طه
Ta-Ha
Ta-Ha
طه
tta-ha
طٰہٰ
مَآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ لِتَشْقَىٰٓ
mā anzalnā ʿalayka l-qur'āna litashqā
ہم نے یہ قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ تم مصیبت میں پڑ جاؤ
إِلَّا تَذْكِرَةًۭ لِّمَن يَخْشَىٰ
illā tadhkiratan liman yakhshā
یہ تو ایک یاد دہانی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ڈرے۔ 1
تَنزِيلًۭا مِّمَّنْ خَلَقَ ٱلْأَرْضَ وَٱلسَّمَـٰوَٰتِ ٱلْعُلَى
tanzīlan mimman khalaqa l-arḍa wal-samāwāti l-ʿulā
نازل کیا گیا ہے اُس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو
ٱلرَّحْمَـٰنُ عَلَى ٱلْعَرْشِ ٱسْتَوَىٰ
al-raḥmānu ʿalā l-ʿarshi is'tawā
وہ رحمٰن(کائنات کے)تختِ سلطنت پر جلوہ فرما ہے۔ 1
لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمَا تَحْتَ ٱلثَّرَىٰ
lahu mā fī l-samāwāti wamā fī l-arḍi wamā baynahumā wamā taḥta l-tharā
مالک ہے اُن سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں
وَإِن تَجْهَرْ بِٱلْقَوْلِ فَإِنَّهُۥ يَعْلَمُ ٱلسِّرَّ وَأَخْفَى
wa-in tajhar bil-qawli fa-innahu yaʿlamu l-sira wa-akhfā
تم چاہے اپنی بات پُکار کر کہو ، وہ تو چُپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی بات بھی جانتا ہے۔ 1
ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ لَهُ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ
al-lahu lā ilāha illā huwa lahu l-asmāu l-ḥus'nā
وہ اللہ ہے، اس کے سوا کوئی خدانہیں، اس کے لیے بہترین نام ہیں۔ 1
وَهَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ
wahal atāka ḥadīthu mūsā
اور تمہیں کچھ موسیٰؑ کی خبر بھی پہنچی ہے؟
إِذْ رَءَا نَارًۭا فَقَالَ لِأَهْلِهِ ٱمْكُثُوٓا۟ إِنِّىٓ ءَانَسْتُ نَارًۭا لَّعَلِّىٓ ءَاتِيكُم مِّنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى ٱلنَّارِ هُدًۭى
idh raā nāran faqāla li-ahlihi um'kuthū innī ānastu nāran laʿallī ātīkum min'hā biqabasin aw ajidu ʿalā l-nāri hudan
جب کہ اُس نے ایک آگ دیکھی 1 اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ”ذرا ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید کہ تمہارے لیے ایک آدھ انگارا لے آوٴں، یا اس آگ پر مجھے(راستے کے متعلق)کوئی رہنمائی مِل جائے۔“ 2
فَلَمَّآ أَتَىٰهَا نُودِىَ يَـٰمُوسَىٰٓ
falammā atāhā nūdiya yāmūsā
وہاں پہنچا تو پکارا گیا "اے موسیٰؑ!
إِنِّىٓ أَنَا۠ رَبُّكَ فَٱخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ إِنَّكَ بِٱلْوَادِ ٱلْمُقَدَّسِ طُوًۭى
innī anā rabbuka fa-ikh'laʿ naʿlayka innaka bil-wādi l-muqadasi ṭuwan
میں ہی تیرا ربّ ہوں، جُوتیاں اُتار دے۔ 1 تُو وادی ِ مقدس طُویٰ میں ہے۔ 2
وَأَنَا ٱخْتَرْتُكَ فَٱسْتَمِعْ لِمَا يُوحَىٰٓ
wa-anā ikh'tartuka fa-is'tamiʿ limā yūḥā
اور میں نے تجھ کو چُن لیا ہے، سُن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے
إِنَّنِىٓ أَنَا ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعْبُدْنِى وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِذِكْرِىٓ
innanī anā l-lahu lā ilāha illā anā fa-uʿ'bud'nī wa-aqimi l-ṣalata lidhik'rī
میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی خدا نہیں، پس تُو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ 1
إِنَّ ٱلسَّاعَةَ ءَاتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعَىٰ
inna l-sāʿata ātiyatun akādu ukh'fīhā lituj'zā kullu nafsin bimā tasʿā
قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ میں اُس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تاک ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔ 1
فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَن لَّا يُؤْمِنُ بِهَا وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ فَتَرْدَىٰ
falā yaṣuddannaka ʿanhā man lā yu'minu bihā wa-ittabaʿa hawāhu fatardā
پس کوئی ایسا شخص جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اُس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے، ورنہ تو ہلاکت میں پڑ جائے گا
وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَـٰمُوسَىٰ
wamā til'ka biyamīnika yāmūsā
اور اے موسیٰؑ ، یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟“ 1
قَالَ هِىَ عَصَاىَ أَتَوَكَّؤُا۟ عَلَيْهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَىٰ غَنَمِى وَلِىَ فِيهَا مَـَٔارِبُ أُخْرَىٰ
qāla hiya ʿaṣāya atawakka-u ʿalayhā wa-ahushu bihā ʿalā ghanamī waliya fīhā maāribu ukh'rā
موسیٰؑ نے جواب دیا”یہ میری لاٹھی ہے، اِس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں، اِس سے اپنی بکریوں کے لیے پتّے جھاڑتا ہوں، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اِس سے لیتا ہوں۔“ 1
قَالَ أَلْقِهَا يَـٰمُوسَىٰ
qāla alqihā yāmūsā
فرمایا "پھینک دے اس کو موسیٰؑ"
فَأَلْقَىٰهَا فَإِذَا هِىَ حَيَّةٌۭ تَسْعَىٰ
fa-alqāhā fa-idhā hiya ḥayyatun tasʿā
اس نے پھینک دیا اور یکایک وہ ایک سانپ تھی جو دَوڑ رہا تھا
قَالَ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ ۖ سَنُعِيدُهَا سِيرَتَهَا ٱلْأُولَىٰ
qāla khudh'hā walā takhaf sanuʿīduhā sīratahā l-ūlā
فرمایا "پکڑ لے اس کو اور ڈر نہیں، ہم اسے پھر ویسا ہی کر دیں گے جیسی یہ تھی
وَٱضْمُمْ يَدَكَ إِلَىٰ جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوٓءٍ ءَايَةً أُخْرَىٰ
wa-uḍ'mum yadaka ilā janāḥika takhruj bayḍāa min ghayri sūin āyatan ukh'rā
اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ 1 یہ دُوسری نشانی ہے
لِنُرِيَكَ مِنْ ءَايَـٰتِنَا ٱلْكُبْرَى
linuriyaka min āyātinā l-kub'rā
اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں
ٱذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ
idh'hab ilā fir'ʿawna innahu ṭaghā
اب تو فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے"
قَالَ رَبِّ ٱشْرَحْ لِى صَدْرِى
qāla rabbi ish'raḥ lī ṣadrī
موسیٰؑ نے عرض کیا”پروردگار، میرا سینہ کھول دے، 1
