القصص
Al-Qasas
The Stories
طسٓمٓ
tta-seen-meem
ط س م
تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱلْكِتَـٰبِ ٱلْمُبِينِ
til'ka āyātu l-kitābi l-mubīni
یہ کتاب مبین کی آیات ہیں
نَتْلُوا۟ عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَىٰ وَفِرْعَوْنَ بِٱلْحَقِّ لِقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ
natlū ʿalayka min naba-i mūsā wafir'ʿawna bil-ḥaqi liqawmin yu'minūna
ہم موسیٰؑ اور فرعون کا کچھ حال ٹھیک ٹھیک تمہیں سُناتے ہیں،1 ایسے لوگوں کے فائدے کے لیے جو ایمان لائیں۔2
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِى ٱلْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًۭا يَسْتَضْعِفُ طَآئِفَةًۭ مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَآءَهُمْ وَيَسْتَحْىِۦ نِسَآءَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلْمُفْسِدِينَ
inna fir'ʿawna ʿalā fī l-arḍi wajaʿala ahlahā shiyaʿan yastaḍʿifu ṭāifatan min'hum yudhabbiḥu abnāahum wayastaḥyī nisāahum innahu kāna mina l-muf'sidīna
واقعہ یہ کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی 1اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ 2 ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا، اس کے لڑکوں کو قتل کر تا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا۔3 فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى ٱلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةًۭ وَنَجْعَلَهُمُ ٱلْوَٰرِثِينَ
wanurīdu an namunna ʿalā alladhīna us'tuḍ'ʿifū fī l-arḍi wanajʿalahum a-immatan wanajʿalahumu l-wārithīna
اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کر کے رکھے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنا دیں1 اور انہی کو وارث بنائیں2
وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ وَنُرِىَ فِرْعَوْنَ وَهَـٰمَـٰنَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَحْذَرُونَ
wanumakkina lahum fī l-arḍi wanuriya fir'ʿawna wahāmāna wajunūdahumā min'hum mā kānū yaḥdharūna
اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں اور ان سے فرعون و ہامان1 اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دِکھلا دیں جس کا انہیں ڈر تھا
وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰٓ أُمِّ مُوسَىٰٓ أَنْ أَرْضِعِيهِ ۖ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِى ٱلْيَمِّ وَلَا تَخَافِى وَلَا تَحْزَنِىٓ ۖ إِنَّا رَآدُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ
wa-awḥaynā ilā ummi mūsā an arḍiʿīhi fa-idhā khif'ti ʿalayhi fa-alqīhi fī l-yami walā takhāfī walā taḥzanī innā rāddūhu ilayki wajāʿilūhu mina l-mur'salīna
1ہم نے موسیٰؑ کی ماں کو اشارہ کیا کہ ”اِس کو دُودھ پلا، پھر جب تجھے اُس کی جان کا خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور کچھ خوف اور غم نہ کر، ہم اسے تیرے ہی پاس واپس لے آئیں گے اور اس کو پیغمبروں میں شامل کریں گے۔“2
فَٱلْتَقَطَهُۥٓ ءَالُ فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّۭا وَحَزَنًا ۗ إِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَـٰمَـٰنَ وَجُنُودَهُمَا كَانُوا۟ خَـٰطِـِٔينَ
fal-taqaṭahu ālu fir'ʿawna liyakūna lahum ʿaduwwan waḥazanan inna fir'ʿawna wahāmāna wajunūdahumā kānū khāṭiīna
آخر کار فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے)نکال لیا تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سببِ رنج بنے،1 واقعی فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر (اپنی تدبیرمیں)بڑے غلط کار تھے
وَقَالَتِ ٱمْرَأَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍۢ لِّى وَلَكَ ۖ لَا تَقْتُلُوهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًۭا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
waqālati im'ra-atu fir'ʿawna qurratu ʿaynin lī walaka lā taqtulūhu ʿasā an yanfaʿanā aw nattakhidhahu waladan wahum lā yashʿurūna
