14

إبراهيم

Ibrahim

Abraham

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
آیات 52
پارہ 13
صفحہ 255-261
قسم مکی
نزول کی ترتیب 72
0:00 / 0:00
آیت: 1 / 52
1

الٓر ۚ كِتَـٰبٌ أَنزَلْنَـٰهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ ٱلنَّاسَ مِنَ ٱلظُّلُمَـٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَمِيدِ

alif-lam-ra kitābun anzalnāhu ilayka litukh'rija l-nāsa mina l-ẓulumāti ilā l-nūri bi-idh'ni rabbihim ilā ṣirāṭi l-ʿazīzi l-ḥamīdi

ا۔ل۔ر، اے محمد ؐ ، یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاوٴ، ان کے ربّ کی توفیق سے، اُس خدا کے راستے1 پر جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمُود2 ہے

2

ٱللَّهِ ٱلَّذِى لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَوَيْلٌۭ لِّلْكَـٰفِرِينَ مِنْ عَذَابٍۢ شَدِيدٍ

al-lahi alladhī lahu mā fī l-samāwāti wamā fī l-arḍi wawaylun lil'kāfirīna min ʿadhābin shadīdin

اور زمین اور آسمانوں کی ساری موجودات کا مالک ہے اور سخت تباہ کن سزا ہے قبول حق سے انکار کرنے والوں کے لیے

3

ٱلَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا عَلَى ٱلْـَٔاخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ فِى ضَلَـٰلٍۭ بَعِيدٍۢ

alladhīna yastaḥibbūna l-ḥayata l-dun'yā ʿalā l-ākhirati wayaṣuddūna ʿan sabīli l-lahi wayabghūnahā ʿiwajan ulāika fī ḍalālin baʿīdin

جو دُنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں،1 جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ (ان کی خواہشات کے مطابق)ٹیڑھا ہو جائے۔2 یہ لوگ گمراہی میں بہت دُور نکل گئے ہیں

4

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِۦ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۖ فَيُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

wamā arsalnā min rasūlin illā bilisāni qawmihi liyubayyina lahum fayuḍillu l-lahu man yashāu wayahdī man yashāu wahuwa l-ʿazīzu l-ḥakīmu

ہم نے اپنا پیغام دینے کےلیے جب کبھی کوئی رسوُل بھیجا ہے، اُس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ اُنہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے۔1 پھر اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے،2 وہ بالادست اور حکیم ہے۔ 3

5

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَـٰتِنَآ أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ ٱلظُّلُمَـٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ وَذَكِّرْهُم بِأَيَّىٰمِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّكُلِّ صَبَّارٍۢ شَكُورٍۢ

walaqad arsalnā mūsā biāyātinā an akhrij qawmaka mina l-ẓulumāti ilā l-nūri wadhakkir'hum bi-ayyāmi l-lahi inna fī dhālika laāyātin likulli ṣabbārin shakūrin

ہم اِس سے پہلے موسیٰ ؑ کو بھی اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیج چکے ہیں۔ اُسے بھی ہم نے حکم دیا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لا اور انہیں تاریخِ الٰہی1 کے سبق آموز واقعات سُنا کر نصیحت کر۔ اِن واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں2 ہر اُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔3

6

وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ أَنجَىٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ

wa-idh qāla mūsā liqawmihi udh'kurū niʿ'mata l-lahi ʿalaykum idh anjākum min āli fir'ʿawna yasūmūnakum sūa l-ʿadhābi wayudhabbiḥūna abnāakum wayastaḥyūna nisāakum wafī dhālikum balāon min rabbikum ʿaẓīmun

یاد کرو جب موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا "اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ بچا رکھتے تھے اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی

7

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِى لَشَدِيدٌۭ

wa-idh ta-adhana rabbukum la-in shakartum la-azīdannakum wala-in kafartum inna ʿadhābī lashadīdun

اور یاد رکھو، تمہارے ربّ نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے 1تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کُفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔2“

8

وَقَالَ مُوسَىٰٓ إِن تَكْفُرُوٓا۟ أَنتُمْ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا فَإِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِىٌّ حَمِيدٌ

waqāla mūsā in takfurū antum waman fī l-arḍi jamīʿan fa-inna l-laha laghaniyyun ḥamīdun

