنے فرمانوں سے حق کو حق کر دکھاتا ہے، خواہ مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو"
فَمَآ ءَامَنَ لِمُوسَىٰٓ إِلَّا ذُرِّيَّةٌۭ مِّن قَوْمِهِۦ عَلَىٰ خَوْفٍۢ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِمْ أَن يَفْتِنَهُمْ ۚ وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلْمُسْرِفِينَ
famā āmana limūsā illā dhurriyyatun min qawmihi ʿalā khawfin min fir'ʿawna wamala-ihim an yaftinahum wa-inna fir'ʿawna laʿālin fī l-arḍi wa-innahu lamina l-mus'rifīna
(پھر دیکھو کہ) موسیٰ ؑ کو اِس قوم میں سے چند نوجوانوں1 کے سوا کسی نے نہ مانا2 ، فرعون کے ڈر سے اور خود اپنی قوم کے سربرآوردہ لوگوں کے ڈر سے ( جنہیں خوف تھا کہ) فرعون اُن کو عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اور واقعہ یہ ہے کہ فرعون زمین میں غلبہ رکھتا تھا اور وہ اُن لوگوں میں سے تھا جو کسی حد پر رُکتے نہیں ہیں۔3
وَقَالَ مُوسَىٰ يَـٰقَوْمِ إِن كُنتُمْ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوٓا۟ إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ
waqāla mūsā yāqawmi in kuntum āmantum bil-lahi faʿalayhi tawakkalū in kuntum mus'limīna
موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ ”لوگو، اگر تم واقعی اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اُس پر بھروسہ کرو اگر مسلمان ہو۔1
فَقَالُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةًۭ لِّلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
faqālū ʿalā l-lahi tawakkalnā rabbanā lā tajʿalnā fit'natan lil'qawmi l-ẓālimīna
اُنہوں نے جواب دیا”1 ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا ، اے ہمارے ربّ، ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا2
وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلْكَـٰفِرِينَ
wanajjinā biraḥmatika mina l-qawmi l-kāfirīna
اور اپنی رحمت سے ہم کو کافروں سے نجات دے"
وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰ وَأَخِيهِ أَن تَبَوَّءَا لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوتًۭا وَٱجْعَلُوا۟ بُيُوتَكُمْ قِبْلَةًۭ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ
wa-awḥaynā ilā mūsā wa-akhīhi an tabawwaā liqawmikumā bimiṣ'ra buyūtan wa-ij'ʿalū buyūtakum qib'latan wa-aqīmū l-ṣalata wabashiri l-mu'minīna
اور ہم نے موسیٰ ؑ اور اس کے بھائی کو اشارہ کیا کہ ”مصر میں چند مکان اپنی قوم کے لیے مہیّا کرو اور اپنے ان مکانوں کو قبلہ ٹھہرا لواور نماز قائم کرو 1 اور اہلِ ایمان کو بشارت دے دو۔“2
وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَآ إِنَّكَ ءَاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُۥ زِينَةًۭ وَأَمْوَٰلًۭا فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا ٱطْمِسْ عَلَىٰٓ أَمْوَٰلِهِمْ وَٱشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا۟ حَتَّىٰ يَرَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَلِيمَ
waqāla mūsā rabbanā innaka ātayta fir'ʿawna wamala-ahu zīnatan wa-amwālan fī l-ḥayati l-dun'yā rabbanā liyuḍillū ʿan sabīlika rabbanā iṭ'mis ʿalā amwālihim wa-ush'dud ʿalā qulūbihim falā yu'minū ḥattā yarawū l-ʿadhāba l-alīma
موسیٰؑ نے دعا 1کی”اے ہمارے ربّ ، تُو نے فرعون اور اُس کے سرداروں کو دُنیا کی زندگی میں زینت2 اور اموال3 سے نواز رکھا ہے۔ اے ربّ ، کیا یہ اِس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بھٹکائیں؟ اے ربّ ، ان کے مال غارت کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی مُہر کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔“4
قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَٱسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَآنِّ سَبِيلَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