وَيَسِّرْ لِىٓ أَمْرِى
wayassir lī amrī
اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے
وَٱحْلُلْ عُقْدَةًۭ مِّن لِّسَانِى
wa-uḥ'lul ʿuq'datan min lisānī
اور میری زبان کی گرہ سُلجھا دے
يَفْقَهُوا۟ قَوْلِى
yafqahū qawlī
تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں، 1
وَٱجْعَل لِّى وَزِيرًۭا مِّنْ أَهْلِى
wa-ij'ʿal lī wazīran min ahlī
اور میرے لیے میرے اپنے کنبے سے ایک وزیر مقرر کر دے
هَـٰرُونَ أَخِى
hārūna akhī
ہارون ، جو میرا بھائی ہے۔ 1
ٱشْدُدْ بِهِۦٓ أَزْرِى
ush'dud bihi azrī
اُس کے ذریعہ سے میرا ہاتھ مضبُوط کر
وَأَشْرِكْهُ فِىٓ أَمْرِى
wa-ashrik'hu fī amrī
اور اس کو میرے کام میں شریک کر دے
كَىْ نُسَبِّحَكَ كَثِيرًۭا
kay nusabbiḥaka kathīran
تاکہ ہم خوب تیری پاکی بیان کریں
وَنَذْكُرَكَ كَثِيرًا
wanadhkuraka kathīran
اور خوب تیرا چرچا کریں
إِنَّكَ كُنتَ بِنَا بَصِيرًۭا
innaka kunta binā baṣīran
تو ہمیشہ ہمارے حال پر نگران رہا ہے"
قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَـٰمُوسَىٰ
qāla qad ūtīta su'laka yāmūsā
فرمایا "دیا گیا جو تو نے مانگا اے موسیٰؑ
وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّةً أُخْرَىٰٓ
walaqad manannā ʿalayka marratan ukh'rā
ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا۔ 1
إِذْ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰٓ أُمِّكَ مَا يُوحَىٰٓ
idh awḥaynā ilā ummika mā yūḥā
یاد کر وہ وقت جبکہ ہم نے تیری ماں کو اشارہ کیا ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعہ سے ہی کیا جاتا ہے
أَنِ ٱقْذِفِيهِ فِى ٱلتَّابُوتِ فَٱقْذِفِيهِ فِى ٱلْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ ٱلْيَمُّ بِٱلسَّاحِلِ يَأْخُذْهُ عَدُوٌّۭ لِّى وَعَدُوٌّۭ لَّهُۥ ۚ وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةًۭ مِّنِّى وَلِتُصْنَعَ عَلَىٰ عَيْنِىٓ
ani iq'dhifīhi fī l-tābūti fa-iq'dhifīhi fī l-yami falyul'qihi l-yamu bil-sāḥili yakhudh'hu ʿaduwwun lī waʿaduwwun lahu wa-alqaytu ʿalayka maḥabbatan minnī walituṣ'naʿa ʿalā ʿaynī
کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے دریا اسے ساحل پر پھینک دے گا اور اسے میرا دشمن اور اس بچے کا دشمن اٹھا لے گا میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کر دی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے
إِذْ تَمْشِىٓ أُخْتُكَ فَتَقُولُ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ مَن يَكْفُلُهُۥ ۖ فَرَجَعْنَـٰكَ إِلَىٰٓ أُمِّكَ كَىْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ ۚ وَقَتَلْتَ نَفْسًۭا فَنَجَّيْنَـٰكَ مِنَ ٱلْغَمِّ وَفَتَنَّـٰكَ فُتُونًۭا ۚ فَلَبِثْتَ سِنِينَ فِىٓ أَهْلِ مَدْيَنَ ثُمَّ جِئْتَ عَلَىٰ قَدَرٍۢ يَـٰمُوسَىٰ
idh tamshī ukh'tuka fataqūlu hal adullukum ʿalā man yakfuluhu farajaʿnāka ilā ummika kay taqarra ʿaynuhā walā taḥzana waqatalta nafsan fanajjaynāka mina l-ghami wafatannāka futūnan falabith'ta sinīna fī ahli madyana thumma ji'ta ʿalā qadarin yāmūsā
یاد کر جبکہ تیری بہن چل رہی تھی، پھر جا کر کہتی ہے، "میں تمہیں اُس کا پتہ دوں جو اِس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے؟" اس طرح ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اُس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو اور (یہ بھی یاد کر کہ) تو نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، ہم نے تجھے اِس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا اور تو مَدیَن کے لوگوں میں کئی سال ٹھیرا رہا پھر اب ٹھیک اپنے وقت پر تو آ گیا ہے اے موسیٰؑ
وَٱصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِى
wa-iṣ'ṭanaʿtuka linafsī
میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے
ٱذْهَبْ أَنتَ وَأَخُوكَ بِـَٔايَـٰتِى وَلَا تَنِيَا فِى ذِكْرِى
idh'hab anta wa-akhūka biāyātī walā taniyā fī dhik'rī
جا، تُو اور تیرا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ ا ور دیکھو، تم میری یاد میں تقصیر نہ کرنا
ٱذْهَبَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ
idh'habā ilā fir'ʿawna innahu ṭaghā
جاؤ تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہو گیا ہے
فَقُولَا لَهُۥ قَوْلًۭا لَّيِّنًۭا لَّعَلَّهُۥ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ
faqūlā lahu qawlan layyinan laʿallahu yatadhakkaru aw yakhshā
اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کے وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔“ 1
قَالَا رَبَّنَآ إِنَّنَا نَخَافُ أَن يَفْرُطَ عَلَيْنَآ أَوْ أَن يَطْغَىٰ
qālā rabbanā innanā nakhāfu an yafruṭa ʿalaynā aw an yaṭghā
دونوں 1 نے عرض کیا”پروردگار، ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پِل پڑے گا۔“
قَالَ لَا تَخَافَآ ۖ إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَىٰ
qāla lā takhāfā innanī maʿakumā asmaʿu wa-arā
فرمایا " ڈرو مت، میں تمہارے ساتھ ہوں، سب کچھ سُن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں
فَأْتِيَاهُ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ ۖ قَدْ جِئْنَـٰكَ بِـَٔايَةٍۢ مِّن رَّبِّكَ ۖ وَٱلسَّلَـٰمُ عَلَىٰ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلْهُدَىٰٓ
fatiyāhu faqūlā innā rasūlā rabbika fa-arsil maʿanā banī is'rāīla walā tuʿadhib'hum qad ji'nāka biāyatin min rabbika wal-salāmu ʿalā mani ittabaʿa l-hudā
جاؤ اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی ہے اُس کے لیے جو راہِ راست کی پیروی کرے
إِنَّا قَدْ أُوحِىَ إِلَيْنَآ أَنَّ ٱلْعَذَابَ عَلَىٰ مَن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ
innā qad ūḥiya ilaynā anna l-ʿadhāba ʿalā man kadhaba watawallā
ہم کو وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اُس کے لیے جو جُھٹلائے اور منہ موڑے۔“ 1
قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَـٰمُوسَىٰ
qāla faman rabbukumā yāmūsā