فرعون کی بیوی نے (اس سے)کہا”یہ میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، کیا عجب کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو، یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں۔“1 اور وہ (انجام سے)بے خبر تھے
وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَىٰ فَـٰرِغًا ۖ إِن كَادَتْ لَتُبْدِى بِهِۦ لَوْلَآ أَن رَّبَطْنَا عَلَىٰ قَلْبِهَا لِتَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ
wa-aṣbaḥa fuādu ummi mūsā fārighan in kādat latub'dī bihi lawlā an rabaṭnā ʿalā qalbihā litakūna mina l-mu'minīna
اُدھر موسیٰؑ کی ماں کا دل اڑا جا رہا تھا وہ اس راز کو فاش کر بیٹھتی اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھا دیتے تاکہ وہ (ہمارے وعدے پر) ایمان لانے والوں میں سے ہو
وَقَالَتْ لِأُخْتِهِۦ قُصِّيهِ ۖ فَبَصُرَتْ بِهِۦ عَن جُنُبٍۢ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
waqālat li-ukh'tihi quṣṣīhi fabaṣurat bihi ʿan junubin wahum lā yashʿurūna
اُس نے بچے کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جا۔ چنانچہ وہ الگ سے اس کو اس طرح دیکھتی رہی کہ (دشمنوں کو)اس کا پتہ نہ چلا۔1
۞ وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ ٱلْمَرَاضِعَ مِن قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰٓ أَهْلِ بَيْتٍۢ يَكْفُلُونَهُۥ لَكُمْ وَهُمْ لَهُۥ نَـٰصِحُونَ
waḥarramnā ʿalayhi l-marāḍiʿa min qablu faqālat hal adullukum ʿalā ahli baytin yakfulūnahu lakum wahum lahu nāṣiḥūna
اور ہم نے بچے پر پہلے ہی دُودھ پِلانے والیوں کی چھاتیاں حرام کر رکھی تھیں۔1 (یہ حالت دیکھ کر)اُس لڑکی نے اُن سے کہا”میں تمہیں ایسے گھر کا پتہ بتاوٴں جس کے لوگ اس کی پرورش کا ذمّہ لیں اور خیر خواہی کے ساتھ اسے رکھیں؟2
فَرَدَدْنَـٰهُ إِلَىٰٓ أُمِّهِۦ كَىْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ أَنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
faradadnāhu ilā ummihi kay taqarra ʿaynuhā walā taḥzana walitaʿlama anna waʿda l-lahi ḥaqqun walākinna aktharahum lā yaʿlamūna
اس طرح ہم موسیٰؑ کو1 اس کی ماں کے پاس پلٹا لائے تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا،2 مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔ “
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَٱسْتَوَىٰٓ ءَاتَيْنَـٰهُ حُكْمًۭا وَعِلْمًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ
walammā balagha ashuddahu wa-is'tawā ātaynāhu ḥuk'man waʿil'man wakadhālika najzī l-muḥ'sinīna
جب موسیٰؑ اپنی پوری جوانی کو پہنچ گیا اور اُس کا نشوونما مکمل ہوگیا1 تو ہم نے اُسے حکم اور علم عطا کیا،2 ہم نے نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں
وَدَخَلَ ٱلْمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفْلَةٍۢ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَـٰذَا مِن شِيعَتِهِۦ وَهَـٰذَا مِنْ عَدُوِّهِۦ ۖ فَٱسْتَغَـٰثَهُ ٱلَّذِى مِن شِيعَتِهِۦ عَلَى ٱلَّذِى مِنْ عَدُوِّهِۦ فَوَكَزَهُۥ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِ ۖ قَالَ هَـٰذَا مِنْ عَمَلِ ٱلشَّيْطَـٰنِ ۖ إِنَّهُۥ عَدُوٌّۭ مُّضِلٌّۭ مُّبِينٌۭ
wadakhala l-madīnata ʿalā ḥīni ghaflatin min ahlihā fawajada fīhā rajulayni yaqtatilāni hādhā min shīʿatihi wahādhā min ʿaduwwihi fa-is'taghāthahu alladhī min shīʿatihi ʿalā alladhī min ʿaduwwihi fawakazahu mūsā faqaḍā ʿalayhi qāla hādhā min ʿamali l-shayṭāni innahu ʿaduwwun muḍillun mubīnun
(ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوا جبکہ اہلِ شہر غفلت میں تھے۔1 وہاں اُس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اُس کی اپنی قوم کا تھا اور دُوسرا اُس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اُس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اُسے مدد کے لیے پکارا۔ موسیٰؑ نے اُس کو ایک گھونسا مارا2 اور اُس کا کام تمام کر دیا۔ (یہ حرکت سرزَد ہوتے ہی)موسیٰؑ نے کہا”یہ شیطان کی کار فرمائی ہے، وہ سخت دشمن اور کھُلا گمراہ کُن ہے۔“3