اور موسیٰؑ ”اگر تم کُفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہو جائیں تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔1“

9

أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَؤُا۟ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوحٍۢ وَعَادٍۢ وَثَمُودَ ۛ وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِمْ ۛ لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا ٱللَّهُ ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَرَدُّوٓا۟ أَيْدِيَهُمْ فِىٓ أَفْوَٰهِهِمْ وَقَالُوٓا۟ إِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ أُرْسِلْتُم بِهِۦ وَإِنَّا لَفِى شَكٍّۢ مِّمَّا تَدْعُونَنَآ إِلَيْهِ مُرِيبٍۢ

alam yatikum naba-u alladhīna min qablikum qawmi nūḥin waʿādin wathamūda wa-alladhīna min baʿdihim lā yaʿlamuhum illā l-lahu jāathum rusuluhum bil-bayināti faraddū aydiyahum fī afwāhihim waqālū innā kafarnā bimā ur'sil'tum bihi wa-innā lafī shakkin mimmā tadʿūnanā ilayhi murībin

کیا تمہیں1 اُن قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں؟ قومِ نوح ؑ ، عاد، ثمود اور ان کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے؟ اُن کے رسول جب اُن کے پاس صاف صاف باتیں اور کھُلی کھُلی نشانیاں لیے ہوئے آئے تو انہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے2 اور کہا کہ”جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اُس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اُس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔3“

10

۞ قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِى ٱللَّهِ شَكٌّۭ فَاطِرِ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ۚ قَالُوٓا۟ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَـٰنٍۢ مُّبِينٍۢ

qālat rusuluhum afī l-lahi shakkun fāṭiri l-samāwāti wal-arḍi yadʿūkum liyaghfira lakum min dhunūbikum wayu-akhirakum ilā ajalin musamman qālū in antum illā basharun mith'lunā turīdūna an taṣuddūnā ʿammā kāna yaʿbudu ābāunā fatūnā bisul'ṭānin mubīnin

اُن کے رسوُلوں نے کہا”کیا خُدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟1 وہ تمہیں بُلا رہا ہے تا کہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدُتِ مقرر تک مہلت دے۔“2 انہوں نے جواب دیا ”تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں۔3 تم ہمیں اُن ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے۔ اچھا تو لاوٴ کوئی صریح سَنَد۔“4

11

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُكُمْ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۖ وَمَا كَانَ لَنَآ أَن نَّأْتِيَكُم بِسُلْطَـٰنٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ

qālat lahum rusuluhum in naḥnu illā basharun mith'lukum walākinna l-laha yamunnu ʿalā man yashāu min ʿibādihi wamā kāna lanā an natiyakum bisul'ṭānin illā bi-idh'ni l-lahi waʿalā l-lahi falyatawakkali l-mu'minūna

ان کے رسولوں نے ان سے کہا”واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے۔1 اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہےکہ تمہیں کوئی سَنَد لا دیں۔ سَنَد تو اللہ ہی کے اِذن سے آسکتی ہے اور اللہ ہی پر اہلِ ایمان کو بھروسہ کرنا چاہیے

12

وَمَا لَنَآ أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى ٱللَّهِ وَقَدْ هَدَىٰنَا سُبُلَنَا ۚ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَآ ءَاذَيْتُمُونَا ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ

wamā lanā allā natawakkala ʿalā l-lahi waqad hadānā subulanā walanaṣbiranna ʿalā mā ādhaytumūnā waʿalā l-lahi falyatawakkali l-mutawakilūna

اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جبکہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے؟ جو اذیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہو اُن پر ہم صبر کریں گے اور بھروسا کرنے والوں کا بھروسا اللہ ہی پر ہونا چاہیے"

13

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُم مِّنْ أَرْضِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِى مِلَّتِنَا ۖ فَأَوْحَىٰٓ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ

waqāla alladhīna kafarū lirusulihim lanukh'rijannakum min arḍinā aw lataʿūdunna fī millatinā fa-awḥā ilayhim rabbuhum lanuh'likanna l-ẓālimīna