فرعون 1 نے کہا”اچھا، تو پھر تم دونوں کا ربّ کو ن ہے اے موسیٰ؟“ 2
قَالَ رَبُّنَا ٱلَّذِىٓ أَعْطَىٰ كُلَّ شَىْءٍ خَلْقَهُۥ ثُمَّ هَدَىٰ
qāla rabbunā alladhī aʿṭā kulla shayin khalqahu thumma hadā
موسیٰؑ نے جواب دیا”ہمارا ربّ وہ 1 ہے جس نے ہر چیز کو اُس کی ساخت بخشی، پھر اس کو راستہ بتایا۔“ 2
قَالَ فَمَا بَالُ ٱلْقُرُونِ ٱلْأُولَىٰ
qāla famā bālu l-qurūni l-ūlā
فرعون بولا”اور پہلے جو نسلیں گزر چکیں ہیں ان کی پھر کیا حالت تھی؟“ 1
قَالَ عِلْمُهَا عِندَ رَبِّى فِى كِتَـٰبٍۢ ۖ لَّا يَضِلُّ رَبِّى وَلَا يَنسَى
qāla ʿil'muhā ʿinda rabbī fī kitābin lā yaḍillu rabbī walā yansā
موسیٰؑ نے کہا”اُس کا علم میرے ربّ کے پاس ایک نوشتے میں محفوظ ہے۔ میرا ربّ نہ چُوکتا ہے نہ بھُولتا ہے۔“ 1
ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ مَهْدًۭا وَسَلَكَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًۭا وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَخْرَجْنَا بِهِۦٓ أَزْوَٰجًۭا مِّن نَّبَاتٍۢ شَتَّىٰ
alladhī jaʿala lakumu l-arḍa mahdan wasalaka lakum fīhā subulan wa-anzala mina l-samāi māan fa-akhrajnā bihi azwājan min nabātin shattā
1 وہی جس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، اور اُس میں تمہارے چلنے کو راستےبنائے، اور اوپر سے پانی برسایا، پھر اُس کے ذریعہ سے مختلف اقسام کی پیداوار نکالی
كُلُوا۟ وَٱرْعَوْا۟ أَنْعَـٰمَكُمْ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّأُو۟لِى ٱلنُّهَىٰ
kulū wa-ir'ʿaw anʿāmakum inna fī dhālika laāyātin li-ulī l-nuhā
کھاوٴ اور اپنے جانوروں کو بھی چراوٴ۔ یقیناً اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کے لیے۔ 1
۞ مِنْهَا خَلَقْنَـٰكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ
min'hā khalaqnākum wafīhā nuʿīdukum wamin'hā nukh'rijukum tāratan ukh'rā
اِس زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے ، اِسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔ 1
وَلَقَدْ أَرَيْنَـٰهُ ءَايَـٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَأَبَىٰ
walaqad araynāhu āyātinā kullahā fakadhaba wa-abā
ہم نے فرعون کو اپنی سب ہی نشانیاں 1 دکھائیں مگر وہ جھٹلائے چلا گیا اور نہ مانا
قَالَ أَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ أَرْضِنَا بِسِحْرِكَ يَـٰمُوسَىٰ
qāla aji'tanā litukh'rijanā min arḍinā bisiḥ'rika yāmūsā
کہنے لگا”اے موسیٰؑ ، کیا تُو ہمارے پاس اِس لیے آیا ہے کہ اپنے جادُو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرے؟ 1
فَلَنَأْتِيَنَّكَ بِسِحْرٍۢ مِّثْلِهِۦ فَٱجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مَوْعِدًۭا لَّا نُخْلِفُهُۥ نَحْنُ وَلَآ أَنتَ مَكَانًۭا سُوًۭى
falanatiyannaka bisiḥ'rin mith'lihi fa-ij'ʿal baynanā wabaynaka mawʿidan lā nukh'lifuhu naḥnu walā anta makānan suwan
اچھا، ہم بھی تیرے مقابلے میں ویساہی جادو لاتے ہیں طے کر لے کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے نہ ہم اِس قرارداد سے پھریں گے نہ تو پھریو کھُلے میدان میں سامنے آ جا"
قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ ٱلزِّينَةِ وَأَن يُحْشَرَ ٱلنَّاسُ ضُحًۭى
qāla mawʿidukum yawmu l-zīnati wa-an yuḥ'shara l-nāsu ḍuḥan
موسیٰؑ نے کہا”جشن کا دن طے ہوا، اور دن چڑھے لوگ جمع ہوں۔“ 1
فَتَوَلَّىٰ فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَيْدَهُۥ ثُمَّ أَتَىٰ
fatawallā fir'ʿawnu fajamaʿa kaydahu thumma atā
فرعون نے پلٹ کر اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کیے اور مقابلے میں آگیا۔ 1
قَالَ لَهُم مُّوسَىٰ وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًۭا فَيُسْحِتَكُم بِعَذَابٍۢ ۖ وَقَدْ خَابَ مَنِ ٱفْتَرَىٰ
qāla lahum mūsā waylakum lā taftarū ʿalā l-lahi kadhiban fayus'ḥitakum biʿadhābin waqad khāba mani if'tarā
موسیٰؑ نے (عین موقع پر گروہِ مقابل کو مخاطب کر کے)1 کہا”شامت کے مارو، نہ جھُوٹی تہمتیں باندھو اللہ پر، 2 ورنہ وہ ایک سخت عذاب سے تمہارا ستیا ناس کر دے گا۔ جُھوٹ جس نے بھی گھڑا وہ نامراد ہوا۔“
فَتَنَـٰزَعُوٓا۟ أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ وَأَسَرُّوا۟ ٱلنَّجْوَىٰ
fatanāzaʿū amrahum baynahum wa-asarrū l-najwā
یہ سُن کر اُن کے درمیان اختلافِ رائے ہوگیا اور وہ چُپکے چُپکے باہم مشورہ کرنے لگے۔ 1
قَالُوٓا۟ إِنْ هَـٰذَٰنِ لَسَـٰحِرَٰنِ يُرِيدَانِ أَن يُخْرِجَاكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِمَا وَيَذْهَبَا بِطَرِيقَتِكُمُ ٱلْمُثْلَىٰ
qālū in hādhāni lasāḥirāni yurīdāni an yukh'rijākum min arḍikum bisiḥ'rihimā wayadhhabā biṭarīqatikumu l-muth'lā
آخر کار کچھ لوگوں نے کہا کہ”1 یہ دونوں تو محض جادُو گر ہیں۔ اِن کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادُو کے زور سے تم کو تمہاری زمین سے بے دخل کر دیں اور تمہارے مثالی طریقِ زندگی کا خاتمہ کر دیں۔ 2
فَأَجْمِعُوا۟ كَيْدَكُمْ ثُمَّ ٱئْتُوا۟ صَفًّۭا ۚ وَقَدْ أَفْلَحَ ٱلْيَوْمَ مَنِ ٱسْتَعْلَىٰ
fa-ajmiʿū kaydakum thumma i'tū ṣaffan waqad aflaḥa l-yawma mani is'taʿlā
اپنی ساری تدبیریں آج اکٹھی کر لو اور ایکا کر کے میدان میں آوٴ۔ 1 بس یہ سمجھ لو کہ آج جو غالب رہا وہی جیت گیا۔“
قَالُوا۟ يَـٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَىٰ
qālū yāmūsā immā an tul'qiya wa-immā an nakūna awwala man alqā
جادُو گر 1 بولے”موسیٰؑ ، تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں؟“
قَالَ بَلْ أَلْقُوا۟ ۖ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ
qāla bal alqū fa-idhā ḥibāluhum waʿiṣiyyuhum yukhayyalu ilayhi min siḥ'rihim annahā tasʿā
موسیٰؑ نے کہا”نہیں، تم ہی پھینکو۔“یکایک اُن کی رسّیاں اور اُن کی لاٹھیاں اُن کے جادُو کے زور سے موسیٰؑ کو دوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں، 1
فَأَوْجَسَ فِى نَفْسِهِۦ خِيفَةًۭ مُّوسَىٰ
fa-awjasa fī nafsihi khīfatan mūsā
اور موسیٰؑ اپنے دل میں ڈر گیا۔ 1
قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْأَعْلَىٰ
qul'nā lā takhaf innaka anta l-aʿlā
ہم نے کہا "مت ڈر، تو ہی غالب رہے گا
وَأَلْقِ مَا فِى يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوٓا۟ ۖ إِنَّمَا صَنَعُوا۟ كَيْدُ سَـٰحِرٍۢ ۖ وَلَا يُفْلِحُ ٱلسَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ
wa-alqi mā fī yamīnika talqaf mā ṣanaʿū innamā ṣanaʿū kaydu sāḥirin walā yuf'liḥu l-sāḥiru ḥaythu atā
پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے، ابھی اِن کی ساری بناوٹی چیزوں کو نِگلے جاتا ہے۔ 1 یہ جو کچھ بنا کر لائے ہیں یہ تو جادُو گر کا فریب ہے، اور جادُوگر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، خواہ کسی شان سے وہ آئے۔“
فَأُلْقِىَ ٱلسَّحَرَةُ سُجَّدًۭا قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِرَبِّ هَـٰرُونَ وَمُوسَىٰ
fa-ul'qiya l-saḥaratu sujjadan qālū āmannā birabbi hārūna wamūsā
آخر کو یہی ہوا کہ سارے جادُو گر سجدے میں گِرا دیے گئے 1 اور پُکار اُٹھے”مان لیا ہم نے ہارونؑ اور موسیٰؑ کے ربّ کو۔“ 2
قَالَ ءَامَنتُمْ لَهُۥ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّهُۥ لَكَبِيرُكُمُ ٱلَّذِى عَلَّمَكُمُ ٱلسِّحْرَ ۖ فَلَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَـٰفٍۢ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِى جُذُوعِ ٱلنَّخْلِ وَلَتَعْلَمُنَّ أَيُّنَآ أَشَدُّ عَذَابًۭا وَأَبْقَىٰ
qāla āmantum lahu qabla an ādhana lakum innahu lakabīrukumu alladhī ʿallamakumu l-siḥ'ra fala-uqaṭṭiʿanna aydiyakum wa-arjulakum min khilāfin wala-uṣallibannakum fī judhūʿi l-nakhli walataʿlamunna ayyunā ashaddu ʿadhāban wa-abqā
فرعون نے کہا”تم ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اس کی اجازت دیتا؟ معلوم ہوگیا کہ یہ تمہارا گُرو ہے جس نے تمہیں جادُوگری سکھائی تھی۔ 1 اچھا، اب میں تمہارے ہاتھ پاوٴں مخالف سمتوں سے کٹواتا ہوں 2 اور کھجور کے تنوں پر تم کو سُولی دیتا ہوں۔ 3 پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے 4“ (یعنی میں تمہیں زیادہ سخت سزا دے سکتا ہوں یا موسیٰؑ)
قَالُوا۟ لَن نُّؤْثِرَكَ عَلَىٰ مَا جَآءَنَا مِنَ ٱلْبَيِّنَـٰتِ وَٱلَّذِى فَطَرَنَا ۖ فَٱقْضِ مَآ أَنتَ قَاضٍ ۖ إِنَّمَا تَقْضِى هَـٰذِهِ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَآ
qālū lan nu'thiraka ʿalā mā jāanā mina l-bayināti wa-alladhī faṭaranā fa-iq'ḍi mā anta qāḍin innamā taqḍī hādhihi l-ḥayata l-dun'yā
جادُوگروں نے جواب دیا”قسم ہے اُس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے ، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہم روشن نشانیاں سامنے آجانے کے بعدبھی (صداقت پر)تجھے ترجیح دیں۔ 1 تُوجو کچھ کرنا چاہے کرلے۔ تُو زیادہ سے زیادہ بس اِسی دنیا کی زندگی کا فیصلہ کر سکتا ہے
إِنَّآ ءَامَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَـٰيَـٰنَا وَمَآ أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ ٱلسِّحْرِ ۗ وَٱللَّهُ خَيْرٌۭ وَأَبْقَىٰٓ
innā āmannā birabbinā liyaghfira lanā khaṭāyānā wamā akrahtanā ʿalayhi mina l-siḥ'ri wal-lahu khayrun wa-abqā
ہم تو اپنے رب پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہماری خطائیں معاف کر دے اور اس جادوگری سے، جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا، درگزر فرمائے اللہ ہی اچھا ہے اور وہی باقی رہنے والا ہے"
إِنَّهُۥ مَن يَأْتِ رَبَّهُۥ مُجْرِمًۭا فَإِنَّ لَهُۥ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ
innahu man yati rabbahu muj'riman fa-inna lahu jahannama lā yamūtu fīhā walā yaḥyā
حقیقت 1 یہ ہے کہ جو مجرم بن کر اپنے ربّ کے حضور حاضر ہو گا اُس کے لیے جہنّم ہے جس میں وہ نہ جیے گا نہ مرے گا۔ 2
وَمَن يَأْتِهِۦ مُؤْمِنًۭا قَدْ عَمِلَ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلدَّرَجَـٰتُ ٱلْعُلَىٰ
waman yatihi mu'minan qad ʿamila l-ṣāliḥāti fa-ulāika lahumu l-darajātu l-ʿulā
اور جو اس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہو گا، جس نے نیک عمل کیے ہوں گے، ایسے سب لوگوں کے لیے بلند درجے ہیں
جَنَّـٰتُ عَدْنٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ مَن تَزَكَّىٰ
jannātu ʿadnin tajrī min taḥtihā l-anhāru khālidīna fīhā wadhālika jazāu man tazakkā
سدا بہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ جزا ہے اُس شخص کی جو پاکیزگی اختیار کرے
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَٱضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًۭا فِى ٱلْبَحْرِ يَبَسًۭا لَّا تَخَـٰفُ دَرَكًۭا وَلَا تَخْشَىٰ
walaqad awḥaynā ilā mūsā an asri biʿibādī fa-iḍ'rib lahum ṭarīqan fī l-baḥri yabasan lā takhāfu darakan walā takhshā
ہم 1 نے موسیٰؑ پر وحی کی کہ اب راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ، اور اُن کے لیے سمندر میں سے سُوکھی سڑک بنالے 2 ، تجھے کسی کے تعاقب کا ذرا خوف نہ ہو اور نہ (سمندر کے بیچ سے گزرتے ہوئے)ڈر لگے
فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُودِهِۦ فَغَشِيَهُم مِّنَ ٱلْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْ
fa-atbaʿahum fir'ʿawnu bijunūdihi faghashiyahum mina l-yami mā ghashiyahum
پیچھے سے فرعون اپنے لشکر لے کر پہنچا، اور پھر سمندر اُن پر چھا گیا جیسا کہ چھا جانے کا حق تھا۔ 1
وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُۥ وَمَا هَدَىٰ
wa-aḍalla fir'ʿawnu qawmahu wamā hadā
فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی تھی۔ 1
يَـٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ قَدْ أَنجَيْنَـٰكُم مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَوَٰعَدْنَـٰكُمْ جَانِبَ ٱلطُّورِ ٱلْأَيْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ
yābanī is'rāīla qad anjaynākum min ʿaduwwikum wawāʿadnākum jāniba l-ṭūri l-aymana wanazzalnā ʿalaykumu l-mana wal-salwā