قَالَ رَبِّ إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى فَٱغْفِرْ لِى فَغَفَرَ لَهُۥٓ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
qāla rabbi innī ẓalamtu nafsī fa-igh'fir lī faghafara lahu innahu huwa l-ghafūru l-raḥīmu
پھر وہ کہنے لگا”اے میرے ربّ، میں نے اپنے نفس پر ظلم کر ڈالا، میری مغفرت فرما دے۔“1 چنانچہ اللہ نے اُس کی مغفرت فرما دی، وہ غفورٌ رحیم ہے۔2
قَالَ رَبِّ بِمَآ أَنْعَمْتَ عَلَىَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًۭا لِّلْمُجْرِمِينَ
qāla rabbi bimā anʿamta ʿalayya falan akūna ẓahīran lil'muj'rimīna
موسیٰؑ نے عہد کیا کہ ”اے میرے ربّ، یہ احسان جو تُو نے مجھ پر کیا ہے1 اِس کے بعد اب میں کبھی مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا۔“2
فَأَصْبَحَ فِى ٱلْمَدِينَةِ خَآئِفًۭا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا ٱلَّذِى ٱسْتَنصَرَهُۥ بِٱلْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُۥ ۚ قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰٓ إِنَّكَ لَغَوِىٌّۭ مُّبِينٌۭ
fa-aṣbaḥa fī l-madīnati khāifan yataraqqabu fa-idhā alladhī is'tanṣarahu bil-amsi yastaṣrikhuhu qāla lahu mūsā innaka laghawiyyun mubīnun
دوسرے روز وہ صبح سویرے ڈرتا اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتا ہوا شہر میں جا رہا تھا کہ یکایک کیا دیکھتا ہے کہ وہی شخص جس نے کل اُسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اُسے پکاررہا ہے۔ موسیٰؑ نے کہا”تُو تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے۔“1
فَلَمَّآ أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِٱلَّذِى هُوَ عَدُوٌّۭ لَّهُمَا قَالَ يَـٰمُوسَىٰٓ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِى كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِٱلْأَمْسِ ۖ إِن تُرِيدُ إِلَّآ أَن تَكُونَ جَبَّارًۭا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلْمُصْلِحِينَ
falammā an arāda an yabṭisha bi-alladhī huwa ʿaduwwun lahumā qāla yāmūsā aturīdu an taqtulanī kamā qatalta nafsan bil-amsi in turīdu illā an takūna jabbāran fī l-arḍi wamā turīdu an takūna mina l-muṣ'liḥīna
پھر جب موسیٰؑ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے1 تو وہ پکار اُٹھا2 ”اے موسیٰؑ ، کیا آج تُو مجھے اُسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کر چکا ہے، تُو اس ملک میں جبّار بن کر رہنا چاہتا ہے، اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔“
وَجَآءَ رَجُلٌۭ مِّنْ أَقْصَا ٱلْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَـٰمُوسَىٰٓ إِنَّ ٱلْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَٱخْرُجْ إِنِّى لَكَ مِنَ ٱلنَّـٰصِحِينَ
wajāa rajulun min aqṣā l-madīnati yasʿā qāla yāmūsā inna l-mala-a yatamirūna bika liyaqtulūka fa-ukh'ruj innī laka mina l-nāṣiḥīna
اس کے بعد ایک آدمی شہر کے پَرلے سِرے سے دوڑتا ہوا آیا1 اور بولا ”موسیٰؑ ، سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں، یہاں سے نکل جا ، میں تیرا خیر خواہ ہوں۔“
فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًۭا يَتَرَقَّبُ ۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِى مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
fakharaja min'hā khāifan yataraqqabu qāla rabbi najjinī mina l-qawmi l-ẓālimīna
یہ خبر سنتے ہی موسیٰؑ ڈرتا اور سہمتا نکل کھڑا ہوا اور اس نے دعا کی کہ "اے میرے رب، مجھے ظالموں سے بچا"
وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسَىٰ رَبِّىٓ أَن يَهْدِيَنِى سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ
walammā tawajjaha til'qāa madyana qāla ʿasā rabbī an yahdiyanī sawāa l-sabīli
(مصر سے نکل کر)جب موسیٰؑ نے مَدیَن کا رُخ کیا1 تو اُس نے کہا”اُمید ہے کہ میرا ربّ مجھے ٹھیک راستے پر ڈال دے گا۔“2
وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةًۭ مِّنَ ٱلنَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ ٱمْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ ۖ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۖ قَالَتَا لَا نَسْقِى حَتَّىٰ يُصْدِرَ ٱلرِّعَآءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌۭ كَبِيرٌۭ
walammā warada māa madyana wajada ʿalayhi ummatan mina l-nāsi yasqūna wawajada min dūnihimu im'ra-atayni tadhūdāni qāla mā khaṭbukumā qālatā lā nasqī ḥattā yuṣ'dira l-riʿāu wa-abūnā shaykhun kabīrun
اور جب وہ مَدیَن کے کنوئیں پر پہنچا1 تو اُس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پِلا رہے ہیں اور اُن سے الگ ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں۔موسیٰؑ نے ان عورتوں سے پوچھا”تمہیں کیا پریشانی ہے؟“ اُنہوں نے کہا”ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پِلا سکتیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانور نہ نکال لے جائیں، اور ہمارے والد ایک بہت بُوڑھے آدمی ہیں۔“2
فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰٓ إِلَى ٱلظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّى لِمَآ أَنزَلْتَ إِلَىَّ مِنْ خَيْرٍۢ فَقِيرٌۭ
fasaqā lahumā thumma tawallā ilā l-ẓili faqāla rabbi innī limā anzalta ilayya min khayrin faqīrun
یہ سن کو موسیٰؑ نے ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا، پھر ایک سائے کی جگہ جا بیٹھا اور بولا "پروردگار، جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کر دے میں اس کا محتاج ہوں"
فَجَآءَتْهُ إِحْدَىٰهُمَا تَمْشِى عَلَى ٱسْتِحْيَآءٍۢ قَالَتْ إِنَّ أَبِى يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا ۚ فَلَمَّا جَآءَهُۥ وَقَصَّ عَلَيْهِ ٱلْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ ۖ نَجَوْتَ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
fajāathu iḥ'dāhumā tamshī ʿalā is'tiḥ'yāin qālat inna abī yadʿūka liyajziyaka ajra mā saqayta lanā falammā jāahu waqaṣṣa ʿalayhi l-qaṣaṣa qāla lā takhaf najawta mina l-qawmi l-ẓālimīna
(کچھ دیر نہ گزری تھی کہ)اُن دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اُس کے پاس آئی1 اور کہنے لگی”میرے والد آپ کو بُلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے لیے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں۔“2 موسیٰؑ جب اُس کے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصہ اُسے سُنایا تو اُس نے کہا ”کچھ خوف نہ کرو، اب تم ظالم لوگوں سے بچ نِکلے ہو۔“
قَالَتْ إِحْدَىٰهُمَا يَـٰٓأَبَتِ ٱسْتَـْٔجِرْهُ ۖ إِنَّ خَيْرَ مَنِ ٱسْتَـْٔجَرْتَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْأَمِينُ
qālat iḥ'dāhumā yāabati is'tajir'hu inna khayra mani is'tajarta l-qawiyu l-amīnu
ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے اپنے باپ سے کہا”ابّا جان، اِس شخص کو نوکر رکھ لیجیے، بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہو سکتا ہے جو مضبوط اور امانتدار ہو۔“1
قَالَ إِنِّىٓ أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ٱبْنَتَىَّ هَـٰتَيْنِ عَلَىٰٓ أَن تَأْجُرَنِى ثَمَـٰنِىَ حِجَجٍۢ ۖ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًۭا فَمِنْ عِندِكَ ۖ وَمَآ أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ ۚ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
qāla innī urīdu an unkiḥaka iḥ'dā ib'natayya hātayni ʿalā an tajuranī thamāniya ḥijajin fa-in atmamta ʿashran famin ʿindika wamā urīdu an ashuqqa ʿalayka satajidunī in shāa l-lahu mina l-ṣāliḥīna
اس کے باپ نے (موسیٰؑ سے)کہا”1 میں چاہتا ہوں کہ اپنی اِن دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں بشرطیکہ تم آٹھ سال تک میرے ہاں ملازمت کرو اور اگر دس سال تک پُورے کر دو تو یہ تمہاری مرضی ہے۔ میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا۔ تم انشاء اللہ مجھے نیک آدمی پاوٴ گے۔“