qāla qad ujībat daʿwatukumā fa-is'taqīmā walā tattabiʿānni sabīla alladhīna lā yaʿlamūna
اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا ”تم دونوں کی دعا قبول کی گئی۔ ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کے طریقے کی ہرگز پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔“1
۞ وَجَـٰوَزْنَا بِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُۥ بَغْيًۭا وَعَدْوًا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَدْرَكَهُ ٱلْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا ٱلَّذِىٓ ءَامَنَتْ بِهِۦ بَنُوٓا۟ إِسْرَٰٓءِيلَ وَأَنَا۠ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ
wajāwaznā bibanī is'rāīla l-baḥra fa-atbaʿahum fir'ʿawnu wajunūduhu baghyan waʿadwan ḥattā idhā adrakahu l-gharaqu qāla āmantu annahu lā ilāha illā alladhī āmanat bihi banū is'rāīla wa-anā mina l-mus'limīna
اور ہم بنی اسرائیل کو سمندر سے گُزار لے گئے۔ پھر فرعون اور اُس کے لشکر ظلم اور زیادتی کی غرض سے اُن کے پیچھے چلے۔۔۔۔ حتٰی کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اُٹھا ”میں نے مان لیا کہ خدا وند ِ حقیقی اُس کے سوا کوئی نہیں ہے جِس پر بنی اسرائیل ایمان لائے، اور میں بھی سرِاطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں۔ 1
ءَآلْـَٔـٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ ٱلْمُفْسِدِينَ
āl'āna waqad ʿaṣayta qablu wakunta mina l-muf'sidīna
(جواب دیا گیا)“اب ایمان لاتا ہے! حالانکہ اِس سے پہلے تک تو نافرمانی کرتا رہا اور فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا
فَٱلْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ ءَايَةًۭ ۚ وَإِنَّ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلنَّاسِ عَنْ ءَايَـٰتِنَا لَغَـٰفِلُونَ
fal-yawma nunajjīka bibadanika litakūna liman khalfaka āyatan wa-inna kathīran mina l-nāsi ʿan āyātinā laghāfilūna
اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تا کہ تُو بعد کی نسلوں کے لیے نشانِ عبرت بنے1 اگرچہ بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں۔“2
وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٍۢ وَرَزَقْنَـٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَـٰتِ فَمَا ٱخْتَلَفُوا۟ حَتَّىٰ جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
walaqad bawwanā banī is'rāīla mubawwa-a ṣid'qin warazaqnāhum mina l-ṭayibāti famā ikh'talafū ḥattā jāahumu l-ʿil'mu inna rabbaka yaqḍī baynahum yawma l-qiyāmati fīmā kānū fīhi yakhtalifūna
ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا1 اور نہایت عمدہ وسائل ِ زندگی انہیں عطا کیے۔ پھر اُنہوں نے بہم اختلاف نہیں کیا مگر اُس وقت جب کہ علم اُن کے پاس آچکا تھا۔2 یقیناً تیرا ربّ قیامت کے روز اُن کے درمیان اُس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس میں وہ اختلاف کر تے رہے ہیں
فَإِن كُنتَ فِى شَكٍّۢ مِّمَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ فَسْـَٔلِ ٱلَّذِينَ يَقْرَءُونَ ٱلْكِتَـٰبَ مِن قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَآءَكَ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ
fa-in kunta fī shakkin mimmā anzalnā ilayka fasali alladhīna yaqraūna l-kitāba min qablika laqad jāaka l-ḥaqu min rabbika falā takūnanna mina l-mum'tarīna
اب اگر تجھے اُس ہدایت کی طرف سے کچھ بھی شک ہو جو ہم نے تجھ پر نازل کی ہے تو اُن لوگوں سے پوچھ لے جو پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں فی الواقع یہ تیرے پاس حق ہی آیا ہے تیرے رب کی طرف سے، لہٰذا تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو
وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ فَتَكُونَ مِنَ ٱلْخَـٰسِرِينَ
walā takūnanna mina alladhīna kadhabū biāyāti l-lahi fatakūna mina l-khāsirīna