آخرِ کار منکرین نے اپنے رسُولوں سے کہہ دیا کہ ”یا تو تمہیں ہماری ملّت میں واپس آنا ہوگا1 ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے۔“ تب اُن کے ربّ نے اُن پر وحی بھیجی کہ ”ہم اِن ظالموں کو ہلاک کر دیں گے

14

وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِهِمْ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِى وَخَافَ وَعِيدِ

walanus'kinannakumu l-arḍa min baʿdihim dhālika liman khāfa maqāmī wakhāfa waʿīdi

اور ان کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے۔1 یہ انعام ہے اس کا جو میرے حضُور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو۔“

15

وَٱسْتَفْتَحُوا۟ وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍۢ

wa-is'taftaḥū wakhāba kullu jabbārin ʿanīdin

اُنہوں نے فیصلہ چاہا تھا (تو یُوں اُن کا فیصلہ ہوا)اور ہر جبّاردشمن ِ حق نے منہ کی کھائی۔1

16

مِّن وَرَآئِهِۦ جَهَنَّمُ وَيُسْقَىٰ مِن مَّآءٍۢ صَدِيدٍۢ

min warāihi jahannamu wayus'qā min māin ṣadīdin

پھر اس کے بعد آگے اس کے لیے جہنم ہے وہاں اُسے کچ لہو کا سا پانی پینے کو دیا جائے گا

17

يَتَجَرَّعُهُۥ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُۥ وَيَأْتِيهِ ٱلْمَوْتُ مِن كُلِّ مَكَانٍۢ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍۢ ۖ وَمِن وَرَآئِهِۦ عَذَابٌ غَلِيظٌۭ

yatajarraʿuhu walā yakādu yusīghuhu wayatīhi l-mawtu min kulli makānin wamā huwa bimayyitin wamin warāihi ʿadhābun ghalīẓun

جسے وہ زبردستی حلق سے اتارنے کی کوشش کرے گا اور مشکل ہی سے اتار سکے گا موت ہر طرف سے اس پر چھائی رہے گی مگر وہ مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک سخت عذاب اس کی جان کا لاگو رہے گا

18

مَّثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ ۖ أَعْمَـٰلُهُمْ كَرَمَادٍ ٱشْتَدَّتْ بِهِ ٱلرِّيحُ فِى يَوْمٍ عَاصِفٍۢ ۖ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا۟ عَلَىٰ شَىْءٍۢ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلضَّلَـٰلُ ٱلْبَعِيدُ

mathalu alladhīna kafarū birabbihim aʿmāluhum karamādin ish'taddat bihi l-rīḥu fī yawmin ʿāṣifin lā yaqdirūna mimmā kasabū ʿalā shayin dhālika huwa l-ḍalālu l-baʿīdu

جن لوگوں نے اپنے ربّ سے کُفر کیا ہے اُن کے اعمال کی مثال اُس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اُڑا دیا ہو۔ وہ اپنے کیے کا کچھ بھی پھل نہ پا سکیں گے۔1 یہی پرلے درجے کی گُم گشتگی ہے

19

أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍۢ جَدِيدٍۢ

alam tara anna l-laha khalaqa l-samāwāti wal-arḍa bil-ḥaqi in yasha yudh'hib'kum wayati bikhalqin jadīdin

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق کو حق پر قائم کیا ہے؟1 وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے

20

وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ بِعَزِيزٍۢ

wamā dhālika ʿalā l-lahi biʿazīzin

ایسا کرنا اُس پر کچھ بھی دُشوار نہیں ہے۔1

21

وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ جَمِيعًۭا فَقَالَ ٱلضُّعَفَـٰٓؤُا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًۭا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ ۚ قَالُوا۟ لَوْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ لَهَدَيْنَـٰكُمْ ۖ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَجَزِعْنَآ أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٍۢ

wabarazū lillahi jamīʿan faqāla l-ḍuʿafāu lilladhīna is'takbarū innā kunnā lakum tabaʿan fahal antum mugh'nūna ʿannā min ʿadhābi l-lahi min shayin qālū law hadānā l-lahu lahadaynākum sawāon ʿalaynā ajaziʿ'nā am ṣabarnā mā lanā min maḥīṣin

اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنےبے نقاب ہوں گے1 تو اُس وقت ان میں جو دُنیا میں کمزور تھے وہ اُن لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کہیں گے”دُنیا میں ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لیے بھی کچھ کر سکتے ہو؟“ وہ جواب دیں گے”اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں بھی دکھا دیتے۔ اب تو یکساں ہے خواہ ہم جزَع فزَع کریں یا صبر، بہر حال ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔2“

22

وَقَالَ ٱلشَّيْطَـٰنُ لَمَّا قُضِىَ ٱلْأَمْرُ إِنَّ ٱللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ ٱلْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِىَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَـٰنٍ إِلَّآ أَن دَعَوْتُكُمْ فَٱسْتَجَبْتُمْ لِى ۖ فَلَا تَلُومُونِى وَلُومُوٓا۟ أَنفُسَكُم ۖ مَّآ أَنَا۠ بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ أَنتُم بِمُصْرِخِىَّ ۖ إِنِّى كَفَرْتُ بِمَآ أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

waqāla l-shayṭānu lammā quḍiya l-amru inna l-laha waʿadakum waʿda l-ḥaqi wawaʿadttukum fa-akhlaftukum wamā kāna liya ʿalaykum min sul'ṭānin illā an daʿawtukum fa-is'tajabtum lī falā talūmūnī walūmū anfusakum mā anā bimuṣ'rikhikum wamā antum bimuṣ'rikhiyya innī kafartu bimā ashraktumūni min qablu inna l-ẓālimīna lahum ʿadhābun alīmun

اور جب فیصلہ چُکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا ”حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کیے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کیے اُن میں سے کوئی بھی پُورا نہ کیا ،1 میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تمہیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبّیک کہا۔ 2اب مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری۔اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا3 میں اُس سے بری الذّمہ ہوں، ایسے ظالموں کے لیے تو دردناک سزا یقینی ہے۔“

23

وَأُدْخِلَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۖ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَـٰمٌ

wa-ud'khila alladhīna āmanū waʿamilū l-ṣāliḥāti jannātin tajrī min taḥtihā l-anhāru khālidīna fīhā bi-idh'ni rabbihim taḥiyyatuhum fīhā salāmun

بخلاف اس کے جو لوگ دُنیا میں ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہاں وہ اپنے ربّ کے اِذن سے ہمیشہ رہیں گے، اور وہاں اُن کا استقبال سلامتی کی مبارکباد سے ہوگا۔1

24

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا كَلِمَةًۭ طَيِّبَةًۭ كَشَجَرَةٍۢ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌۭ وَفَرْعُهَا فِى ٱلسَّمَآءِ

alam tara kayfa ḍaraba l-lahu mathalan kalimatan ṭayyibatan kashajaratin ṭayyibatin aṣluhā thābitun wafarʿuhā fī l-samāi

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہٴ طیّبہ1 کو کس چیز سے مثال دی ہے؟ اِس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت جس کی جڑ زمین میں گہری جمّی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں2

25

تُؤْتِىٓ أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍۭ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

tu'tī ukulahā kulla ḥīnin bi-idh'ni rabbihā wayaḍribu l-lahu l-amthāla lilnnāsi laʿallahum yatadhakkarūna

ہر آن وہ اپنے ربّ کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے۔1 یہ مثالیں اللہ اِس لیے دیتا ہے کہ لوگ اِن سے سبق لیں

26

وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍۢ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ ٱجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ ٱلْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍۢ

wamathalu kalimatin khabīthatin kashajaratin khabīthatin uj'tuthat min fawqi l-arḍi mā lahā min qarārin

اور کلمہ خبیثہ1 کی مثال ایک بد ذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اُکھاڑ پھینکا جاتا ہے، اُس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے۔2

27

يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱلْقَوْلِ ٱلثَّابِتِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِى ٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلظَّـٰلِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ

yuthabbitu l-lahu alladhīna āmanū bil-qawli l-thābiti fī l-ḥayati l-dun'yā wafī l-ākhirati wayuḍillu l-lahu l-ẓālimīna wayafʿalu l-lahu mā yashāu

ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قولِ ثابت کی بنیاد پر دُنیا اور آخرت دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے،1 اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے۔2 اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے

28

۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ بَدَّلُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ كُفْرًۭا وَأَحَلُّوا۟ قَوْمَهُمْ دَارَ ٱلْبَوَارِ

alam tara ilā alladhīna baddalū niʿ'mata l-lahi kuf'ran wa-aḥallū qawmahum dāra l-bawāri