قَالَ ذَٰلِكَ بَيْنِى وَبَيْنَكَ ۖ أَيَّمَا ٱلْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَٰنَ عَلَىَّ ۖ وَٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌۭ
qāla dhālika baynī wabaynaka ayyamā l-ajalayni qaḍaytu falā ʿud'wāna ʿalayya wal-lahu ʿalā mā naqūlu wakīlun
موسیٰؑ نے جواب دیا”یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی۔ ان دونوں مدّتوں میں سے جو بھی میں پُوری کر دوں اُس کے بعد پھر کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہو، اور جو کچھ قول قرار ہم کر رہے ہیں اللہ اُس پر نگہبان ہے۔“1
۞ فَلَمَّا قَضَىٰ مُوسَى ٱلْأَجَلَ وَسَارَ بِأَهْلِهِۦٓ ءَانَسَ مِن جَانِبِ ٱلطُّورِ نَارًۭا قَالَ لِأَهْلِهِ ٱمْكُثُوٓا۟ إِنِّىٓ ءَانَسْتُ نَارًۭا لَّعَلِّىٓ ءَاتِيكُم مِّنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ جَذْوَةٍۢ مِّنَ ٱلنَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ
falammā qaḍā mūsā l-ajala wasāra bi-ahlihi ānasa min jānibi l-ṭūri nāran qāla li-ahlihi um'kuthū innī ānastu nāran laʿallī ātīkum min'hā bikhabarin aw jadhwatin mina l-nāri laʿallakum taṣṭalūna
جب موسیٰؑ نے مدّت پوری کر دی1 اور اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طُور کی جانب اُس کو ایک آگ نظر آئی۔2 اُس نے اپنے گھر والوں سے کہا”ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے ، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آوٴں یا اُس آگ سے کوئی انگارا ہی اُٹھا لاوٴں جس سے تم تاپ سکو۔“
فَلَمَّآ أَتَىٰهَا نُودِىَ مِن شَـٰطِئِ ٱلْوَادِ ٱلْأَيْمَنِ فِى ٱلْبُقْعَةِ ٱلْمُبَـٰرَكَةِ مِنَ ٱلشَّجَرَةِ أَن يَـٰمُوسَىٰٓ إِنِّىٓ أَنَا ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَـٰلَمِينَ
falammā atāhā nūdiya min shāṭi-i l-wādi l-aymani fī l-buq'ʿati l-mubārakati mina l-shajarati an yāmūsā innī anā l-lahu rabbu l-ʿālamīna
وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے1 پر مبارک خطّے میں2 ایک درخت سے پُکارا گیا کہ”اے موسیٰؑ ، میں ہی اللہ ہوں، سارے جہاں والوں کا مالک۔“
وَأَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَلَمَّا رَءَاهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنٌّۭ وَلَّىٰ مُدْبِرًۭا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَـٰمُوسَىٰٓ أَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ ۖ إِنَّكَ مِنَ ٱلْـَٔامِنِينَ
wa-an alqi ʿaṣāka falammā raāhā tahtazzu ka-annahā jānnun wallā mud'biran walam yuʿaqqib yāmūsā aqbil walā takhaf innaka mina l-āminīna
اور (حکم دیا گیا کہ) پھینک دے اپنی لاٹھی جونہی کہ موسیٰؑ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا (ارشاد ہوا) "موسیٰؑ، پلٹ آ اور خوف نہ کر، تو بالکل محفوظ ہے
ٱسْلُكْ يَدَكَ فِى جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوٓءٍۢ وَٱضْمُمْ إِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ ٱلرَّهْبِ ۖ فَذَٰنِكَ بُرْهَـٰنَانِ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦٓ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمًۭا فَـٰسِقِينَ
us'luk yadaka fī jaybika takhruj bayḍāa min ghayri sūin wa-uḍ'mum ilayka janāḥaka mina l-rahbi fadhānika bur'hānāni min rabbika ilā fir'ʿawna wamala-ihi innahum kānū qawman fāsiqīna
اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔1 اور خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازُو بھینچ لے۔2 یہ دوروشن نشانیاں ہیں تیرے ربّ کی طرف سے فرعون اور اُس کے درباریوں کے سامنے پیش کر نے کے لیے ، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔“3
قَالَ رَبِّ إِنِّى قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًۭا فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
qāla rabbi innī qataltu min'hum nafsan fa-akhāfu an yaqtulūni