1 اے بنی اسرائیل، ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی، اور طور کے دائیں جانب 2 تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر کیا 3 اور تم پر من و سلویٰ اُتارا 4۔
كُلُوا۟ مِن طَيِّبَـٰتِ مَا رَزَقْنَـٰكُمْ وَلَا تَطْغَوْا۟ فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِى ۖ وَمَن يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِى فَقَدْ هَوَىٰ
kulū min ṭayyibāti mā razaqnākum walā taṭghaw fīhi fayaḥilla ʿalaykum ghaḍabī waman yaḥlil ʿalayhi ghaḍabī faqad hawā
کھاؤ ہمارا دیا ہوا پاک رزق اور اسے کھا کر سرکشی نہ کرو، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا اور جس پر میرا غضب ٹوٹا وہ پھر گر کر ہی رہا
وَإِنِّى لَغَفَّارٌۭ لِّمَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَـٰلِحًۭا ثُمَّ ٱهْتَدَىٰ
wa-innī laghaffārun liman tāba waāmana waʿamila ṣāliḥan thumma ih'tadā
البتہ جو توبہ کر لےاور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھا چلتا رہے، اُس کے لیے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں۔ 1
۞ وَمَآ أَعْجَلَكَ عَن قَوْمِكَ يَـٰمُوسَىٰ
wamā aʿjalaka ʿan qawmika yāmūsā
1 اور کیا چیز تمہیں اپنی قوم سے پہلے لے آئی موسیٰؑ ؟ 2
قَالَ هُمْ أُو۟لَآءِ عَلَىٰٓ أَثَرِى وَعَجِلْتُ إِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضَىٰ
qāla hum ulāi ʿalā atharī waʿajil'tu ilayka rabbi litarḍā
اُس نے عرض کیا " وہ بس میرے پیچھے آ ہی رہے ہیں میں جلدی کر کے تیرے حضور آ گیا ہوں اے میرے رب، تاکہ تو مجھ سے خوش ہو جائے"
قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنۢ بَعْدِكَ وَأَضَلَّهُمُ ٱلسَّامِرِىُّ
qāla fa-innā qad fatannā qawmaka min baʿdika wa-aḍallahumu l-sāmiriyu
فرمایا”اچھا، تو سُنو، ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں دال دیا اور سامری 1 نے اُنہیں گمراہ کر ڈالا۔“
فَرَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوْمِهِۦ غَضْبَـٰنَ أَسِفًۭا ۚ قَالَ يَـٰقَوْمِ أَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا ۚ أَفَطَالَ عَلَيْكُمُ ٱلْعَهْدُ أَمْ أَرَدتُّمْ أَن يَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَخْلَفْتُم مَّوْعِدِى
farajaʿa mūsā ilā qawmihi ghaḍbāna asifan qāla yāqawmi alam yaʿid'kum rabbukum waʿdan ḥasanan afaṭāla ʿalaykumu l-ʿahdu am aradttum an yaḥilla ʿalaykum ghaḍabun min rabbikum fa-akhlaftum mawʿidī
موسیٰؑ سخت غصے اور رنج کی حالت میں اپنی قوم کی طرف پلٹا۔ جا کر اُس نے کہا ”اے میری قوم کے لوگو، کیا تمہارے ربّ نے تم سے اچھے وعدے نہیں کیے تھے؟ 1 کیا تمہیں دن لگ گئے ہیں؟ 2 یا تم اپنے ربّ کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟“ 3
قَالُوا۟ مَآ أَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَلَـٰكِنَّا حُمِّلْنَآ أَوْزَارًۭا مِّن زِينَةِ ٱلْقَوْمِ فَقَذَفْنَـٰهَا فَكَذَٰلِكَ أَلْقَى ٱلسَّامِرِىُّ
qālū mā akhlafnā mawʿidaka bimalkinā walākinnā ḥummil'nā awzāran min zīnati l-qawmi faqadhafnāhā fakadhālika alqā l-sāmiriyu
انہوں نے جواب دیا”ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی، معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لَد گئے تھے اور ہم نے بس اُن کو پھینک دیا تھا“ 1۔۔۔۔ 2 پھر اِسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا
فَأَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًۭا جَسَدًۭا لَّهُۥ خُوَارٌۭ فَقَالُوا۟ هَـٰذَآ إِلَـٰهُكُمْ وَإِلَـٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِىَ
fa-akhraja lahum ʿij'lan jasadan lahu khuwārun faqālū hādhā ilāhukum wa-ilāhu mūsā fanasiya
اور ان کے لیے ایک بچھڑے کی مورت بنا کر نکال لایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی لوگ پکار اٹھے "یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰؑ کا خدا، موسیٰؑ اسے بھول گیا"
أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًۭا وَلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّۭا وَلَا نَفْعًۭا
afalā yarawna allā yarjiʿu ilayhim qawlan walā yamliku lahum ḍarran walā nafʿan
کیا وہ نہ دیکھتے تھے کہ نہ وہ اُن کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے؟
وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَـٰرُونُ مِن قَبْلُ يَـٰقَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِۦ ۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ ٱلرَّحْمَـٰنُ فَٱتَّبِعُونِى وَأَطِيعُوٓا۟ أَمْرِى
walaqad qāla lahum hārūnu min qablu yāqawmi innamā futintum bihi wa-inna rabbakumu l-raḥmānu fa-ittabiʿūnī wa-aṭīʿū amrī
ہارونؑ (موسیٰؑ کے آنے سے) پہلے ہی ان سے کہہ چکا تھا کہ "لوگو، تم اِس کی وجہ سے فتنے میں پڑ گئے ہو، تمہارا رب تو رحمٰن ہے، پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو"
قَالُوا۟ لَن نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عَـٰكِفِينَ حَتَّىٰ يَرْجِعَ إِلَيْنَا مُوسَىٰ
qālū lan nabraḥa ʿalayhi ʿākifīna ḥattā yarjiʿa ilaynā mūsā
مگر اُنہوں نے اُس سے کہہ دیا کہ”ہم تو اسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسیٰؑ واپس نہ آجائے۔“ 1
قَالَ يَـٰهَـٰرُونُ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوٓا۟
qāla yāhārūnu mā manaʿaka idh ra-aytahum ḍallū
موسیٰؑ (قوم کو ڈانٹنے کے بعد ہارونؑ کی طرف پلٹا اور) بولا "ہارونؑ، تم نے جب دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں
أَلَّا تَتَّبِعَنِ ۖ أَفَعَصَيْتَ أَمْرِى
allā tattabiʿani afaʿaṣayta amrī
تو کس چیز نے تمہارا ہاتھ پکڑا تھا کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو؟ کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی؟“ 1
قَالَ يَبْنَؤُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِى وَلَا بِرَأْسِىٓ ۖ إِنِّى خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِى
qāla yabna-umma lā takhudh biliḥ'yatī walā birasī innī khashītu an taqūla farraqta bayna banī is'rāīla walam tarqub qawlī