تم نے دیکھا اُن لوگوں کو جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اُسے کفران نعمت سے بدل ڈالا اور (اپنے ساتھ) اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا

29

جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا ۖ وَبِئْسَ ٱلْقَرَارُ

jahannama yaṣlawnahā wabi'sa l-qarāru

یعنی جہنم، جس میں وہ جھلسے جائیں گے اور وہ بد ترین جائے قرار ہے

30

وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ أَندَادًۭا لِّيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِهِۦ ۗ قُلْ تَمَتَّعُوا۟ فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى ٱلنَّارِ

wajaʿalū lillahi andādan liyuḍillū ʿan sabīlihi qul tamattaʿū fa-inna maṣīrakum ilā l-nāri

اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کر لیے تاکہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں اِن سے کہو، اچھا مزے کر لو، آخرکار تمہیں پلٹ کر جانا دوزخ ہی میں ہے

31

قُل لِّعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَـٰهُمْ سِرًّۭا وَعَلَانِيَةًۭ مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌۭ لَّا بَيْعٌۭ فِيهِ وَلَا خِلَـٰلٌ

qul liʿibādiya alladhīna āmanū yuqīmū l-ṣalata wayunfiqū mimmā razaqnāhum sirran waʿalāniyatan min qabli an yatiya yawmun lā bayʿun fīhi walā khilālun

اے نبی ؐ ، میرے جو بندے ایمان لائے ہیں اُن سے کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اُس میں سے کھُلے اور چھُپے(راہِ خیرمیں)خرچ کریں1 قبل اِس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہو گی اور نہ دوست نوازی ہو سکے گی۔2

32

ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَخْرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ رِزْقًۭا لَّكُمْ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلْفُلْكَ لِتَجْرِىَ فِى ٱلْبَحْرِ بِأَمْرِهِۦ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلْأَنْهَـٰرَ

al-lahu alladhī khalaqa l-samāwāti wal-arḍa wa-anzala mina l-samāi māan fa-akhraja bihi mina l-thamarāti riz'qan lakum wasakhara lakumu l-ful'ka litajriya fī l-baḥri bi-amrihi wasakhara lakumu l-anhāra

اللہ وہی تو ہے1 جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اُس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لیے طرح طرح کے پھل پیدا کیے۔ جس نے کشتی کو تمہارے لیے مسخّر کیا کہ سمندر میں اُس کے حکم سے چلے اور دریاوٴں کو تمہارے لیے مسخّر کیا

33

وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ دَآئِبَيْنِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ

wasakhara lakumu l-shamsa wal-qamara dāibayni wasakhara lakumu al-layla wal-nahāra

جس نے سُورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخّر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخّر کیا۔ 1

34

وَءَاتَىٰكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ وَإِن تَعُدُّوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ لَا تُحْصُوهَآ ۗ إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ لَظَلُومٌۭ كَفَّارٌۭ

waātākum min kulli mā sa-altumūhu wa-in taʿuddū niʿ'mata l-lahi lā tuḥ'ṣūhā inna l-insāna laẓalūmun kaffārun

جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا۔1 اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو کر نہیں سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے

35

وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِيمُ رَبِّ ٱجْعَلْ هَـٰذَا ٱلْبَلَدَ ءَامِنًۭا وَٱجْنُبْنِى وَبَنِىَّ أَن نَّعْبُدَ ٱلْأَصْنَامَ

wa-idh qāla ib'rāhīmu rabbi ij'ʿal hādhā l-balada āminan wa-uj'nub'nī wabaniyya an naʿbuda l-aṣnāma

یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم ؑ نے دُعا کی تھی 1کہ”پروردگار، اِس شہر2 کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بُت پرستی سے بچا

36

رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلنَّاسِ ۖ فَمَن تَبِعَنِى فَإِنَّهُۥ مِنِّى ۖ وَمَنْ عَصَانِى فَإِنَّكَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

rabbi innahunna aḍlalna kathīran mina l-nāsi faman tabiʿanī fa-innahu minnī waman ʿaṣānī fa-innaka ghafūrun raḥīmun

پروردگار ، اِن بُتوں نے بہتوں کو گُمراہی میں ڈالا ہے1(ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھی یہ گُمراہ کر دیں، لہٰذا اُن میں سے)جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقیناً تُو درگزر کرنے والا مہربان ہے۔2

37

رَّبَّنَآ إِنِّىٓ أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِى بِوَادٍ غَيْرِ ذِى زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ ٱلْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱجْعَلْ أَفْـِٔدَةًۭ مِّنَ ٱلنَّاسِ تَهْوِىٓ إِلَيْهِمْ وَٱرْزُقْهُم مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ

rabbanā innī askantu min dhurriyyatī biwādin ghayri dhī zarʿin ʿinda baytika l-muḥarami rabbanā liyuqīmū l-ṣalata fa-ij'ʿal afidatan mina l-nāsi tahwī ilayhim wa-ur'zuq'hum mina l-thamarāti laʿallahum yashkurūna

پروردگار، میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔ پروردگار، یہ میں نے اِس لیے کیا ہےکہ لوگ یہاں نماز قائم کریں، لہٰذا تُو لوگوں کے دِلوں کو اِن کا مشتاق بنااور انہیں کھانے کو پھل دے 1، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں

38

رَبَّنَآ إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِى وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى ٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِى ٱلسَّمَآءِ

rabbanā innaka taʿlamu mā nukh'fī wamā nuʿ'linu wamā yakhfā ʿalā l-lahi min shayin fī l-arḍi walā fī l-samāi

پروردگار، تُو جانتا ہے جو کچھ ہم چھُپاتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں“1۔۔۔۔ اور2 واقعی اللہ سے کچھ بھی چھُپا ہوا نہیں ہے، نہ زمین میں نہ آسمانوں میں

39

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى وَهَبَ لِى عَلَى ٱلْكِبَرِ إِسْمَـٰعِيلَ وَإِسْحَـٰقَ ۚ إِنَّ رَبِّى لَسَمِيعُ ٱلدُّعَآءِ

al-ḥamdu lillahi alladhī wahaba lī ʿalā l-kibari is'māʿīla wa-is'ḥāqa inna rabbī lasamīʿu l-duʿāi

"شکر ہے اُس خدا کا جس نے مجھے اِس بڑھاپے میں اسماعیلؑ اور اسحاقؑ جیسے بیٹے دیے، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دعا سنتا ہے

40

رَبِّ ٱجْعَلْنِى مُقِيمَ ٱلصَّلَوٰةِ وَمِن ذُرِّيَّتِى ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ

rabbi ij'ʿalnī muqīma l-ṣalati wamin dhurriyyatī rabbanā wataqabbal duʿāi

ا ے میرے پروردگار، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں) پروردگار، میری دعا قبول کر

41

رَبَّنَا ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ ٱلْحِسَابُ

rabbanā igh'fir lī waliwālidayya walil'mu'minīna yawma yaqūmu l-ḥisābu

پروردگار ، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اُس دن معاف کر دیجیو جب کہ حساب قائم ہوگا۔“ 1

42

وَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ غَـٰفِلًا عَمَّا يَعْمَلُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍۢ تَشْخَصُ فِيهِ ٱلْأَبْصَـٰرُ

walā taḥsabanna l-laha ghāfilan ʿammā yaʿmalu l-ẓālimūna innamā yu-akhiruhum liyawmin tashkhaṣu fīhi l-abṣāru

اب یہ ظالم لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، اللہ کو تم اس سے غافل نہ سمجھو اللہ تو اِنہیں ٹال رہا ہے اُس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں

43

مُهْطِعِينَ مُقْنِعِى رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۖ وَأَفْـِٔدَتُهُمْ هَوَآءٌۭ

muh'ṭiʿīna muq'niʿī ruūsihim lā yartaddu ilayhim ṭarfuhum wa-afidatuhum hawāon

سر اُٹھائے بھاگے چلے جارہے ہیں، نظریں اُوپر جمی ہیں1 اور دل اُڑے جاتے ہیں

44

وَأَنذِرِ ٱلنَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ ٱلْعَذَابُ فَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ قَرِيبٍۢ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ ٱلرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوٓا۟ أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍۢ

wa-andhiri l-nāsa yawma yatīhimu l-ʿadhābu fayaqūlu alladhīna ẓalamū rabbanā akhir'nā ilā ajalin qarībin nujib daʿwataka wanattabiʿi l-rusula awalam takūnū aqsamtum min qablu mā lakum min zawālin

اے محمدؐ، اُس دن سے تم اِنہیں ڈراؤ جبکہ عذاب اِنہیں آلے گا اُس وقت یہ ظالم کہیں گے کہ "اے ہمارے رب، ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے، ہم تیری دعوت کو لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے" (مگر انہیں صاف جواب دے دیا جائے گا کہ) کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جو اِس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے؟

45

وَسَكَنتُمْ فِى مَسَـٰكِنِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ ٱلْأَمْثَالَ

wasakantum fī masākini alladhīna ẓalamū anfusahum watabayyana lakum kayfa faʿalnā bihim waḍarabnā lakumu l-amthāla

حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے اُن سے کیا سلوک کیا اور اُن کی مثالیں دے دے کر ہم تمہیں سمجھا بھی چکے تھے

46

وَقَدْ مَكَرُوا۟ مَكْرَهُمْ وَعِندَ ٱللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ ٱلْجِبَالُ

waqad makarū makrahum waʿinda l-lahi makruhum wa-in kāna makruhum litazūla min'hu l-jibālu

اُنہوں نے اپنی ساری ہی چالیں چل دیکھیں، مگر اُن کی ہر چال کا توڑ اللہ کے پاس تھا اگرچہ اُن کی چالیں ایسی غضب کی تھیں کہ پہاڑ اُن سے ٹل جائیں۔1

47

فَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِۦ رُسُلَهُۥٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌۭ ذُو ٱنتِقَامٍۢ

falā taḥsabanna l-laha mukh'lifa waʿdihi rusulahu inna l-laha ʿazīzun dhū intiqāmin

پس اے نبی ؐ ، تم ہر گز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ کبھی اپنے رسُولوں سے کیے ہوئے وعدے کے خلاف کرے گا۔1 اللہ زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے

48

يَوْمَ تُبَدَّلُ ٱلْأَرْضُ غَيْرَ ٱلْأَرْضِ وَٱلسَّمَـٰوَٰتُ ۖ وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ ٱلْوَٰحِدِ ٱلْقَهَّارِ

yawma tubaddalu l-arḍu ghayra l-arḍi wal-samāwātu wabarazū lillahi l-wāḥidi l-qahāri

ڈراوٴ انہیں اُس دن سے جب کہ زمین اور آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کر دیے جائیں گے1 اور سب کے سب اللہ واحد قہّار کے سامنے بے نقاب حاضر ہو جائیں گے

49

وَتَرَى ٱلْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍۢ مُّقَرَّنِينَ فِى ٱلْأَصْفَادِ

watarā l-muj'rimīna yawma-idhin muqarranīna fī l-aṣfādi

اُس روز تم مجرموں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں ہاتھ پاؤں جکڑے ہونگے

50

سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍۢ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ ٱلنَّارُ

sarābīluhum min qaṭirānin wataghshā wujūhahumu l-nāru

تارکول1 کے لباس پہنے ہوئے ہوں گے اور آگ کے شعلے اُن کے چہروں پر چھائے جا رہے ہوں گے

51

لِيَجْزِىَ ٱللَّهُ كُلَّ نَفْسٍۢ مَّا كَسَبَتْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

liyajziya l-lahu kulla nafsin mā kasabat inna l-laha sarīʿu l-ḥisābi

یہ اِس لیے ہوگا کہ اللہ ہر متنفس کو اس کے کیے کا بدلہ دے گا اللہ کوحساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی

52

هَـٰذَا بَلَـٰغٌۭ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُوا۟ بِهِۦ وَلِيَعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ وَلِيَذَّكَّرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ

hādhā balāghun lilnnāsi waliyundharū bihi waliyaʿlamū annamā huwa ilāhun wāḥidun waliyadhakkara ulū l-albābi

یہ ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے، اور یہ بھیجا گیا ہے اس لیے کہ اُن کو اِس کے ذریعہ سے خبردار کر دیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا بس ایک ہی ہے اور جو عقل رکھتے ہیں وہ ہوش میں آ جائیں

اس سورہ کے بارے میں