موسیٰؑ نے عرض کیا”میرے آقا، میں تو اُن کا ایک آدمی قتل کر چکا ہوں، ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے۔1
وَأَخِى هَـٰرُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّى لِسَانًۭا فَأَرْسِلْهُ مَعِىَ رِدْءًۭا يُصَدِّقُنِىٓ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ
wa-akhī hārūnu huwa afṣaḥu minnī lisānan fa-arsil'hu maʿiya rid'an yuṣaddiqunī innī akhāfu an yukadhibūni
اور میرا بھائی ہارونؑ مجھے سے زیادہ زبان آور ہے، اسے میرے ساتھ مدد گار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے"
قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَـٰنًۭا فَلَا يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا ۚ بِـَٔايَـٰتِنَآ أَنتُمَا وَمَنِ ٱتَّبَعَكُمَا ٱلْغَـٰلِبُونَ
qāla sanashuddu ʿaḍudaka bi-akhīka wanajʿalu lakumā sul'ṭānan falā yaṣilūna ilaykumā biāyātinā antumā wamani ittabaʿakumā l-ghālibūna
فرمایا”ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سطوت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیرووں کا ہی ہوگا۔“1
فَلَمَّا جَآءَهُم مُّوسَىٰ بِـَٔايَـٰتِنَا بَيِّنَـٰتٍۢ قَالُوا۟ مَا هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّفْتَرًۭى وَمَا سَمِعْنَا بِهَـٰذَا فِىٓ ءَابَآئِنَا ٱلْأَوَّلِينَ
falammā jāahum mūsā biāyātinā bayyinātin qālū mā hādhā illā siḥ'run muf'taran wamā samiʿ'nā bihādhā fī ābāinā l-awalīna
پھر جب موسیٰؑ اُن لوگوں کے پاس ہماری کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر پہنچا تو اُنہوں نے کہا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر بناوٹی جادُو۔1 اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سُنی ہی نہیں۔2
وَقَالَ مُوسَىٰ رَبِّىٓ أَعْلَمُ بِمَن جَآءَ بِٱلْهُدَىٰ مِنْ عِندِهِۦ وَمَن تَكُونُ لَهُۥ عَـٰقِبَةُ ٱلدَّارِ ۖ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
waqāla mūsā rabbī aʿlamu biman jāa bil-hudā min ʿindihi waman takūnu lahu ʿāqibatu l-dāri innahu lā yuf'liḥu l-ẓālimūna
موسیٰؑ نے جواب دیا”میرا ربّ اُس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اُس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کِس کا اچھا ہونا ہے، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔“1
وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَأُ مَا عَلِمْتُ لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرِى فَأَوْقِدْ لِى يَـٰهَـٰمَـٰنُ عَلَى ٱلطِّينِ فَٱجْعَل لِّى صَرْحًۭا لَّعَلِّىٓ أَطَّلِعُ إِلَىٰٓ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّى لَأَظُنُّهُۥ مِنَ ٱلْكَـٰذِبِينَ
waqāla fir'ʿawnu yāayyuhā l-mala-u mā ʿalim'tu lakum min ilāhin ghayrī fa-awqid lī yāhāmānu ʿalā l-ṭīni fa-ij'ʿal lī ṣarḥan laʿallī aṭṭaliʿu ilā ilāhi mūsā wa-innī la-aẓunnuhu mina l-kādhibīna
اور فرعون نے کہا”اے اہلِ دربار، میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔1 ہامان، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اُس پر چڑھ کر میں موسیٰؑ کے خدا کو دیکھ سکوں، میں تو اسے جھُوٹاسمجھتا ہوں۔“2
وَٱسْتَكْبَرَ هُوَ وَجُنُودُهُۥ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ إِلَيْنَا لَا يُرْجَعُونَ
wa-is'takbara huwa wajunūduhu fī l-arḍi bighayri l-ḥaqi waẓannū annahum ilaynā lā yur'jaʿūna
اُس نے اور اُس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا1 اور سمجھے کہ اُنہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے۔2
فَأَخَذْنَـٰهُ وَجُنُودَهُۥ فَنَبَذْنَـٰهُمْ فِى ٱلْيَمِّ ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلظَّـٰلِمِينَ
fa-akhadhnāhu wajunūdahu fanabadhnāhum fī l-yami fa-unẓur kayfa kāna ʿāqibatu l-ẓālimīna
آخر کار ہم نے اُسے اور اُس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا۔1 اب دیکھ لو کہ اُن ظالموں کا کیسا انجام ہوا