ہارونؑ نے جواب دیا”اے میری ماں کے بیٹے، میری ڈاڑھی نہ پکڑ، نہ میرے سر کے بال کھینچ، 1 مجھے اِس بات کا ڈر تھا کہ تُو آکر کہے گا تم نے بنی اسرائیل میں پھُوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا۔“ 2
قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يَـٰسَـٰمِرِىُّ
qāla famā khaṭbuka yāsāmiriyyu
موسیٰؑ نے کہا "اور سامری، تیرا کیا معاملہ ہے؟"
قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا۟ بِهِۦ فَقَبَضْتُ قَبْضَةًۭ مِّنْ أَثَرِ ٱلرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَٰلِكَ سَوَّلَتْ لِى نَفْسِى
qāla baṣur'tu bimā lam yabṣurū bihi faqabaḍtu qabḍatan min athari l-rasūli fanabadhtuhā wakadhālika sawwalat lī nafsī
اس نے جواب دیا”میں نے وہ چیز دیکھی جو اِن لوگوں کو نظر نہ آئی، پس میں نے رسُول کے نقشِ قدم سے ایک مٹھی اُٹھا لی اور اُس کو ڈال دیا۔ میرے نفس نے مجھے کچھ ایسا ہی سُجھایا۔“ 1
قَالَ فَٱذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ فِى ٱلْحَيَوٰةِ أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَ ۖ وَإِنَّ لَكَ مَوْعِدًۭا لَّن تُخْلَفَهُۥ ۖ وَٱنظُرْ إِلَىٰٓ إِلَـٰهِكَ ٱلَّذِى ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًۭا ۖ لَّنُحَرِّقَنَّهُۥ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُۥ فِى ٱلْيَمِّ نَسْفًا
qāla fa-idh'hab fa-inna laka fī l-ḥayati an taqūla lā misāsa wa-inna laka mawʿidan lan tukh'lafahu wa-unẓur ilā ilāhika alladhī ẓalta ʿalayhi ʿākifan lanuḥarriqannahu thumma lanansifannahu fī l-yami nasfan
موسیٰؑ نے کہا”اچھا تو جا، اب زندگی بھر تجھے یہی پُکارتے رہنا ہے کہ مجھے نہ چھُونا۔ 1 اور تیرے لیے باز پُرس کا ایک وقت مقرر ہے جو تجھ سے ہر گز نہ ٹلے گا۔ اور دیکھ اپنے اِس خدا کو جس پر تُو ریجھا ہوا تھا، اب ہم اسے جلا ڈالیں گے اور ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہا دیں گے
إِنَّمَآ إِلَـٰهُكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ وَسِعَ كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًۭا
innamā ilāhukumu l-lahu alladhī lā ilāha illā huwa wasiʿa kulla shayin ʿil'man
لوگو، تمہارا خدا تو بس ایک ہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے، ہر چیز پر اُس کا علم حاوی ہے"
كَذَٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ ۚ وَقَدْ ءَاتَيْنَـٰكَ مِن لَّدُنَّا ذِكْرًۭا
kadhālika naquṣṣu ʿalayka min anbāi mā qad sabaqa waqad ātaynāka min ladunnā dhik'ran
اے محمدؐ، 1 اس طرح ہم پچھلے گزرے ہوئے حالات کی خبریں تم کو سُناتے ہیں، اور ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو ایک”ذِکر“ (درسِ نصیحت)عطا کیا ہے۔ 2
مَّنْ أَعْرَضَ عَنْهُ فَإِنَّهُۥ يَحْمِلُ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ وِزْرًا
man aʿraḍa ʿanhu fa-innahu yaḥmilu yawma l-qiyāmati wiz'ran
جو کوئی اِس سے منہ موڑے گا وہ قیامت کے دن سخت بار گناہ اٹھائے گا
خَـٰلِدِينَ فِيهِ ۖ وَسَآءَ لَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ حِمْلًۭا
khālidīna fīhi wasāa lahum yawma l-qiyāmati ḥim'lan
اور ایسے سب لوگ ہمیشہ اس کے وبال میں گرفتار رہیں گے،اور قیامت کے دن اُن کےلیے (اِس جرم کی ذمّہ داری کا بوجھ)بڑا تکلیف دہ بوجھ ہوگا، 1
يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ ۚ وَنَحْشُرُ ٱلْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍۢ زُرْقًۭا
yawma yunfakhu fī l-ṣūri wanaḥshuru l-muj'rimīna yawma-idhin zur'qan
اُس دن جبکہ صُور پھُونکا جائے گا 1 اور ہم مجرموں کو اِس حال میں گھیر لائیں گے کہ ان کی آنکھیں (دہشت کے مارے)پتھرائی ہوئی ہوں گی، 2
يَتَخَـٰفَتُونَ بَيْنَهُمْ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا عَشْرًۭا
yatakhāfatūna baynahum in labith'tum illā ʿashran
آپس میں چُپکےچُپکے کہیں گے کہ دُنیا میں مشکل ہی سے تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے 1
نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًۭا
naḥnu aʿlamu bimā yaqūlūna idh yaqūlu amthaluhum ṭarīqatan in labith'tum illā yawman
1 ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ باتیں کر رہے ہوں گے (ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ)اُس وقت ان میں سے جو زیادہ سے زیادہ محتاط اندازہ لگانے والا ہوگا وہ کہے گا کہ نہیں، تمہاری دنیا کی زندگی بس ایک دن کی زندگی تھی
وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّى نَسْفًۭا
wayasalūnaka ʿani l-jibāli faqul yansifuhā rabbī nasfan
1 یہ لوگ تم سے پُوچھتے ہیں کہ آخر اُس دن یہ پہاڑ کہاں چلے جائیں گے؟ کہو کہ میرا ربّ ان کو دُھول بنا کر اُڑا دے گا
فَيَذَرُهَا قَاعًۭا صَفْصَفًۭا
fayadharuhā qāʿan ṣafṣafan
اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا
لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًۭا وَلَآ أَمْتًۭا
lā tarā fīhā ʿiwajan walā amtan
کہ اس میں تم کوئی بَل اور سَلوَٹ نہ دیکھو گے 1
يَوْمَئِذٍۢ يَتَّبِعُونَ ٱلدَّاعِىَ لَا عِوَجَ لَهُۥ ۖ وَخَشَعَتِ ٱلْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَـٰنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًۭا
yawma-idhin yattabiʿūna l-dāʿiya lā ʿiwaja lahu wakhashaʿati l-aṣwātu lilrraḥmāni falā tasmaʿu illā hamsan
اُس روز سب لوگ منادی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے، کوئی ذرا اکڑ نہ دکھا سکے گا۔ اور آوازیں رحمٰن کے آگے دب جائیں گی، ایک سرسراہٹ 1 کے سوا تم کچھ نہ سُنو گے
يَوْمَئِذٍۢ لَّا تَنفَعُ ٱلشَّفَـٰعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحْمَـٰنُ وَرَضِىَ لَهُۥ قَوْلًۭا
yawma-idhin lā tanfaʿu l-shafāʿatu illā man adhina lahu l-raḥmānu waraḍiya lahu qawlan
اُس روز شفاعت کار گر نہ ہوگی اِلّا یہ کہ کسی کو رحمٰن اس کی اجازت دے اور اس کی بات سُننا پسند کرے 1
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِۦ عِلْمًۭا
yaʿlamu mā bayna aydīhim wamā khalfahum walā yuḥīṭūna bihi ʿil'man