اور ان لوگوں میں شامل نہ ہو جنہوں نے اللہ کی آیات کو جُھٹلایا ہے، ورنہ تُو نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہو گا۔1
إِنَّ ٱلَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ
inna alladhīna ḥaqqat ʿalayhim kalimatu rabbika lā yu'minūna
حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں پر تیرے ربّ کا قول راست آگیا 1ہے' وہ ایمان نہیں لانے کے
وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءَايَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَلِيمَ
walaw jāathum kullu āyatin ḥattā yarawū l-ʿadhāba l-alīma
ان کے سامنے خواہ کوئی نشانی آجائے جب تک کہ دردناک عذاب سامنے آتا نہ دیکھ لیں
فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ ءَامَنَتْ فَنَفَعَهَآ إِيمَـٰنُهَآ إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّآ ءَامَنُوا۟ كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ ٱلْخِزْىِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَمَتَّعْنَـٰهُمْ إِلَىٰ حِينٍۢ
falawlā kānat qaryatun āmanat fanafaʿahā īmānuhā illā qawma yūnusa lammā āmanū kashafnā ʿanhum ʿadhāba l-khiz'yi fī l-ḥayati l-dun'yā wamattaʿnāhum ilā ḥīnin
پھر کیا ایسی کوئی مثال ہے کہ ایک بستی عذاب دیکھ کر ایمان لائی ہو اور اُس کا ایمان اس کے لیے نفع بخش ثابت ہوا ہو؟ یونسؑ کی قوم کے سوا1 (اِس کی کوئی نظیر نہیں)۔ وہ قوم جب ایمان لے آئی تھی تو البتہ ہم نے اُس پر سے دُنیا کی زندگی میں رُسوائی کا عذاب ٹال دیا تھا2 اور اُس کو ایک مدّت تک زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دے دیاتھا۔3
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَـَٔامَنَ مَن فِى ٱلْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا ۚ أَفَأَنتَ تُكْرِهُ ٱلنَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا۟ مُؤْمِنِينَ
walaw shāa rabbuka laāmana man fī l-arḍi kulluhum jamīʿan afa-anta tuk'rihu l-nāsa ḥattā yakūnū mu'minīna
اگر تیرے ربّ کی مشیّت یہ ہوتی (کہ زمین میں سب مومن و فرمانبردار ہی ہوں)تو سارے اہلِ زمین ایمان لے آئے ہوتے۔ 1پھر کیا تُو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہو جائیں؟2
وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَيَجْعَلُ ٱلرِّجْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ
wamā kāna linafsin an tu'mina illā bi-idh'ni l-lahi wayajʿalu l-rij'sa ʿalā alladhīna lā yaʿqilūna
کوئی متنفس اللہ کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لاسکتا،1 اور اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ ان پر گندگی ڈال دیتا ہے۔ 2
قُلِ ٱنظُرُوا۟ مَاذَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَمَا تُغْنِى ٱلْـَٔايَـٰتُ وَٱلنُّذُرُ عَن قَوْمٍۢ لَّا يُؤْمِنُونَ
quli unẓurū mādhā fī l-samāwāti wal-arḍi wamā tugh'nī l-āyātu wal-nudhuru ʿan qawmin lā yu'minūna
اِن سے کہو”زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اُسے آنکھیں کھول کر دیکھو۔“ اور جو لوگ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے اُن کے لیے نشانیاں اور تنبیہیں آخر کیا مُفید ہو سکتی ہیں۔1
فَهَلْ يَنتَظِرُونَ إِلَّا مِثْلَ أَيَّامِ ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلِهِمْ ۚ قُلْ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ
fahal yantaẓirūna illā mith'la ayyāmi alladhīna khalaw min qablihim qul fa-intaẓirū innī maʿakum mina l-muntaẓirīna
اب یہ لوگ اِس کے سوا اور کس چیز کے منتظر ہیں کہ وہی برے دن دیکھیں جو اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ دیکھ چکے ہیں؟ اِن سے کہو“اچھا، انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں"
ثُمَّ نُنَجِّى رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۚ كَذَٰلِكَ حَقًّا عَلَيْنَا نُنجِ ٱلْمُؤْمِنِينَ