وَجَعَلْنَـٰهُمْ أَئِمَّةًۭ يَدْعُونَ إِلَى ٱلنَّارِ ۖ وَيَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ لَا يُنصَرُونَ
wajaʿalnāhum a-immatan yadʿūna ilā l-nāri wayawma l-qiyāmati lā yunṣarūna
ہم نے اُنہیں جہنّم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا1 اور قیامت کے روز وہ کہیں سے کوئی مدد نہ پا سکیں گے
وَأَتْبَعْنَـٰهُمْ فِى هَـٰذِهِ ٱلدُّنْيَا لَعْنَةًۭ ۖ وَيَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ هُم مِّنَ ٱلْمَقْبُوحِينَ
wa-atbaʿnāhum fī hādhihi l-dun'yā laʿnatan wayawma l-qiyāmati hum mina l-maqbūḥīna
ہم نے اِس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے۔1
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَـٰبَ مِنۢ بَعْدِ مَآ أَهْلَكْنَا ٱلْقُرُونَ ٱلْأُولَىٰ بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
walaqad ātaynā mūsā l-kitāba min baʿdi mā ahlaknā l-qurūna l-ūlā baṣāira lilnnāsi wahudan waraḥmatan laʿallahum yatadhakkarūna
پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی، لوگوں کے لیے بصیرتوں کا سامان بنا کر ، ہدایت اور رحمت بنا کر، تاکہ شاید لوگ سبق حاصل کریں۔1
وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ ٱلْغَرْبِىِّ إِذْ قَضَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَى ٱلْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ ٱلشَّـٰهِدِينَ
wamā kunta bijānibi l-gharbiyi idh qaḍaynā ilā mūsā l-amra wamā kunta mina l-shāhidīna
(اے محمدؐ)تم اُس وقت مغربی گوشے میں موجود نہ تھے1 جب ہم نے موسیٰؑ کو یہ فرمانِ شریعت عطا کیا، اور نہ تم شاہدین میں شامل تھے،2
وَلَـٰكِنَّآ أَنشَأْنَا قُرُونًۭا فَتَطَاوَلَ عَلَيْهِمُ ٱلْعُمُرُ ۚ وَمَا كُنتَ ثَاوِيًۭا فِىٓ أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِنَا وَلَـٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ
walākinnā anshanā qurūnan fataṭāwala ʿalayhimu l-ʿumuru wamā kunta thāwiyan fī ahli madyana tatlū ʿalayhim āyātinā walākinnā kunnā mur'silīna
بلکہ اُس کے بعد (تمہارے زمانے تک)ہم بہت سی نسلیں اُٹھا چکے ہیں اور اُن پر بہت زمانہ گُزر چکا ہے۔1 تم اہلِ مَدیِن کے درمیان بھی موجود نہ تھے کہ اُن کو ہماری آیات سُنا رہے ہوتے،2 مگر (اُس وقت کی یہ خبریں) بھیجنے والے ہم ہیں
وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ ٱلطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا وَلَـٰكِن رَّحْمَةًۭ مِّن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْمًۭا مَّآ أَتَىٰهُم مِّن نَّذِيرٍۢ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
wamā kunta bijānibi l-ṭūri idh nādaynā walākin raḥmatan min rabbika litundhira qawman mā atāhum min nadhīrin min qablika laʿallahum yatadhakkarūna
اور تم طُور کے دامن میں بھی اُس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے (موسیٰؑ کو پہلی مرتبہ)پکارا تھا، مگر یہ تمہارے ربّ کی رحمت ہے(کہ تم کو یہ معلومات دی جارہی ہیں) 1 تاکہ تم اُن لوگوں کو متنبّہ کرو جن کے پاس ان سے پہلے کوئی متنبّہ کرنے والا نہیں آیا،2 شاید کہ وہ ہوش میں آئیں
وَلَوْلَآ أَن تُصِيبَهُم مُّصِيبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَيَقُولُوا۟ رَبَّنَا لَوْلَآ أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًۭا فَنَتَّبِعَ ءَايَـٰتِكَ وَنَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ
walawlā an tuṣībahum muṣībatun bimā qaddamat aydīhim fayaqūlū rabbanā lawlā arsalta ilaynā rasūlan fanattabiʿa āyātika wanakūna mina l-mu'minīna
(اور یہ ہم نے اس لیے کیا کہ)کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن کے اپنے کیے کرتُوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب اُن پر آئے تو وہ کہیں”اے پروردگار، تُو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسُول بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہلِ ایمان میں سے ہوتے۔“1