وہ لوگوں کا اگلا پچھلا سب حال جانتا ہے اور دُوسروں کو اس کا پورا علم نہیں ہے 1
۞ وَعَنَتِ ٱلْوُجُوهُ لِلْحَىِّ ٱلْقَيُّومِ ۖ وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًۭا
waʿanati l-wujūhu lil'ḥayyi l-qayūmi waqad khāba man ḥamala ẓul'man
لوگوں کے سر اُس حیّ و قیّوم کے آگے جھک جائیں گے نامراد ہوگا جو اُس وقت کسی ظلم کا بار گناہ اٹھائے ہوئے ہو
وَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَلَا يَخَافُ ظُلْمًۭا وَلَا هَضْمًۭا
waman yaʿmal mina l-ṣāliḥāti wahuwa mu'minun falā yakhāfu ẓul'man walā haḍman
اور کسی ظلم یا حق تلفی کا خطرہ نہ ہوگا اُس شخص کو جو نیک عمل کرے اور اِس کے ساتھ وہ مومن بھی ہو۔ 1
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَـٰهُ قُرْءَانًا عَرَبِيًّۭا وَصَرَّفْنَا فِيهِ مِنَ ٱلْوَعِيدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ أَوْ يُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًۭا
wakadhālika anzalnāhu qur'ānan ʿarabiyyan waṣarrafnā fīhi mina l-waʿīdi laʿallahum yattaqūna aw yuḥ'dithu lahum dhik'ran
اور اے محمدؐ ، اِسی طرح ہم نے اِسے قرآنِ عربی بنا کر نازل کیا ہے 1 اور اس میں طرح طرح سے تنبیہات کی ہیں شاید کہ یہ لوگ کج روی سے بچیں یا ان میں کچھ ہو کے آثار اِس کی بدولت پیدا ہوں۔ 2
فَتَعَـٰلَى ٱللَّهُ ٱلْمَلِكُ ٱلْحَقُّ ۗ وَلَا تَعْجَلْ بِٱلْقُرْءَانِ مِن قَبْلِ أَن يُقْضَىٰٓ إِلَيْكَ وَحْيُهُۥ ۖ وَقُل رَّبِّ زِدْنِى عِلْمًۭا
fataʿālā l-lahu l-maliku l-ḥaqu walā taʿjal bil-qur'āni min qabli an yuq'ḍā ilayka waḥyuhu waqul rabbi zid'nī ʿil'man
پس بالا و برتر ہے اللہ ، پادشاہِ حقیقی۔ 1 اور دیکھو، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو جب تک کہ تمہاری طرف اُس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے، اور دُعا کرو کہ اے پروردگار مجھے مزید علم عطا کر۔ 2
وَلَقَدْ عَهِدْنَآ إِلَىٰٓ ءَادَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِىَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُۥ عَزْمًۭا
walaqad ʿahid'nā ilā ādama min qablu fanasiya walam najid lahu ʿazman
1 ہم نے اِس سے پہلے آدمؑ کو ایک حکم دیا تھا، 2 مگر وہ بھُول گیا اور ہم نے اُس میں عزم نہ پایا۔ 3
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَـٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِـَٔادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ أَبَىٰ
wa-idh qul'nā lil'malāikati us'judū liādama fasajadū illā ib'līsa abā
یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو وہ سب تو سجدہ کر گئے، مگر ایک ابلیس تھا کہ انکار کر بیٹھا
فَقُلْنَا يَـٰٓـَٔادَمُ إِنَّ هَـٰذَا عَدُوٌّۭ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ ٱلْجَنَّةِ فَتَشْقَىٰٓ
faqul'nā yāādamu inna hādhā ʿaduwwun laka walizawjika falā yukh'rijannakumā mina l-janati fatashqā
اس پر ہم نے آدمؑ 1 سے کہا کہ ”دیکھو، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے 2 ، ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنّت سے نکلوا دے 3 اور تم مصیبت میں پڑ جاو
إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعْرَىٰ
inna laka allā tajūʿa fīhā walā taʿrā
یہاں تو تمہیں یہ آسائشیں حاصل ہیں کہ نہ بھوکے ننگے رہتے ہو
وَأَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا۟ فِيهَا وَلَا تَضْحَىٰ
wa-annaka lā taẓma-u fīhā walā taḍḥā
نہ پیاس اور دُھوپ تمہیں ستاتی ہے۔“ 1
فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ ٱلشَّيْطَـٰنُ قَالَ يَـٰٓـَٔادَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ ٱلْخُلْدِ وَمُلْكٍۢ لَّا يَبْلَىٰ
fawaswasa ilayhi l-shayṭānu qāla yāādamu hal adulluka ʿalā shajarati l-khul'di wamul'kin lā yablā
لیکن شیطان نے اس کو پھُسلایا۔ 1 کہنے لگا ”آدم ، بتاوٴں تمہیں وہ درخت جس سے ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے؟“ 2
فَأَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْءَٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ ٱلْجَنَّةِ ۚ وَعَصَىٰٓ ءَادَمُ رَبَّهُۥ فَغَوَىٰ
fa-akalā min'hā fabadat lahumā sawātuhumā waṭafiqā yakhṣifāni ʿalayhimā min waraqi l-janati waʿaṣā ādamu rabbahu faghawā
آخر کار دونوں(میاں بیوی)اُس درخت کا پھل کھاگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ فوراً ہی اُن کے ستر ایک دوسرے کے آگے کھُل گئے اور لگے دونوں اپنے آپ کو جنّت کے پتّوں سے ڈھانکنے۔ 1 آدمؑ نے اپنے ربّ کی نافرمانی کی اور راہِ راست سے بھٹک گیا۔ 2
ثُمَّ ٱجْتَبَـٰهُ رَبُّهُۥ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَىٰ
thumma ij'tabāhu rabbuhu fatāba ʿalayhi wahadā
پھر اُس کے ربّ نے اُسے برگزیدہ کیا 1 اور اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے ہدایت بخشی۔ 2
قَالَ ٱهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًۢا ۖ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۭ ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّى هُدًۭى فَمَنِ ٱتَّبَعَ هُدَاىَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ
qāla ih'biṭā min'hā jamīʿan baʿḍukum libaʿḍin ʿaduwwun fa-immā yatiyannakum minnī hudan famani ittabaʿa hudāya falā yaḍillu walā yashqā
اور فرمایا "تم دونوں (فریق، یعنی انسان اور شیطان) یہاں سے اتر جاؤ تم ایک دُوسرے کے دشمن رہو گے اب اگر میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری اُس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بد بختی میں مبتلا ہو گا
وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِى فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةًۭ ضَنكًۭا وَنَحْشُرُهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ أَعْمَىٰ
waman aʿraḍa ʿan dhik'rī fa-inna lahu maʿīshatan ḍankan wanaḥshuruhu yawma l-qiyāmati aʿmā
اور جو میرے”ذکر“(درسِ نصیحت)سے منہ موڑے گا اُس کے لیے دُنیا میں تنگ زندگی ہوگی 1 اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اُٹھائیں گے۔“ 2
قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِىٓ أَعْمَىٰ وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًۭا
qāla rabbi lima ḥashartanī aʿmā waqad kuntu baṣīran
وہ کہے گا "پروردگار، دُنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں اُٹھایا؟"
قَالَ كَذَٰلِكَ أَتَتْكَ ءَايَـٰتُنَا فَنَسِيتَهَا ۖ وَكَذَٰلِكَ ٱلْيَوْمَ تُنسَىٰ
qāla kadhālika atatka āyātunā fanasītahā wakadhālika l-yawma tunsā
اللہ تعالیٰ فرمائے گا”ہاں، اِسی طرح تو ہماری آیات کو ، جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں ، تُو نے بُھلا دیا تھا۔ اُسی طرح آج تُو بھلایا جا رہا ہے۔“ 1
وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى مَنْ أَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِنۢ بِـَٔايَـٰتِ رَبِّهِۦ ۚ وَلَعَذَابُ ٱلْـَٔاخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبْقَىٰٓ
wakadhālika najzī man asrafa walam yu'min biāyāti rabbihi walaʿadhābu l-ākhirati ashaddu wa-abqā
اِس طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے ربّ کی آیات نہ ماننے والے کو (دُنیا میں)بدلہ دیتے ہیں ، 1 اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے
أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّنَ ٱلْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَـٰكِنِهِمْ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّأُو۟لِى ٱلنُّهَىٰ
afalam yahdi lahum kam ahlaknā qablahum mina l-qurūni yamshūna fī masākinihim inna fī dhālika laāyātin li-ulī l-nuhā
پھر کیا اِن لوگوں کو 1 (تاریخ کے اِس سبق سے)کوئی ہدایت نہ ملی کہ اِن سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کی (بربادشدہ)بستیوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں؟ درحقیقت اِس میں 2 بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کےلیےجو عقلِ سلیم رکھنے والے ہیں
وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًۭا وَأَجَلٌۭ مُّسَمًّۭى
walawlā kalimatun sabaqat min rabbika lakāna lizāman wa-ajalun musamman
اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ایک بات طے نہ کر دی گئی ہوتی اور مہلت کی ایک مدّت مقرّر نہ کی جا چکی ہوتی تو ضرور اِن کا بھی فیصلہ چکا دیا جاتا
فَٱصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ ٱلشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ۖ وَمِنْ ءَانَآئِ ٱلَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ ٱلنَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَىٰ
fa-iṣ'bir ʿalā mā yaqūlūna wasabbiḥ biḥamdi rabbika qabla ṭulūʿi l-shamsi waqabla ghurūbihā wamin ānāi al-layli fasabbiḥ wa-aṭrāfa l-nahāri laʿallaka tarḍā
پس اے محمدؐ ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اُن پر صبر کرو، اور اپنےربّ کی حمد و ثنا کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو سُورج نکلنے سے پہلے اور غرُوب ہونے سے پہلے، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی، 1 شاید کہ تم راضی ہو جاوٴ۔ 2
وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِۦٓ أَزْوَٰجًۭا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌۭ وَأَبْقَىٰ
walā tamuddanna ʿaynayka ilā mā mattaʿnā bihi azwājan min'hum zahrata l-ḥayati l-dun'yā linaftinahum fīhi wariz'qu rabbika khayrun wa-abqā
اور نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھو دُنیوی زندگی کی اُس شان و شوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے۔وہ تو ہم نے اُنہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہے، اور تیرے ربّ کا دیا ہوا رزقِ حلال 1 ہی بہتر اور پائندہ تر ہے
وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۖ لَا نَسْـَٔلُكَ رِزْقًۭا ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَٱلْعَـٰقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ
wamur ahlaka bil-ṣalati wa-iṣ'ṭabir ʿalayhā lā nasaluka riz'qan naḥnu narzuquka wal-ʿāqibatu lilttaqwā
اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو 1 اور خود بھی اُس کے پابند رہو۔ ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں۔ اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لیے ہے۔ 2
وَقَالُوا۟ لَوْلَا يَأْتِينَا بِـَٔايَةٍۢ مِّن رَّبِّهِۦٓ ۚ أَوَلَمْ تَأْتِهِم بَيِّنَةُ مَا فِى ٱلصُّحُفِ ٱلْأُولَىٰ
waqālū lawlā yatīnā biāyatin min rabbihi awalam tatihim bayyinatu mā fī l-ṣuḥufi l-ūlā
وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص اپنے ربّ کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ)کیوں نہیں لاتا؟ اور کیا ان کے پاس اگلے صحیفوں کی تمام تعلیمات کا بیانِ واضح نہیں آگیا؟ 1
وَلَوْ أَنَّآ أَهْلَكْنَـٰهُم بِعَذَابٍۢ مِّن قَبْلِهِۦ لَقَالُوا۟ رَبَّنَا لَوْلَآ أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًۭا فَنَتَّبِعَ ءَايَـٰتِكَ مِن قَبْلِ أَن نَّذِلَّ وَنَخْزَىٰ
walaw annā ahlaknāhum biʿadhābin min qablihi laqālū rabbanā lawlā arsalta ilaynā rasūlan fanattabiʿa āyātika min qabli an nadhilla wanakhzā
اگر ہم اُس کے آنے سے پہلے اِن کو کسی عذاب سے ہلاک کر دیتے تو پھر یہی لوگ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار، تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے ہی ہم تیری آیات کی پیروی اختیار کر لیتے
قُلْ كُلٌّۭ مُّتَرَبِّصٌۭ فَتَرَبَّصُوا۟ ۖ فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ أَصْحَـٰبُ ٱلصِّرَٰطِ ٱلسَّوِىِّ وَمَنِ ٱهْتَدَىٰ
qul kullun mutarabbiṣun fatarabbaṣū fasataʿlamūna man aṣḥābu l-ṣirāṭi l-sawiyi wamani ih'tadā
اے محمدؐ ، اِن سے کہو، ہر ایک انجامِ کار کے انتظار میں ہے، 1 پس اب منتظر رہو، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون سیدھی راہ چلنے والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ ہیں