thumma nunajjī rusulanā wa-alladhīna āmanū kadhālika ḥaqqan ʿalaynā nunji l-mu'minīna
پھر (جب ایسا وقت آتا ہے تو) ہم اپنے رسولوں کو اور اُن لوگوں کو بچا لیا کرتے ہیں جو ایمان لائے ہوں ہمارا یہی طریقہ ہے ہم پر یہ حق ہے کہ مومنوں کو بچا لیں
قُلْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِن كُنتُمْ فِى شَكٍّۢ مِّن دِينِى فَلَآ أَعْبُدُ ٱلَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَـٰكِنْ أَعْبُدُ ٱللَّهَ ٱلَّذِى يَتَوَفَّىٰكُمْ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ
qul yāayyuhā l-nāsu in kuntum fī shakkin min dīnī falā aʿbudu alladhīna taʿbudūna min dūni l-lahi walākin aʿbudu l-laha alladhī yatawaffākum wa-umir'tu an akūna mina l-mu'minīna
اے نبیؐ !1 کہہ دو کہ لوگو، ”اگر تم ابھی تک میرے دین کے متعلق کسی شک میں ہو تو سُن لو کہ تم اللہ کے سوا جن کی بندگی کرتے ہو میں اُن کی بندگی نہیں کرتا بلکہ صرف اُسی خدا کر بندگی کرتا ہوں جس کے قبضے میں تمہاری موت ہے۔2 مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں
وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًۭا وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ
wa-an aqim wajhaka lilddīni ḥanīfan walā takūnanna mina l-mush'rikīna
اور مجھ سے فرمایا گیا ہےکہ تُویکسُو ہو کر اپنے آپ کو ٹھیک ٹھیک اس دین پر قائم کر دے1 ، اور ہرگز ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہو۔2
وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۖ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًۭا مِّنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
walā tadʿu min dūni l-lahi mā lā yanfaʿuka walā yaḍurruka fa-in faʿalta fa-innaka idhan mina l-ẓālimīna
اور اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکار جو تجھے نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے نہ نقصان اگر تو ایسا کرے گا تو ظالموں میں سے ہوگا
وَإِن يَمْسَسْكَ ٱللَّهُ بِضُرٍّۢ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍۢ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهِۦ ۚ يُصِيبُ بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
wa-in yamsaska l-lahu biḍurrin falā kāshifa lahu illā huwa wa-in yurid'ka bikhayrin falā rādda lifaḍlihi yuṣību bihi man yashāu min ʿibādihi wahuwa l-ghafūru l-raḥīmu
اگر اللہ تجھے کسی مصیبت میں ڈالے تو خود اس کے سوا کوئی نہیں جو اس مصیبت کو ٹال دے، اور اگر وہ تیرے حق میں کسی بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو پھیرنے والا بھی کوئی نہیں ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
قُلْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَنِ ٱهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۖ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍۢ
qul yāayyuhā l-nāsu qad jāakumu l-ḥaqu min rabbikum famani ih'tadā fa-innamā yahtadī linafsihi waman ḍalla fa-innamā yaḍillu ʿalayhā wamā anā ʿalaykum biwakīlin
اے محمدؐ، کہہ دو کہ“لوگو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آ چکا ہے اب جو سیدھی راہ اختیار کرے اس کی راست روی اسی کے لیے مفید ہے، اور جو گمراہ رہے اس کی گمراہی اسی کے لیے تباہ کن ہے اور میں تمہارے اوپر کوئی حوالہ دار نہیں ہوں"
وَٱتَّبِعْ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيْكَ وَٱصْبِرْ حَتَّىٰ يَحْكُمَ ٱللَّهُ ۚ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَـٰكِمِينَ
wa-ittabiʿ mā yūḥā ilayka wa-iṣ'bir ḥattā yaḥkuma l-lahu wahuwa khayru l-ḥākimīna
اور اے نبیؐ، تم اس ہدایت کی پیروی کیے جاؤ جو تمہاری طرف بذریعہ وحی بھیجی جا رہی ہے، اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے، اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے