هود
Hud
Hud
الٓر ۚ كِتَـٰبٌ أُحْكِمَتْ ءَايَـٰتُهُۥ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ
alif-lam-ra kitābun uḥ'kimat āyātuhu thumma fuṣṣilat min ladun ḥakīmin khabīrin
ا ل ر۔ فرمان ہے1 ، جس کی آیتیں پُختہ اور مفصّل ارشا د ہوئی ہیں2، ایک دانا اور با خبر ہستی کی طرف سے
أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ ۚ إِنَّنِى لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌۭ وَبَشِيرٌۭ
allā taʿbudū illā l-laha innanī lakum min'hu nadhīrun wabashīrun
کہ تم بندگی نہ کرو مگر صرف اللہ کی میں اُس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں اور بشارت دینے والا بھی
وَأَنِ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَـٰعًا حَسَنًا إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِى فَضْلٍۢ فَضْلَهُۥ ۖ وَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍۢ كَبِيرٍ
wa-ani is'taghfirū rabbakum thumma tūbū ilayhi yumattiʿ'kum matāʿan ḥasanan ilā ajalin musamman wayu'ti kulla dhī faḍlin faḍlahu wa-in tawallaw fa-innī akhāfu ʿalaykum ʿadhāba yawmin kabīrin
اور یہ کہ تم اپنے ربّ سے معافی چاہو اور اُس کی طرف پلٹ آوٴ تو وہ ایک مدّت ِ خاص تک تم کو اچھا سامانِ زندگی دے گا 1اور ہر صاحبِ فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا۔2 لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں
إِلَى ٱللَّهِ مَرْجِعُكُمْ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ
ilā l-lahi marjiʿukum wahuwa ʿalā kulli shayin qadīrun
تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے
أَلَآ إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا۟ مِنْهُ ۚ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
alā innahum yathnūna ṣudūrahum liyastakhfū min'hu alā ḥīna yastaghshūna thiyābahum yaʿlamu mā yusirrūna wamā yuʿ'linūna innahu ʿalīmun bidhāti l-ṣudūri
دیکھو! یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ اُس سے چھُپ جائیں۔1 خبردار! جب کہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں ، اللہ ان کے چھُپے کو بھی جانتا ہےاور کُھلے کو بھی ، وہ تو اُن بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں۔
۞ وَمَا مِن دَآبَّةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّۭ فِى كِتَـٰبٍۢ مُّبِينٍۢ
wamā min dābbatin fī l-arḍi illā ʿalā l-lahi riz'quhā wayaʿlamu mus'taqarrahā wamus'tawdaʿahā kullun fī kitābin mubīnin
زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمّے نہ ہواور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ کہاں وہ رہتا ہےاور کہاں وہ سونپا جاتا ہے،1 سب کچھ ایک صاف دفتر میں درج ہے
وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ وَكَانَ عَرْشُهُۥ عَلَى ٱلْمَآءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًۭا ۗ وَلَئِن قُلْتَ إِنَّكُم مَّبْعُوثُونَ مِنۢ بَعْدِ ٱلْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ
wahuwa alladhī khalaqa l-samāwāti wal-arḍa fī sittati ayyāmin wakāna ʿarshuhu ʿalā l-māi liyabluwakum ayyukum aḥsanu ʿamalan wala-in qul'ta innakum mabʿūthūna min baʿdi l-mawti layaqūlanna alladhīna kafarū in hādhā illā siḥ'run mubīnun
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔۔۔۔جبکہ اس سے پہلے اُس کا عرش پانی پر تھا1۔۔۔۔۔۔ تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔2 اب اگر اے محمد ؐ ، تم کہتے ہو کہ لوگو، مرنے کے بعد تم دوبارہ اُٹھائے جاوٴ گے تو منکرین فوراً بول اُٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگری ہے۔3
وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ ٱلْعَذَابَ إِلَىٰٓ أُمَّةٍۢ مَّعْدُودَةٍۢ لَّيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُۥٓ ۗ أَلَا يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ
wala-in akharnā ʿanhumu l-ʿadhāba ilā ummatin maʿdūdatin layaqūlunna mā yaḥbisuhu alā yawma yatīhim laysa maṣrūfan ʿanhum waḥāqa bihim mā kānū bihi yastahziūna
اور اگر ہم ایک خاص مدت تک ان کی سزا کو ٹالتے ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ آخر کس چیز نے اُسے روک رکھا ہے؟ سنو! جس روز اُس سزا کا وقت آگیا تو وہ کسی کے پھیرے نہ پھر سکے گا اور وہی چیز ان کو آ گھیرے گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں
وَلَئِنْ أَذَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ مِنَّا رَحْمَةًۭ ثُمَّ نَزَعْنَـٰهَا مِنْهُ إِنَّهُۥ لَيَـُٔوسٌۭ كَفُورٌۭ
wala-in adhaqnā l-insāna minnā raḥmatan thumma nazaʿnāhā min'hu innahu layaūsun kafūrun
اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے
وَلَئِنْ أَذَقْنَـٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ ٱلسَّيِّـَٔاتُ عَنِّىٓ ۚ إِنَّهُۥ لَفَرِحٌۭ فَخُورٌ
wala-in adhaqnāhu naʿmāa baʿda ḍarrāa massathu layaqūlanna dhahaba l-sayiātu ʿannī innahu lafariḥun fakhūrun
اور اگر اُس مصیبت کے بعد جو اُس پر آئی تھی ہم اُسے نعمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے میرے تو سارے دِلَدّرپار ہو گئے، پھر وہ پھُولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے۔1
إِلَّا ٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَأَجْرٌۭ كَبِيرٌۭ
illā alladhīna ṣabarū waʿamilū l-ṣāliḥāti ulāika lahum maghfiratun wa-ajrun kabīrun
اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے1 اور نیکوکار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔ 2
فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيْكَ وَضَآئِقٌۢ بِهِۦ صَدْرُكَ أَن يَقُولُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ كَنزٌ أَوْ جَآءَ مَعَهُۥ مَلَكٌ ۚ إِنَّمَآ أَنتَ نَذِيرٌۭ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ وَكِيلٌ
falaʿallaka tārikun baʿḍa mā yūḥā ilayka waḍāiqun bihi ṣadruka an yaqūlū lawlā unzila ʿalayhi kanzun aw jāa maʿahu malakun innamā anta nadhīrun wal-lahu ʿalā kulli shayin wakīlun
تو اے پیغمبر ؐ ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اُن چیزوں میں سے کسی چیز کو (بیان کرنے سے ) چھوڑ دو جو تمہاری طرف وحی کی جا رہی ہیں۔ اور اس بات پر دل تنگ ہو کہ وہ کہیں گے ”اسِ شخص پر کوئی خزانہ کیوں نہ اُتارا گیا“ یا یہ کہ ”اِس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا۔“ تم تو محض خبردار کرنے والے ہو، آگے ہر چیز کا حوالہ دار اللہ ہے۔ 1
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا۟ بِعَشْرِ سُوَرٍۢ مِّثْلِهِۦ مُفْتَرَيَـٰتٍۢ وَٱدْعُوا۟ مَنِ ٱسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ
am yaqūlūna if'tarāhu qul fatū biʿashri suwarin mith'lihi muf'tarayātin wa-id'ʿū mani is'taṭaʿtum min dūni l-lahi in kuntum ṣādiqīna
کیا یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے یہ کتاب خود گھڑ لی ہے؟ کہو، "اچھا یہ بات ہے تو اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں تم بنا لاؤ اور اللہ کے سوا اور جو جو (تمہارے معبود) ہیں اُن کو مدد کے لیے بلا سکتے ہو تو بلا لو اگر تم (انہیں معبود سمجھنے میں) سچے ہو
فَإِلَّمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَكُمْ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَآ أُنزِلَ بِعِلْمِ ٱللَّهِ وَأَن لَّآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ
fa-illam yastajībū lakum fa-iʿ'lamū annamā unzila biʿil'mi l-lahi wa-an lā ilāha illā huwa fahal antum mus'limūna
اب اگر وہ(تمہارے معبود ) تمہاری مدد کو نہیں پہنچتے تو جان لو کہ یہ اللہ کے علم سے نازل ہوئی ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے۔ پھر کیا تم ( اِس امرِ حق کے آگے ) سرِ تسلیم خم کرتے ہو؟“1
مَن كَانَ يُرِيدُ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَـٰلَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ
man kāna yurīdu l-ḥayata l-dun'yā wazīnatahā nuwaffi ilayhim aʿmālahum fīhā wahum fīhā lā yub'khasūna
جو لوگ بس اِسی دُنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں1 اُن کی کار گزاری کا سارا پھل ہم یہیں اُن کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی
أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ إِلَّا ٱلنَّارُ ۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا۟ فِيهَا وَبَـٰطِلٌۭ مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
ulāika alladhīna laysa lahum fī l-ākhirati illā l-nāru waḥabiṭa mā ṣanaʿū fīhā wabāṭilun mā kānū yaʿmalūna
مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔1 ( وہاں معلوم ہو جائے گا کہ) جو کچھ اِنہوں نے دُنیا میں بنایا وہ سب ملیا میٹ ہو گیا اور اب ان کا سارا کِیا دھرا محض باطل ہے
أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّهِۦ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌۭ مِّنْهُ وَمِن قَبْلِهِۦ كِتَـٰبُ مُوسَىٰٓ إِمَامًۭا وَرَحْمَةً ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِهِۦ مِنَ ٱلْأَحْزَابِ فَٱلنَّارُ مَوْعِدُهُۥ ۚ فَلَا تَكُ فِى مِرْيَةٍۢ مِّنْهُ ۚ إِنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ
afaman kāna ʿalā bayyinatin min rabbihi wayatlūhu shāhidun min'hu wamin qablihi kitābu mūsā imāman waraḥmatan ulāika yu'minūna bihi waman yakfur bihi mina l-aḥzābi fal-nāru mawʿiduhu falā taku fī mir'yatin min'hu innahu l-ḥaqu min rabbika walākinna akthara l-nāsi lā yu'minūna
پھر بھلا وہ شخص جو اپنے ربّ کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا1 ، اس کے بعد ایک گواہ بھی پروردگار کی طرف سے ( اِس شہادت کی تائید میں) آگیا، 2اور پہلے موسیٰ ؑ کی کتا ب رہنما اور رحمت کے طور پر آئی ہوئی بھی موجود تھی( کیا وہ بھی دُنیا پرستوں کی طرح اس سے انکار کر سکتا ہے؟) ایسے لوگ تو اس پر ایمان ہی لائیں گے 3۔ اور انسانی گروہوں میں سے جو کوئی اِ س کا انکار کرے تو اس کے لیے جس جگہ کا وعدہ ہے وہ دوزخ ہے۔ پس اے پیغمبر ؐ ، تم اس چیز کی طرف سے کسی شک میں نہ پڑنا، یہ حق ہے تمہارے ربّ کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَىٰ رَبِّهِمْ وَيَقُولُ ٱلْأَشْهَـٰدُ هَـٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ كَذَبُوا۟ عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ أَلَا لَعْنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّـٰلِمِينَ
waman aẓlamu mimmani if'tarā ʿalā l-lahi kadhiban ulāika yuʿ'raḍūna ʿalā rabbihim wayaqūlu l-ashhādu hāulāi alladhīna kadhabū ʿalā rabbihim alā laʿnatu l-lahi ʿalā l-ẓālimīna
اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے۔1 ایسے لوگ اپنے ربّ کے حضُور پیش ہونگے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے ربّ پر جھوٹ گھڑا تھا۔ سُنو! خُدا کی لعنت ہے ظالموں پر2
ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًۭا وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ كَـٰفِرُونَ
alladhīna yaṣuddūna ʿan sabīli l-lahi wayabghūnahā ʿiwajan wahum bil-ākhirati hum kāfirūna
اُن ظالموں پر1 جو خُدا کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں، اُس کے راستے کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں2 اور آخرت کا انکار کرتے ہیں۔۔۔۔3
أُو۟لَـٰٓئِكَ لَمْ يَكُونُوا۟ مُعْجِزِينَ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كَانَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ ۘ يُضَـٰعَفُ لَهُمُ ٱلْعَذَابُ ۚ مَا كَانُوا۟ يَسْتَطِيعُونَ ٱلسَّمْعَ وَمَا كَانُوا۟ يُبْصِرُونَ
ulāika lam yakūnū muʿ'jizīna fī l-arḍi wamā kāna lahum min dūni l-lahi min awliyāa yuḍāʿafu lahumu l-ʿadhābu mā kānū yastaṭīʿūna l-samʿa wamā kānū yub'ṣirūna
وہ زمین میں اللہ کو بے بس کرنے والے نہ تھے اور نہ اللہ کے مقابلے میں کوئی اُن کا حامی تھا۔ اُنہیں اب دوہرا عذاب دیا جائے گا۔ 1وہ نہ کسی کی سُن ہی سکتے تھے اور نہ خود ہی اُنہیں کچھ سُو جھتا تھا
أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ
ulāika alladhīna khasirū anfusahum waḍalla ʿanhum mā kānū yaftarūna
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خود گھاٹے میں ڈالا اور وہ سب کچھ اُن سے کھویا گیا جو اُنہوں نے گھڑ رکھا تھا۔1
لَا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ هُمُ ٱلْأَخْسَرُونَ
lā jarama annahum fī l-ākhirati humu l-akhsarūna
نا گزیر ہے کہ وہی آخرت میں سب سے بڑھ کر گھاٹے میں رہیں
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَأَخْبَتُوٓا۟ إِلَىٰ رَبِّهِمْ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ
inna alladhīna āmanū waʿamilū l-ṣāliḥāti wa-akhbatū ilā rabbihim ulāika aṣḥābu l-janati hum fīhā khālidūna
رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اپنے ربّ ہی کے ہو کر رہے ، تو یقیناً وہ جنتّی لوگ ہیں اور جنّت میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔1
۞ مَثَلُ ٱلْفَرِيقَيْنِ كَٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْأَصَمِّ وَٱلْبَصِيرِ وَٱلسَّمِيعِ ۚ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
mathalu l-farīqayni kal-aʿmā wal-aṣami wal-baṣīri wal-samīʿi hal yastawiyāni mathalan afalā tadhakkarūna
اِن دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی تو ہو اندھا بہرا اور دوسرا ہو دیکھنے اور سُننے والا، کیا یہ دونوں یکساں ہو سکتے ہیں؟1 کیا تم ( اِس مثال سے) کوئی سبق نہیں لیتے؟
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦٓ إِنِّى لَكُمْ نَذِيرٌۭ مُّبِينٌ
walaqad arsalnā nūḥan ilā qawmihi innī lakum nadhīrun mubīnun
(اور ایسے ہی حالات تھے جب) ہم نے نوح ؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا تھا۔1 (اُس نے کہا) ”میں تم لوگوں کو صاف صاف خبردار کرتا ہوں
أَن لَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ أَلِيمٍۢ
an lā taʿbudū illā l-laha innī akhāfu ʿalaykum ʿadhāba yawmin alīmin
کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا۔“1
فَقَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ مَا نَرَىٰكَ إِلَّا بَشَرًۭا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَىٰكَ ٱتَّبَعَكَ إِلَّا ٱلَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِىَ ٱلرَّأْىِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَـٰذِبِينَ
faqāla l-mala-u alladhīna kafarū min qawmihi mā narāka illā basharan mith'lanā wamā narāka ittabaʿaka illā alladhīna hum arādhilunā bādiya l-rayi wamā narā lakum ʿalaynā min faḍlin bal naẓunnukum kādhibīna
جواب میں اُس کی قوم کے سردار، جنہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کیا تھا، بولے ”ہمارے نظر میں تو تم اس کے سوا کچھ نہیں ہو کہ بس ایک انسان ہو ہم جیسے۔1 اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں سے بس اُن لوگوں نے جو ہمارے ہاں اراذل تھے بے سوچے سمجھے تمہاری پیروی اختیار کر لی ہے۔2 اور ہم کوئی چیز بھی ایسی نہیں پاتے جس میں تم لوگ ہم سے کچھ بڑھے ہوئے ہو3، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔“
قَالَ يَـٰقَوْمِ أَرَءَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّى وَءَاتَىٰنِى رَحْمَةًۭ مِّنْ عِندِهِۦ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنتُمْ لَهَا كَـٰرِهُونَ
qāla yāqawmi ara-aytum in kuntu ʿalā bayyinatin min rabbī waātānī raḥmatan min ʿindihi faʿummiyat ʿalaykum anul'zimukumūhā wa-antum lahā kārihūna
اس نے کہا ”اے برادرانِ قوم، ذرا سوچو تو سہی کہ اگر میں اپنے ربّ کی طرف سے ایک کھُلی شہادت پر قائم تھا اور پھر اس نے مجھ کو اپنی خاص رحمت سے بھی نوازدیا1 مگر وہ تم کو نظر نہ آئی تو آخر ہمارے پاس کیا ذریعہ ہے کہ تم ماننا نہ چاہو اور ہم زبردستی اس کو تمہارے سَر چپیک دیں؟
وَيَـٰقَوْمِ لَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ ۚ وَمَآ أَنَا۠ بِطَارِدِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ ۚ إِنَّهُم مُّلَـٰقُوا۟ رَبِّهِمْ وَلَـٰكِنِّىٓ أَرَىٰكُمْ قَوْمًۭا تَجْهَلُونَ
wayāqawmi lā asalukum ʿalayhi mālan in ajriya illā ʿalā l-lahi wamā anā biṭāridi alladhīna āmanū innahum mulāqū rabbihim walākinnī arākum qawman tajhalūna
اور اے برادرانِ قوم ، میں اِس کام پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا، 1 میرا اجر تو اللہ کے ذمّہ ہے۔ اور میں اُن لوگوں کودھکے دینے سے بھی رہا جنہوں نے میری بات مانی ہے، وہ آپ اپنے ربّ کے حضور جانے والے ہیں۔2 مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو
وَيَـٰقَوْمِ مَن يَنصُرُنِى مِنَ ٱللَّهِ إِن طَرَدتُّهُمْ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
wayāqawmi man yanṣurunī mina l-lahi in ṭaradttuhum afalā tadhakkarūna
اور اے قوم، اگر میں اِن لوگوں کو دھتکار دوں تو خدا کی پکڑ سے کون مجھے بچانے آئے گا؟ تم لوگوں کی سمجھ میں کیا اتنی بات بھی نہیں آتی؟
وَلَآ أَقُولُ لَكُمْ عِندِى خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ وَلَآ أَقُولُ إِنِّى مَلَكٌۭ وَلَآ أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِىٓ أَعْيُنُكُمْ لَن يُؤْتِيَهُمُ ٱللَّهُ خَيْرًا ۖ ٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِىٓ أَنفُسِهِمْ ۖ إِنِّىٓ إِذًۭا لَّمِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
walā aqūlu lakum ʿindī khazāinu l-lahi walā aʿlamu l-ghayba walā aqūlu innī malakun walā aqūlu lilladhīna tazdarī aʿyunukum lan yu'tiyahumu l-lahu khayran l-lahu aʿlamu bimā fī anfusihim innī idhan lamina l-ẓālimīna
اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ، نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، نہ یہ میرا دعوٰی ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔1 اور یہ بھی میں نہیں کہہ سکتا کہ جن لوگوں کو تمہاری آنکھیں حقارت سے دیکھتی ہیں انہیں اللہ نے کوئی بھلائی نہیں دی۔ ان کے نفس کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو ظالم ہوں گا۔“
قَالُوا۟ يَـٰنُوحُ قَدْ جَـٰدَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَٰلَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
qālū yānūḥu qad jādaltanā fa-aktharta jidālanā fatinā bimā taʿidunā in kunta mina l-ṣādiqīna
آخر کار ان لوگوں نے کہا کہ "اے نوحؑ، تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت کر لیا اب تو بس وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر سچے ہو"
قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُم بِهِ ٱللَّهُ إِن شَآءَ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ
qāla innamā yatīkum bihi l-lahu in shāa wamā antum bimuʿ'jizīna
نوحؑ نے جواب دیا "وہ تو اللہ ہی لائے گا، اگر چاہے گا، اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے روک دو
وَلَا يَنفَعُكُمْ نُصْحِىٓ إِنْ أَرَدتُّ أَنْ أَنصَحَ لَكُمْ إِن كَانَ ٱللَّهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ ۚ هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
walā yanfaʿukum nuṣ'ḥī in aradttu an anṣaḥa lakum in kāna l-lahu yurīdu an yugh'wiyakum huwa rabbukum wa-ilayhi tur'jaʿūna
اب اگر میں تمہاری کچھ خیر خواہی کرنا بھی چاہوں تو میری خیر خواہی تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی جب کہ اللہ ہی نے تمہیں بھٹکا دینے کا ارادہ کر لیا ہو،1 وہی تمہارا ربّ ہے اور اُسی کی طرف تمہیں پلٹنا ہے۔“
أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۖ قُلْ إِنِ ٱفْتَرَيْتُهُۥ فَعَلَىَّ إِجْرَامِى وَأَنَا۠ بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُجْرِمُونَ
am yaqūlūna if'tarāhu qul ini if'taraytuhu faʿalayya ij'rāmī wa-anā barīon mimmā tuj'rimūna
اے محمد ؐ ، کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے یہ سب کچھ خود گھڑ لیا ہے؟ ان سے کہو”اگر میں نے یہ خود گھڑا ہے تو مجھ پر اپنے جُرم کی ذمّہ داری ہے ، اور جو جُرم تم کر رہے ہو اس کی ذمّہ داری سے میں بری ہوں۔“1
وَأُوحِىَ إِلَىٰ نُوحٍ أَنَّهُۥ لَن يُؤْمِنَ مِن قَوْمِكَ إِلَّا مَن قَدْ ءَامَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ
waūḥiya ilā nūḥin annahu lan yu'mina min qawmika illā man qad āmana falā tabta-is bimā kānū yafʿalūna
نوحؑ پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے بس وہ لا چکے، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو
وَٱصْنَعِ ٱلْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلَا تُخَـٰطِبْنِى فِى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ ۚ إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ
wa-iṣ'naʿi l-ful'ka bi-aʿyuninā wawaḥyinā walā tukhāṭib'nī fī alladhīna ẓalamū innahum mugh'raqūna
اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کر دو۔ اور دیکھو، جن لوگوں نے ظلم کیا ہے اُن کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں۔1
وَيَصْنَعُ ٱلْفُلْكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَأٌۭ مِّن قَوْمِهِۦ سَخِرُوا۟ مِنْهُ ۚ قَالَ إِن تَسْخَرُوا۟ مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ
wayaṣnaʿu l-ful'ka wakullamā marra ʿalayhi mala-on min qawmihi sakhirū min'hu qāla in taskharū minnā fa-innā naskharu minkum kamā taskharūna
نوحؑ کشتی بنا رہا تھا اور اس کی قوم کے سرداروں میں سے جو کوئی اس کے پاس سے گزرتا تھا وہ اس کا مذاق اڑاتا تھا اس نے کہا "اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌۭ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌۭ مُّقِيمٌ
fasawfa taʿlamūna man yatīhi ʿadhābun yukh'zīhi wayaḥillu ʿalayhi ʿadhābun muqīmun
عنقریب تمہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اُسے رُسوا کر دے گا اور کس پر وہ بلا ٹوٹ پڑتی ہے جو ٹالے نہ ٹلے گی۔“ 1
حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَمْرُنَا وَفَارَ ٱلتَّنُّورُ قُلْنَا ٱحْمِلْ فِيهَا مِن كُلٍّۢ زَوْجَيْنِ ٱثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ ٱلْقَوْلُ وَمَنْ ءَامَنَ ۚ وَمَآ ءَامَنَ مَعَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٌۭ
ḥattā idhā jāa amrunā wafāra l-tanūru qul'nā iḥ'mil fīhā min kullin zawjayni ith'nayni wa-ahlaka illā man sabaqa ʿalayhi l-qawlu waman āmana wamā āmana maʿahu illā qalīlun
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور اُبل پڑا1 تو ہم نے کہا”ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو، اپنے گھر والوں کو بھی۔۔۔۔ سوائے اُن اشخاص کے جن کی نشان دہی پہلے کی جا چکی ہے2۔۔۔۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔3“ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح ؑ کے ساتھ ایمان لائے تھے
۞ وَقَالَ ٱرْكَبُوا۟ فِيهَا بِسْمِ ٱللَّهِ مَجْر۪ىٰهَا وَمُرْسَىٰهَآ ۚ إِنَّ رَبِّى لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ
waqāla ir'kabū fīhā bis'mi l-lahi majrahā wamur'sāhā inna rabbī laghafūrun raḥīmun
نوح ؑ نے کہا ”سوار ہو جاوٴ اِس میں، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی اور اس کا ٹھہرنا بھی ، میرا ربّ بڑا غفور و رحیم ہے۔“1
وَهِىَ تَجْرِى بِهِمْ فِى مَوْجٍۢ كَٱلْجِبَالِ وَنَادَىٰ نُوحٌ ٱبْنَهُۥ وَكَانَ فِى مَعْزِلٍۢ يَـٰبُنَىَّ ٱرْكَب مَّعَنَا وَلَا تَكُن مَّعَ ٱلْكَـٰفِرِينَ
wahiya tajrī bihim fī mawjin kal-jibāli wanādā nūḥun ib'nahu wakāna fī maʿzilin yābunayya ir'kab maʿanā walā takun maʿa l-kāfirīna
کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی نوحؑ کا بیٹا دور فاصلے پر تھا نوحؑ نے پکار کر کہا "بیٹا، ہمارے ساتھ سوار ہو جا، کافروں کے ساتھ نہ رہ"
قَالَ سَـَٔاوِىٓ إِلَىٰ جَبَلٍۢ يَعْصِمُنِى مِنَ ٱلْمَآءِ ۚ قَالَ لَا عَاصِمَ ٱلْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ إِلَّا مَن رَّحِمَ ۚ وَحَالَ بَيْنَهُمَا ٱلْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ ٱلْمُغْرَقِينَ
qāla saāwī ilā jabalin yaʿṣimunī mina l-māi qāla lā ʿāṣima l-yawma min amri l-lahi illā man raḥima waḥāla baynahumā l-mawju fakāna mina l-mugh'raqīna
اُس نے پلٹ کر جواب دیا "میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھا جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا" نوحؑ نے کہا، آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے" اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہو گیا
وَقِيلَ يَـٰٓأَرْضُ ٱبْلَعِى مَآءَكِ وَيَـٰسَمَآءُ أَقْلِعِى وَغِيضَ ٱلْمَآءُ وَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ وَٱسْتَوَتْ عَلَى ٱلْجُودِىِّ ۖ وَقِيلَ بُعْدًۭا لِّلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
waqīla yāarḍu ib'laʿī māaki wayāsamāu aqliʿī waghīḍa l-māu waquḍiya l-amru wa-is'tawat ʿalā l-jūdiyi waqīla buʿ'dan lil'qawmi l-ẓālimīna
حکم ہوا”اے زمین، اپنا سارا پانی نِگل جا اور اے آسمان ، رُک جا۔“ چنانچہ پانی زمین میں بیٹھ گیا، فیصلہ چکا دیا گیا، کشتی جودی پر ٹِک1گئی، اور کہہ دیا گیا کہ دُور ہوئی ظالموں کی قوم!
وَنَادَىٰ نُوحٌۭ رَّبَّهُۥ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ٱبْنِى مِنْ أَهْلِى وَإِنَّ وَعْدَكَ ٱلْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ ٱلْحَـٰكِمِينَ
wanādā nūḥun rabbahu faqāla rabbi inna ib'nī min ahlī wa-inna waʿdaka l-ḥaqu wa-anta aḥkamu l-ḥākimīna
نُوحؑ نے اپنے ربّ کو پکارا۔ کہا ”اے ربّ، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے1 اور تُو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔2“
قَالَ يَـٰنُوحُ إِنَّهُۥ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُۥ عَمَلٌ غَيْرُ صَـٰلِحٍۢ ۖ فَلَا تَسْـَٔلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ ۖ إِنِّىٓ أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلْجَـٰهِلِينَ
qāla yānūḥu innahu laysa min ahlika innahu ʿamalun ghayru ṣāliḥin falā tasalni mā laysa laka bihi ʿil'mun innī aʿiẓuka an takūna mina l-jāhilīna
جواب میں ارشاد ہوا”اے نُوح ؑ ، وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ایک بگڑا ہُوا کام ہے1، لہٰذا تُو اُس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تُو نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کر تا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے۔2“
قَالَ رَبِّ إِنِّىٓ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْـَٔلَكَ مَا لَيْسَ لِى بِهِۦ عِلْمٌۭ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِى وَتَرْحَمْنِىٓ أَكُن مِّنَ ٱلْخَـٰسِرِينَ
qāla rabbi innī aʿūdhu bika an asalaka mā laysa lī bihi ʿil'mun wa-illā taghfir lī watarḥamnī akun mina l-khāsirīna
نُوح ؑ نے فوراً عرض کیا”اے میرے ربّ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں اِس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تُو نے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہو جاوٴں گا۔“1
قِيلَ يَـٰنُوحُ ٱهْبِطْ بِسَلَـٰمٍۢ مِّنَّا وَبَرَكَـٰتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ أُمَمٍۢ مِّمَّن مَّعَكَ ۚ وَأُمَمٌۭ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌۭ
qīla yānūḥu ih'biṭ bisalāmin minnā wabarakātin ʿalayka waʿalā umamin mimman maʿaka wa-umamun sanumattiʿuhum thumma yamassuhum minnā ʿadhābun alīmun
حکم ہوا”اے نوح ؑ اُتر جا1، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہیں تُجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں، اور کچھ گروہ ایسے بھی ہیں جن کو ہم کچھ مدّت سامانِ زندگی بخشیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔“
تِلْكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهَآ إِلَيْكَ ۖ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَآ أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَـٰذَا ۖ فَٱصْبِرْ ۖ إِنَّ ٱلْعَـٰقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ
til'ka min anbāi l-ghaybi nūḥīhā ilayka mā kunta taʿlamuhā anta walā qawmuka min qabli hādhā fa-iṣ'bir inna l-ʿāqibata lil'muttaqīna
اے محمد ؐ ، یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔1
وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًۭا ۚ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥٓ ۖ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُفْتَرُونَ
wa-ilā ʿādin akhāhum hūdan qāla yāqawmi uʿ'budū l-laha mā lakum min ilāhin ghayruhu in antum illā muf'tarūna
اور عاد کی طرف ہم نے ان کےبھائی ہُودؑ کو بھیجا۔1 اُس نے کہا”اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو ، تمہارا کوئی خدا اُس کے سوا نہیں ہے۔ تم نے محض جھُوٹ گھڑ رکھے ہیں۔2
يَـٰقَوْمِ لَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَى ٱلَّذِى فَطَرَنِىٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
yāqawmi lā asalukum ʿalayhi ajran in ajriya illā ʿalā alladhī faṭaranī afalā taʿqilūna
اے برادرانِ قوم، اس کام پر میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا، میرا اجر تو اس کے ذمّہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا تم عقل سے ذرا کام نہیں لیتے؟1
وَيَـٰقَوْمِ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ يُرْسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًۭا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَىٰ قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا۟ مُجْرِمِينَ
wayāqawmi is'taghfirū rabbakum thumma tūbū ilayhi yur'sili l-samāa ʿalaykum mid'rāran wayazid'kum quwwatan ilā quwwatikum walā tatawallaw muj'rimīna
اور اے میری قوم کے لوگو، اپنے ربّ سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف پلٹو، وہ تم پر آسمان کے دہانے کھول دے گا اور تمہاری موجودہ قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا۔1 مجرموں کی طرح منہ نہ پھیرو۔“
قَالُوا۟ يَـٰهُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍۢ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِىٓ ءَالِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
qālū yāhūdu mā ji'tanā bibayyinatin wamā naḥnu bitārikī ālihatinā ʿan qawlika wamā naḥnu laka bimu'minīna
انہوں نے جواب دیا”اے ہُودؑ ، تُو ہمارے پاس کوئی صریح شہادت لے کر نہیں آیا ہے1، اور تیرے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے ، اور تُجھ پر ہم ایمان لانے والے نہیں ہیں
إِن نَّقُولُ إِلَّا ٱعْتَرَىٰكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوٓءٍۢ ۗ قَالَ إِنِّىٓ أُشْهِدُ ٱللَّهَ وَٱشْهَدُوٓا۟ أَنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُشْرِكُونَ
in naqūlu illā iʿ'tarāka baʿḍu ālihatinā bisūin qāla innī ush'hidu l-laha wa-ish'hadū annī barīon mimmā tush'rikūna
ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ تیرے اُوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑگئی ہے۔“1ہُود ؑ نے کہا”میں اللہ کی شہادت پیش کرتا ہوں۔2 اور تم گواہ رہو کہ یہ جو اللہ کے سوا دُوسروں کو تم نے خدائی میں شریک ٹھہرا رکھا ہے اس سے میں بیزار ہوں۔3
مِن دُونِهِۦ ۖ فَكِيدُونِى جَمِيعًۭا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ
min dūnihi fakīdūnī jamīʿan thumma lā tunẓirūni
تم سب کے سب مل کر میرے خلاف اپنی کرنی میں کسر نہ اُٹھا رکھو اور مجھے مہلت نہ دو1
إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى ٱللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُم ۚ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلَّا هُوَ ءَاخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَآ ۚ إِنَّ رَبِّى عَلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ
innī tawakkaltu ʿalā l-lahi rabbī warabbikum mā min dābbatin illā huwa ākhidhun bināṣiyatihā inna rabbī ʿalā ṣirāṭin mus'taqīmin
میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا ربّ بھی ہے اور تمہارا ربّ بھی۔ کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو۔ بے شک میرا ربّ سیدھی راہ پر ہے۔1
فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقَدْ أَبْلَغْتُكُم مَّآ أُرْسِلْتُ بِهِۦٓ إِلَيْكُمْ ۚ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّى قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّونَهُۥ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ رَبِّى عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ حَفِيظٌۭ
fa-in tawallaw faqad ablaghtukum mā ur'sil'tu bihi ilaykum wayastakhlifu rabbī qawman ghayrakum walā taḍurrūnahu shayan inna rabbī ʿalā kulli shayin ḥafīẓun
اگر تم منہ پھیرتے ہو تو پھیر لو۔ جو پیغام دے کر میں تمہارے پاس بھیجا گیا تھا وہ میں تم کو پہنچا چکا ہوں۔ اب میرا ربّ تمہاریجگہ دُوسری قوم کو اُٹھائے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو 1گے۔ یقیناً میرا ربّ ہر چیز پر نگراں ہے۔“
وَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًۭا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍۢ مِّنَّا وَنَجَّيْنَـٰهُم مِّنْ عَذَابٍ غَلِيظٍۢ
walammā jāa amrunā najjaynā hūdan wa-alladhīna āmanū maʿahu biraḥmatin minnā wanajjaynāhum min ʿadhābin ghalīẓin
پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے ہودؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اُس کے ساتھ ایمان لائے تھے نجات دے دی اور ایک سخت عذاب سے بچا لیا
وَتِلْكَ عَادٌۭ ۖ جَحَدُوا۟ بِـَٔايَـٰتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا۟ رُسُلَهُۥ وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍۢ
watil'ka ʿādun jaḥadū biāyāti rabbihim waʿaṣaw rusulahu wa-ittabaʿū amra kulli jabbārin ʿanīdin
یہ ہیں عاد ، اپنے ربّ کی آیات سے انہوں نے انکار کیا، اس کے رسُولوں کی بات نہ مانی،1 اور ہر جبّار دُشمنِ حق کی پیروی کرتے رہے
وَأُتْبِعُوا۟ فِى هَـٰذِهِ ٱلدُّنْيَا لَعْنَةًۭ وَيَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۗ أَلَآ إِنَّ عَادًۭا كَفَرُوا۟ رَبَّهُمْ ۗ أَلَا بُعْدًۭا لِّعَادٍۢ قَوْمِ هُودٍۢ
wa-ut'biʿū fī hādhihi l-dun'yā laʿnatan wayawma l-qiyāmati alā inna ʿādan kafarū rabbahum alā buʿ'dan liʿādin qawmi hūdin
آخر کار اس دنیا میں بھی ان پر پھٹکار پڑی اور قیامت کے روز بھی سنو! عاد نے اپنے رب سے کفر کیا، سنو! دور پھینک دیے گئے عاد، ہودؑ کی قوم کے لوگ
۞ وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَـٰلِحًۭا ۚ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ وَٱسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَٱسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ ۚ إِنَّ رَبِّى قَرِيبٌۭ مُّجِيبٌۭ
wa-ilā thamūda akhāhum ṣāliḥan qāla yāqawmi uʿ'budū l-laha mā lakum min ilāhin ghayruhu huwa ansha-akum mina l-arḍi wa-is'taʿmarakum fīhā fa-is'taghfirūhu thumma tūbū ilayhi inna rabbī qarībun mujībun
اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالحؑ کو بھیجا۔1 اُس نے کہا”اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خُدا نہیں ہے۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور یہاں تم کو بسایا ہے۔2 لہٰذا تم اُس سے معافی چاہو3 اور اُس کی طرف پلٹ آوٴ، یقیناً میرا ربّ قریب ہے اور وہ دعاؤں کا جواب دینے والا ہے۔“4
قَالُوا۟ يَـٰصَـٰلِحُ قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوًّۭا قَبْلَ هَـٰذَآ ۖ أَتَنْهَىٰنَآ أَن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِى شَكٍّۢ مِّمَّا تَدْعُونَآ إِلَيْهِ مُرِيبٍۢ
qālū yāṣāliḥu qad kunta fīnā marjuwwan qabla hādhā atanhānā an naʿbuda mā yaʿbudu ābāunā wa-innanā lafī shakkin mimmā tadʿūnā ilayhi murībin
اُنہوں نے کہا”اے صالح ؑ ، اس سے پہلے تُو ہمارے درمیان ایسا شخص تھا جس سے بڑی توقعات وابستہ تھیں۔1 کیا تُو ہمیں اُن معبودوں کی پرستش سے روکنا چاہتا ہے جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟2 تُو جس طریقے کی طرف ہمیں بُلا رہا ہے اُس کے بارے میں ہم کو سخت شُبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال رکھا ہے۔“3
قَالَ يَـٰقَوْمِ أَرَءَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّى وَءَاتَىٰنِى مِنْهُ رَحْمَةًۭ فَمَن يَنصُرُنِى مِنَ ٱللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُۥ ۖ فَمَا تَزِيدُونَنِى غَيْرَ تَخْسِيرٍۢ
qāla yāqawmi ara-aytum in kuntu ʿalā bayyinatin min rabbī waātānī min'hu raḥmatan faman yanṣurunī mina l-lahi in ʿaṣaytuhu famā tazīdūnanī ghayra takhsīrin
صالح ؑ نے کہا ”اے برادرانِ قوم، تم نے کچھ اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر میں اپنے ربّ کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا، اور پھر اس نے اپنی رحمت سے بھی مجھ کو نواز دیا تو اِس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا اگر میں اُس کی نافرمانی کروں؟ تم میرے کس کام آسکتے ہو سوائے اس کے کہ مجھے اَور زیادہ خسارے میں ڈال دو۔1
وَيَـٰقَوْمِ هَـٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمْ ءَايَةًۭ فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِىٓ أَرْضِ ٱللَّهِ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٍۢ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌۭ قَرِيبٌۭ
wayāqawmi hādhihi nāqatu l-lahi lakum āyatan fadharūhā takul fī arḍi l-lahi walā tamassūhā bisūin fayakhudhakum ʿadhābun qarībun
اور اے میری قوم کے لوگو، دیکھو یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے اِسے خدا کی زمین میں چرنے کے لیے آزاد چھوڑ دو اِس سے ذرا تعرض نہ کرنا ورنہ کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ تم پر خدا کا عذاب آ جائے گا"
فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا۟ فِى دَارِكُمْ ثَلَـٰثَةَ أَيَّامٍۢ ۖ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍۢ
faʿaqarūhā faqāla tamattaʿū fī dārikum thalāthata ayyāmin dhālika waʿdun ghayru makdhūbin
مگر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا اس پر صالحؑ نے اُن کو خبردار کر دیا کہ "بس اب تین دن اپنے گھروں میں اور رہ بس لو یہ ایسی میعاد ہے جو جھوٹی نہ ثابت ہوگی"
فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا صَـٰلِحًۭا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍۢ مِّنَّا وَمِنْ خِزْىِ يَوْمِئِذٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْعَزِيزُ
falammā jāa amrunā najjaynā ṣāliḥan wa-alladhīna āmanū maʿahu biraḥmatin minnā wamin khiz'yi yawmi-idhin inna rabbaka huwa l-qawiyu l-ʿazīzu
آخرِ کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالح ؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بچا لیا اور اُس دن کی رُسوائی سے ان کو محفوظ رکھا1۔ بے شک تیرا ربّ ہی دراصل طاقتور اور بالا دست ہے
وَأَخَذَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دِيَـٰرِهِمْ جَـٰثِمِينَ
wa-akhadha alladhīna ẓalamū l-ṣayḥatu fa-aṣbaḥū fī diyārihim jāthimīna
رہے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا تھا تو ایک سخت دھماکے نے ان کو دھر لیا اور وہ اپنی بستیوں میں اس طرح بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے
كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيهَآ ۗ أَلَآ إِنَّ ثَمُودَا۟ كَفَرُوا۟ رَبَّهُمْ ۗ أَلَا بُعْدًۭا لِّثَمُودَ
ka-an lam yaghnaw fīhā alā inna thamūdā kafarū rabbahum alā buʿ'dan lithamūda
کہ گویا وہ وہاں کبھی بسے ہی نہ تھے سنو! ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا سنو! دور پھینک دیے گئے ثمود!
وَلَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَآ إِبْرَٰهِيمَ بِٱلْبُشْرَىٰ قَالُوا۟ سَلَـٰمًۭا ۖ قَالَ سَلَـٰمٌۭ ۖ فَمَا لَبِثَ أَن جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍۢ
walaqad jāat rusulunā ib'rāhīma bil-bush'rā qālū salāman qāla salāmun famā labitha an jāa biʿij'lin ḥanīdhin
اور دیکھو، ابراہیم ؑ کے پاس ہمارے فرشتے خوشخبری لیے ہوئے پہنچے۔ کہا ، تم پر سلام ہو۔ ابراہیم ؑ نے جواب دیا ، تم پر بھی سلام ہو۔ پھر کچھ دیر نہ گزری کہ ابراہیم ؑ ایک بُھنا ہوا بچھڑا (ان کی ضیافت کے لیے) لے آیا۔1
فَلَمَّا رَءَآ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةًۭ ۚ قَالُوا۟ لَا تَخَفْ إِنَّآ أُرْسِلْنَآ إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍۢ
falammā raā aydiyahum lā taṣilu ilayhi nakirahum wa-awjasa min'hum khīfatan qālū lā takhaf innā ur'sil'nā ilā qawmi lūṭin
مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہو گیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا۔ 1اُنہوں نے کہا”ڈرو نہیں، ہم تو لُوط ؑ کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں2
وَٱمْرَأَتُهُۥ قَآئِمَةٌۭ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَـٰهَا بِإِسْحَـٰقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَـٰقَ يَعْقُوبَ
wa-im'ra-atuhu qāimatun faḍaḥikat fabasharnāhā bi-is'ḥāqa wamin warāi is'ḥāqa yaʿqūba
ابراہیم ؑ کی بیوی بھی کھڑی ہوئی تھی۔وہ یہ سُن کر ہنس دی۔1 پھر ہم نے اُس کو اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب ؑ کی خوشخبری دی
قَالَتْ يَـٰوَيْلَتَىٰٓ ءَأَلِدُ وَأَنَا۠ عَجُوزٌۭ وَهَـٰذَا بَعْلِى شَيْخًا ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَشَىْءٌ عَجِيبٌۭ
qālat yāwaylatā a-alidu wa-anā ʿajūzun wahādhā baʿlī shaykhan inna hādhā lashayon ʿajībun
وہ بولی ”ہا ئے میری کم بختی!1 کیا اب میرے ہاں اولاد ہوگی جبکہ میں بڑھیا پُھونس ہو گئی اور یہ میرے میاں بھی بُوڑھے ہو چکے؟ 2یہ تو بڑے عجیب بات ہے۔“
قَالُوٓا۟ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ ۖ رَحْمَتُ ٱللَّهِ وَبَرَكَـٰتُهُۥ عَلَيْكُمْ أَهْلَ ٱلْبَيْتِ ۚ إِنَّهُۥ حَمِيدٌۭ مَّجِيدٌۭ
qālū ataʿjabīna min amri l-lahi raḥmatu l-lahi wabarakātuhu ʿalaykum ahla l-bayti innahu ḥamīdun majīdun
فرشتوں نے کہا”اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو؟1 ابراہیم ؑ کے گھر والو ، تم لوگوں پر تو اللہ کی رحمت اور اُس کی برکتیں ہیں، اور یقیناً اللہ نہایت قابلِ تعریف اور بڑی شان والا ہے۔“
فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَٰهِيمَ ٱلرَّوْعُ وَجَآءَتْهُ ٱلْبُشْرَىٰ يُجَـٰدِلُنَا فِى قَوْمِ لُوطٍ
falammā dhahaba ʿan ib'rāhīma l-rawʿu wajāathu l-bush'rā yujādilunā fī qawmi lūṭin
پھر جب ابراہیم ؑ کی گھبراہٹ دُور ہوگئی اور (اولاد کی بشارت سے) اُس کا دل خوش ہوگیا تو اُس نے قومِ لُوط کے معاملہ میں ہم سے جھگڑا شروع کیا۔ 1
إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّٰهٌۭ مُّنِيبٌۭ
inna ib'rāhīma laḥalīmun awwāhun munībun
حقیقت میں ابراہیمؑ بڑا حلیم اور نرم دل آدمی تھا اور ہر حال میں ہماری طرف رجوع کرتا تھا
يَـٰٓإِبْرَٰهِيمُ أَعْرِضْ عَنْ هَـٰذَآ ۖ إِنَّهُۥ قَدْ جَآءَ أَمْرُ رَبِّكَ ۖ وَإِنَّهُمْ ءَاتِيهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍۢ
yāib'rāhīmu aʿriḍ ʿan hādhā innahu qad jāa amru rabbika wa-innahum ātīhim ʿadhābun ghayru mardūdin
(آخرِ کار ہمارے فرشتوں نے اس سے کہا) ”اے ابراہیم ؑ ، اس سے باز آجاوٴ، تمہارے ربّ کا حکم ہو چکا ہے اور اب ان لوگوں پر وہ عذاب آکر رہے گا جو کسی کے پھیرے نہیں پھر سکتا۔“1
وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطًۭا سِىٓءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًۭا وَقَالَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَصِيبٌۭ
walammā jāat rusulunā lūṭan sīa bihim waḍāqa bihim dharʿan waqāla hādhā yawmun ʿaṣībun
اور جب ہمارے فرشتے لُوط کے پاس پہنچے1 تو اُن کی آمد سے وہ بہت گھبرایا اور دل تنگ ہوا اور کہنے لگا کہ ”آج بڑی مصیبت کا دن ہے۔“2
وَجَآءَهُۥ قَوْمُهُۥ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِن قَبْلُ كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ۚ قَالَ يَـٰقَوْمِ هَـٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِى هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِى ضَيْفِىٓ ۖ أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌۭ رَّشِيدٌۭ
wajāahu qawmuhu yuh'raʿūna ilayhi wamin qablu kānū yaʿmalūna l-sayiāti qāla yāqawmi hāulāi banātī hunna aṭharu lakum fa-ittaqū l-laha walā tukh'zūni fī ḍayfī alaysa minkum rajulun rashīdun
(ان مہمانوں کا آنا تھا کہ) اس کی قوم کے لوگ بے اختیار اس کے گھر کی طرف دَوڑ پڑے۔ پہلے سے وہ ایسی ہی بدکاریوں کے خوگر تھے۔ لُوط ؑ نے ان سے کہا”بھائیو، یہ میری بیٹیاں موجود ہیں، یہ تمہارے لیے پاکیزہ تر ہیں۔1 کچھ خدا کا خوف کرو اور میرے مہمانوں کے معاملہ میں مجھے ذلیل نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں ؟“
قَالُوا۟ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِى بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّۢ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ
qālū laqad ʿalim'ta mā lanā fī banātika min ḥaqqin wa-innaka lataʿlamu mā nurīdu
انہوں نے جواب دیا”تجھے تو معلوم ہی ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہے1 اور تُو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم چاہتے کیا ہیں۔“
قَالَ لَوْ أَنَّ لِى بِكُمْ قُوَّةً أَوْ ءَاوِىٓ إِلَىٰ رُكْنٍۢ شَدِيدٍۢ
qāla law anna lī bikum quwwatan aw āwī ilā ruk'nin shadīdin
لوطؑ نے کہا "کاش میرے پاس اتنی طاقت ہوتی کہ تمہیں سیدھا کر دیتا، یا کوئی مضبوط سہارا ہی ہوتا کہ اس کی پناہ لیتا"
قَالُوا۟ يَـٰلُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلُوٓا۟ إِلَيْكَ ۖ فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍۢ مِّنَ ٱلَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ إِلَّا ٱمْرَأَتَكَ ۖ إِنَّهُۥ مُصِيبُهَا مَآ أَصَابَهُمْ ۚ إِنَّ مَوْعِدَهُمُ ٱلصُّبْحُ ۚ أَلَيْسَ ٱلصُّبْحُ بِقَرِيبٍۢ
qālū yālūṭu innā rusulu rabbika lan yaṣilū ilayka fa-asri bi-ahlika biqiṭ'ʿin mina al-layli walā yaltafit minkum aḥadun illā im'ra-ataka innahu muṣībuhā mā aṣābahum inna mawʿidahumu l-ṣub'ḥu alaysa l-ṣub'ḥu biqarībin
تب فرشتوں نے اس سے کہا کہ ”اے لُوط ؑ ، ہم تیرے ربّ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں، یہ لوگ تیرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ بس تُو کچھ رات رہے اپنے اہل و عیال کو لے کر نِکل جا۔ اور دیکھو، تم میں سے کوئی شخص پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے۔1 مگر تیری بیوی ( ساتھ نہیں جائے گی) کیونکہ اس پر بھی وہی کچھ گزرنے والا ہے جو اِن لوگوں پر گزرنا ہے۔2 ان کی تباہی کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے۔۔۔۔ صبح ہوتے اب دیر ہی کتنی ہے!“
فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَـٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةًۭ مِّن سِجِّيلٍۢ مَّنضُودٍۢ
falammā jāa amrunā jaʿalnā ʿāliyahā sāfilahā wa-amṭarnā ʿalayhā ḥijāratan min sijjīlin manḍūdin
پھر جب ہمارے فیصلے کا وقت آپہنچا تو ہم نے اس بستی کو تل پٹ کر دیا اور اس پر پکی ہوئی مَٹی کے پتھر تابڑ توڑ برسائے1
مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ ۖ وَمَا هِىَ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ بِبَعِيدٍۢ
musawwamatan ʿinda rabbika wamā hiya mina l-ẓālimīna bibaʿīdin
جن میں سے ہر پتھر تیرے ربّ کے ہاں نشان زدہ تھا۔1 اور ظالموں سے یہ سزا کچھ دُور نہیں ہے2
۞ وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًۭا ۚ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ وَلَا تَنقُصُوا۟ ٱلْمِكْيَالَ وَٱلْمِيزَانَ ۚ إِنِّىٓ أَرَىٰكُم بِخَيْرٍۢ وَإِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍۢ مُّحِيطٍۢ
wa-ilā madyana akhāhum shuʿayban qāla yāqawmi uʿ'budū l-laha mā lakum min ilāhin ghayruhu walā tanquṣū l-mik'yāla wal-mīzāna innī arākum bikhayrin wa-innī akhāfu ʿalaykum ʿadhāba yawmin muḥīṭin
اور مَدیَن والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب ؑ کو بھیجا۔1 اُ س نے کہا”اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں، مگر مجھے ڈر ہے کہ کل تم پر ایسا دن آئے گا جس کا عذاب سب کو گھیر لیے گا
وَيَـٰقَوْمِ أَوْفُوا۟ ٱلْمِكْيَالَ وَٱلْمِيزَانَ بِٱلْقِسْطِ ۖ وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
wayāqawmi awfū l-mik'yāla wal-mīzāna bil-qis'ṭi walā tabkhasū l-nāsa ashyāahum walā taʿthaw fī l-arḍi muf'sidīna
اور اے برادران قوم، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو
بَقِيَّتُ ٱللَّهِ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۚ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيْكُم بِحَفِيظٍۢ
baqiyyatu l-lahi khayrun lakum in kuntum mu'minīna wamā anā ʿalaykum biḥafīẓin
اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔ اور بہر حال میں تمہارے اوپر کوئی نگرانِ کار نہیں ہوں۔“1
قَالُوا۟ يَـٰشُعَيْبُ أَصَلَوٰتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَآ أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِىٓ أَمْوَٰلِنَا مَا نَشَـٰٓؤُا۟ ۖ إِنَّكَ لَأَنتَ ٱلْحَلِيمُ ٱلرَّشِيدُ
qālū yāshuʿaybu aṣalatuka tamuruka an natruka mā yaʿbudu ābāunā aw an nafʿala fī amwālinā mā nashāu innaka la-anta l-ḥalīmu l-rashīdu
انہوں نے جواب دیا”اے شعیب ؑ ، کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے1 کہ ہم اُن سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشا کے مطابق تصّرف کرنے کا اختیار نہ ہو؟2 بس تُو ہی تو ایک عالی ظرف اور راستباز آدمی رہ گیا ہے !“
قَالَ يَـٰقَوْمِ أَرَءَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّى وَرَزَقَنِى مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًۭا ۚ وَمَآ أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَىٰ مَآ أَنْهَىٰكُمْ عَنْهُ ۚ إِنْ أُرِيدُ إِلَّا ٱلْإِصْلَـٰحَ مَا ٱسْتَطَعْتُ ۚ وَمَا تَوْفِيقِىٓ إِلَّا بِٱللَّهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ
qāla yāqawmi ara-aytum in kuntu ʿalā bayyinatin min rabbī warazaqanī min'hu riz'qan ḥasanan wamā urīdu an ukhālifakum ilā mā anhākum ʿanhu in urīdu illā l-iṣ'lāḥa mā is'taṭaʿtu wamā tawfīqī illā bil-lahi ʿalayhi tawakkaltu wa-ilayhi unību
شعیب ؑ نے کہا ”بھائیو، تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے ربّ کی طرف سے ایک کھُلی شہادت پر تھا اور پھر اس نے اپنے ہاں سے مجھ کو اچھا رزق بھی عطا کیا1 (تو اس کے بعد میں تمہاری گمراہیوں اور حرام خوریوں میں تمہاراشریکِ حال کیسے ہو سکتا ہوں؟)۔اور میں ہر گز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں۔2 میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تک بھی میرا بس چلے۔ اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اسی کر طرف رُجوع کرتا ہوں
وَيَـٰقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِىٓ أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَآ أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَـٰلِحٍۢ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍۢ مِّنكُم بِبَعِيدٍۢ
wayāqawmi lā yajrimannakum shiqāqī an yuṣībakum mith'lu mā aṣāba qawma nūḥin aw qawma hūdin aw qawma ṣāliḥin wamā qawmu lūṭin minkum bibaʿīdin
اور اے برادرانِ قوم، میرے خلاف تمہاری ہٹ دھرمی کہیں یہ نوبت نہ پہنچا دے کہ آخرِ کار تم پر بھی وہی عذاب آکر رہے جو نوح ؑ یا ہُود ؑ یا صالح ؑ کی قوم پر آیا تھا۔ اور ؑ لُوط کی قوم تو تم سے کچھ زیادہ دُور بھی نہیں ہے۔1
وَٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ ۚ إِنَّ رَبِّى رَحِيمٌۭ وَدُودٌۭ
wa-is'taghfirū rabbakum thumma tūbū ilayhi inna rabbī raḥīmun wadūdun
دیکھو! اپنے ربّ سے معافی مانگو اور اس کی طرف پلٹ آوٴ، بے شک میرا ربّ رحیم ہے اور اپنی مخلوق سے محبت رکھتا ہے۔“1
قَالُوا۟ يَـٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًۭا مِّمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَىٰكَ فِينَا ضَعِيفًۭا ۖ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَـٰكَ ۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍۢ
qālū yāshuʿaybu mā nafqahu kathīran mimmā taqūlu wa-innā lanarāka fīnā ḍaʿīfan walawlā rahṭuka larajamnāka wamā anta ʿalaynā biʿazīzin
انہوں نے جواب دیا ”اے شعیب ؑ ، تیری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں۔1 اور ہم دیکھتے ہیں کہ تُو ہمارے درمیان ایک بے زور آدمی ہے، تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کر چکے ہوتے ، تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو۔“2
قَالَ يَـٰقَوْمِ أَرَهْطِىٓ أَعَزُّ عَلَيْكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَٱتَّخَذْتُمُوهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِيًّا ۖ إِنَّ رَبِّى بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌۭ
qāla yāqawmi arahṭī aʿazzu ʿalaykum mina l-lahi wa-ittakhadhtumūhu warāakum ẓih'riyyan inna rabbī bimā taʿmalūna muḥīṭun
شعیبؑ نے کہا "بھائیو، کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ تم نے (برادری کا تو خوف کیا اور) اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا؟ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے
وَيَـٰقَوْمِ ٱعْمَلُوا۟ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّى عَـٰمِلٌۭ ۖ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌۭ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَـٰذِبٌۭ ۖ وَٱرْتَقِبُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُمْ رَقِيبٌۭ
wayāqawmi iʿ'malū ʿalā makānatikum innī ʿāmilun sawfa taʿlamūna man yatīhi ʿadhābun yukh'zīhi waman huwa kādhibun wa-ir'taqibū innī maʿakum raqībun
اے میری قوم کے لوگو، تم اپنے طریقے پر کام کیے جاؤ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا، جلدی ہی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر ذلت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں"
وَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًۭا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍۢ مِّنَّا وَأَخَذَتِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دِيَـٰرِهِمْ جَـٰثِمِينَ
walammā jāa amrunā najjaynā shuʿayban wa-alladhīna āmanū maʿahu biraḥmatin minnā wa-akhadhati alladhīna ẓalamū l-ṣayḥatu fa-aṣbaḥū fī diyārihim jāthimīna
آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آ گیا تو ہم نے اپنی رحمت سے شعیبؑ اور اس کے ساتھی مومنوں کو بچا لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک سخت دھماکے نے ایسا پکڑا کہ وہ اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے
كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيهَآ ۗ أَلَا بُعْدًۭا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ
ka-an lam yaghnaw fīhā alā buʿ'dan limadyana kamā baʿidat thamūdu
گویا وہ کبھی وہاں رہے بسے ہی نہ تھے سنو! مدین والے بھی دور پھینک دیے گئے جس طرح ثمود پھینکے گئے تھے
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَـٰتِنَا وَسُلْطَـٰنٍۢ مُّبِينٍ
walaqad arsalnā mūsā biāyātinā wasul'ṭānin mubīnin
اور موسیٰؑ کو ہم نے اپنی نشانیوں اور کھلی کھلی سند ماموریت کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا
إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ فَٱتَّبَعُوٓا۟ أَمْرَ فِرْعَوْنَ ۖ وَمَآ أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍۢ
ilā fir'ʿawna wamala-ihi fa-ittabaʿū amra fir'ʿawna wamā amru fir'ʿawna birashīdin
مگر انہوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی حالانکہ فرعون کا حکم راستی پر نہ تھا
يَقْدُمُ قَوْمَهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ فَأَوْرَدَهُمُ ٱلنَّارَ ۖ وَبِئْسَ ٱلْوِرْدُ ٱلْمَوْرُودُ
yaqdumu qawmahu yawma l-qiyāmati fa-awradahumu l-nāra wabi'sa l-wir'du l-mawrūdu
قیامت کے روز وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہو گا اور اپنی پیشوائی میں انہیں دوزخ کی طرف لے جائے گا۔1 کیسی بد تر جائے وُرُود ہے یہ جس پر کوئی پہنچے!
وَأُتْبِعُوا۟ فِى هَـٰذِهِۦ لَعْنَةًۭ وَيَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۚ بِئْسَ ٱلرِّفْدُ ٱلْمَرْفُودُ
wa-ut'biʿū fī hādhihi laʿnatan wayawma l-qiyāmati bi'sa l-rif'du l-marfūdu
اور ان لوگوں پر دنیا میں بھی لعنت پڑی اور قیامت کے روز بھی پڑے گی کیسا برا صلہ ہے یہ جو کسی کو ملے!
ذَٰلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْقُرَىٰ نَقُصُّهُۥ عَلَيْكَ ۖ مِنْهَا قَآئِمٌۭ وَحَصِيدٌۭ
dhālika min anbāi l-qurā naquṣṣuhu ʿalayka min'hā qāimun waḥaṣīdun
یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے
وَمَا ظَلَمْنَـٰهُمْ وَلَـٰكِن ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ ۖ فَمَآ أَغْنَتْ عَنْهُمْ ءَالِهَتُهُمُ ٱلَّتِى يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ لَّمَّا جَآءَ أَمْرُ رَبِّكَ ۖ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍۢ
wamā ẓalamnāhum walākin ẓalamū anfusahum famā aghnat ʿanhum ālihatuhumu allatī yadʿūna min dūni l-lahi min shayin lammā jāa amru rabbika wamā zādūhum ghayra tatbībin
ہم نے اُن پر ظلم نہیں کیا، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا اور جب اللہ کا حکم آ گیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آ سکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا
وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَآ أَخَذَ ٱلْقُرَىٰ وَهِىَ ظَـٰلِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُۥٓ أَلِيمٌۭ شَدِيدٌ
wakadhālika akhdhu rabbika idhā akhadha l-qurā wahiya ẓālimatun inna akhdhahu alīmun shadīdun
اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةًۭ لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ ٱلْـَٔاخِرَةِ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمٌۭ مَّجْمُوعٌۭ لَّهُ ٱلنَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌۭ مَّشْهُودٌۭ
inna fī dhālika laāyatan liman khāfa ʿadhāba l-ākhirati dhālika yawmun majmūʿun lahu l-nāsu wadhālika yawmun mashhūdun
حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو عذابِ آخرت کا خوف کرے۔1 وہ ایک دن ہو گا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اُس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہو گا
وَمَا نُؤَخِّرُهُۥٓ إِلَّا لِأَجَلٍۢ مَّعْدُودٍۢ
wamā nu-akhiruhu illā li-ajalin maʿdūdin
ہم اس کے لانے میں کچھ بہت زیادہ تاخیر نہیں کر رہے ہیں، بس ایک گنی چنی مدت اس کے لیے مقرر ہے
يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِۦ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِىٌّۭ وَسَعِيدٌۭ
yawma yati lā takallamu nafsun illā bi-idh'nihi famin'hum shaqiyyun wasaʿīdun
جب و ہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہو گی، اِلّا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے۔1 پھر کچھ لوگ اس روز بد بخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ شَقُوا۟ فَفِى ٱلنَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌۭ وَشَهِيقٌ
fa-ammā alladhīna shaqū fafī l-nāri lahum fīhā zafīrun washahīqun
جو بد بخت ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے (جہاں گرمی اور پیاس کی شدت سے) وہ ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے
خَـٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَـٰوَٰتُ وَٱلْأَرْضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌۭ لِّمَا يُرِيدُ
khālidīna fīhā mā dāmati l-samāwātu wal-arḍu illā mā shāa rabbuka inna rabbaka faʿʿālun limā yurīdu
اور اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں1، اِّلا یہ کہ تیرا ربّ کچھ اور چاہے۔ بے شک تیرا ربّ پُورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے۔ 2
۞ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ سُعِدُوا۟ فَفِى ٱلْجَنَّةِ خَـٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَـٰوَٰتُ وَٱلْأَرْضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ ۖ عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍۢ
wa-ammā alladhīna suʿidū fafī l-janati khālidīna fīhā mā dāmati l-samāwātu wal-arḍu illā mā shāa rabbuka ʿaṭāan ghayra majdhūdhin
رہے وہ لوگ جو نیک بخت نکلیں گے، تو وہ جنّت میں جائیں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں ، اِلّا یہ کہ تیرا ربّ کچھ اور چاہے۔1 ایسی بخشش ان کو ملے گی جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا
فَلَا تَكُ فِى مِرْيَةٍۢ مِّمَّا يَعْبُدُ هَـٰٓؤُلَآءِ ۚ مَا يَعْبُدُونَ إِلَّا كَمَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُهُم مِّن قَبْلُ ۚ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنقُوصٍۢ
falā taku fī mir'yatin mimmā yaʿbudu hāulāi mā yaʿbudūna illā kamā yaʿbudu ābāuhum min qablu wa-innā lamuwaffūhum naṣībahum ghayra manqūṣin
پس اے نبی ؐ ، تُو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں۔ یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے)اُسی طرح پُوجا پاٹ کیے جارہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے،1 اور ہم ان کا حصہ انہیں بھرپور دیں گے بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَـٰبَ فَٱخْتُلِفَ فِيهِ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَفِى شَكٍّۢ مِّنْهُ مُرِيبٍۢ
walaqad ātaynā mūsā l-kitāba fa-ukh'tulifa fīhi walawlā kalimatun sabaqat min rabbika laquḍiya baynahum wa-innahum lafī shakkin min'hu murībin
ہم اِس سے پہلے موسیٰ ؑ کو بھی کتا ب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا(جس طرح آج اِس کتاب کےبارےمیں کیا جا رہاہے جو تمہیں دی گئی ہے1)۔ اگر تیرے ربّ کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کر دی گئی ہوتی تو اِن اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی کا فیصلہ چُکا دیا گیا ہوتا۔2 یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ ا ِس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں
وَإِنَّ كُلًّۭا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَـٰلَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ
wa-inna kullan lammā layuwaffiyannahum rabbuka aʿmālahum innahu bimā yaʿmalūna khabīrun
اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا، یقیناً وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے
فَٱسْتَقِمْ كَمَآ أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا۟ ۚ إِنَّهُۥ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ
fa-is'taqim kamā umir'ta waman tāba maʿaka walā taṭghaw innahu bimā taʿmalūna baṣīrun
پس اے محمدؐ، تم، اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو جو کچھ تم کر رہے ہو اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے
وَلَا تَرْكَنُوٓا۟ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ
walā tarkanū ilā alladhīna ẓalamū fatamassakumu l-nāru wamā lakum min dūni l-lahi min awliyāa thumma lā tunṣarūna
اِن ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آ جاؤ گے اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی
وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ طَرَفَىِ ٱلنَّهَارِ وَزُلَفًۭا مِّنَ ٱلَّيْلِ ۚ إِنَّ ٱلْحَسَنَـٰتِ يُذْهِبْنَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّٰكِرِينَ
wa-aqimi l-ṣalata ṭarafayi l-nahāri wazulafan mina al-layli inna l-ḥasanāti yudh'hib'na l-sayiāti dhālika dhik'rā lildhākirīna
اور دیکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر۔1 در حقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لئے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں۔2
وَٱصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ
wa-iṣ'bir fa-inna l-laha lā yuḍīʿu ajra l-muḥ'sinīna
اور صبر کر، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا
فَلَوْلَا كَانَ مِنَ ٱلْقُرُونِ مِن قَبْلِكُمْ أُو۟لُوا۟ بَقِيَّةٍۢ يَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْفَسَادِ فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْهُمْ ۗ وَٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَآ أُتْرِفُوا۟ فِيهِ وَكَانُوا۟ مُجْرِمِينَ
falawlā kāna mina l-qurūni min qablikum ulū baqiyyatin yanhawna ʿani l-fasādi fī l-arḍi illā qalīlan mimman anjaynā min'hum wa-ittabaʿa alladhīna ẓalamū mā ut'rifū fīhi wakānū muj'rimīna
پھر کیوں نہ اُن قوموں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ایسے اہل خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم، جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچا لیا، ورنہ ظالم لوگ تو انہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیے گئے تھے اور وہ مجرم بن کر رہے
وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ بِظُلْمٍۢ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ
wamā kāna rabbuka liyuh'lika l-qurā biẓul'min wa-ahluhā muṣ'liḥūna
تیرا ربّ ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں۔1
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ ٱلنَّاسَ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ ۖ وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ
walaw shāa rabbuka lajaʿala l-nāsa ummatan wāḥidatan walā yazālūna mukh'talifīna
بے شک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا، مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے
إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ ۚ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ ۗ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ
illā man raḥima rabbuka walidhālika khalaqahum watammat kalimatu rabbika la-amla-anna jahannama mina l-jinati wal-nāsi ajmaʿīna
اور بے راہ رویوں سے صرف وہ لوگ بچیں گے جن پر تیرے ربّ کی رحمت ہے۔ اِسی (آزادی ِ انتخاب و اختیار)کے لیے ہی تو اس نے انہیں پیدا کیا تھا۔1 اور تیرے ربّ کی وہ بات پوری ہوگئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنّم کو جِن اور انسانوں سے بھر دوں گا
وَكُلًّۭا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِۦ فُؤَادَكَ ۚ وَجَآءَكَ فِى هَـٰذِهِ ٱلْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌۭ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ
wakullan naquṣṣu ʿalayka min anbāi l-rusuli mā nuthabbitu bihi fuādaka wajāaka fī hādhihi l-ḥaqu wamawʿiẓatun wadhik'rā lil'mu'minīna
اور اے محمدؐ، یہ پیغمبروں کے قصے جو ہم تمہیں سناتے ہیں، وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی
وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ ٱعْمَلُوا۟ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَـٰمِلُونَ
waqul lilladhīna lā yu'minūna iʿ'malū ʿalā makānatikum innā ʿāmilūna
رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے، تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کام کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کیے جاتے ہیں
وَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنَّا مُنتَظِرُونَ
wa-intaẓirū innā muntaẓirūna
انجام کار کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں
وَلِلَّهِ غَيْبُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ ٱلْأَمْرُ كُلُّهُۥ فَٱعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَـٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
walillahi ghaybu l-samāwāti wal-arḍi wa-ilayhi yur'jaʿu l-amru kulluhu fa-uʿ'bud'hu watawakkal ʿalayhi wamā rabbuka bighāfilin ʿammā taʿmalūna
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ چھُپا ہوا ہے سب اللہ کے قبضہء قدرت میں ہے اور سارا معاملہ اسی کی طرف رُجوع کیا جاتا ہے۔ پس اے نبی ؐ ، تُو اُسی کی بندگی کر اور اُسی پر بھروسا رکھ،جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو تیرا ربّ اس سے بے خبر نہیں ہے۔1