فَلَمَّا جَآءَهُمُ ٱلْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا۟ لَوْلَآ أُوتِىَ مِثْلَ مَآ أُوتِىَ مُوسَىٰٓ ۚ أَوَلَمْ يَكْفُرُوا۟ بِمَآ أُوتِىَ مُوسَىٰ مِن قَبْلُ ۖ قَالُوا۟ سِحْرَانِ تَظَـٰهَرَا وَقَالُوٓا۟ إِنَّا بِكُلٍّۢ كَـٰفِرُونَ
falammā jāahumu l-ḥaqu min ʿindinā qālū lawlā ūtiya mith'la mā ūtiya mūsā awalam yakfurū bimā ūtiya mūsā min qablu qālū siḥ'rāni taẓāharā waqālū innā bikullin kāfirūna
مگر جب ہمارے ہاں سے حق اُن کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے”کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟“1 کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کر چکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟2 اُنہوں نے کہا”دونوں جادُو ہیں3 جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔“ اور کہا”ہم کسی کو نہیں مانتے۔“
قُلْ فَأْتُوا۟ بِكِتَـٰبٍۢ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ هُوَ أَهْدَىٰ مِنْهُمَآ أَتَّبِعْهُ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ
qul fatū bikitābin min ʿindi l-lahi huwa ahdā min'humā attabiʿ'hu in kuntum ṣādiqīna
(اے نبیؐ)اِن سے کہو”اچھا، تو لاوٴ اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جو اِن دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو اگر تم سچے ہو، میں اسی کی پیروی اختیار کروں گا۔“1
فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَكَ فَٱعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَآءَهُمْ ۚ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ ٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ بِغَيْرِ هُدًۭى مِّنَ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
fa-in lam yastajībū laka fa-iʿ'lam annamā yattabiʿūna ahwāahum waman aḍallu mimmani ittabaʿa hawāhu bighayri hudan mina l-lahi inna l-laha lā yahdī l-qawma l-ẓālimīna
اب اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں، اور اُس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا
۞ وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ ٱلْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
walaqad waṣṣalnā lahumu l-qawla laʿallahum yatadhakkarūna
اور (نصیحت کی)بات پے در پے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تا کہ وہ غفلت سے بیدار ہوں۔1
ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٰهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ مِن قَبْلِهِۦ هُم بِهِۦ يُؤْمِنُونَ
alladhīna ātaynāhumu l-kitāba min qablihi hum bihi yu'minūna
جن لوگوں کو اِس سے پہلے ہم نے کتاب دی تھی وہ اِس (قرآن)پر ایمان لاتے ہیں۔1
وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِهِۦٓ إِنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّنَآ إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِۦ مُسْلِمِينَ
wa-idhā yut'lā ʿalayhim qālū āmannā bihi innahu l-ḥaqu min rabbinā innā kunnā min qablihi mus'limīna
اور جب یہ اُن کو سُنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ”ہم اِس پر ایمان لائے، یہ واقعی حق ہے ہمارے ربّ کی طرف سے، ہم تو پہلے ہی سے مسلم ہیں۔“1
أُو۟لَـٰٓئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا۟ وَيَدْرَءُونَ بِٱلْحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَـٰهُمْ يُنفِقُونَ
ulāika yu'tawna ajrahum marratayni bimā ṣabarū wayadraūna bil-ḥasanati l-sayi-ata wamimmā razaqnāhum yunfiqūna
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا1 اُس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی۔2 وہ بُرائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں3 اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔4
وَإِذَا سَمِعُوا۟ ٱللَّغْوَ أَعْرَضُوا۟ عَنْهُ وَقَالُوا۟ لَنَآ أَعْمَـٰلُنَا وَلَكُمْ أَعْمَـٰلُكُمْ سَلَـٰمٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِى ٱلْجَـٰهِلِينَ
wa-idhā samiʿū l-laghwa aʿraḍū ʿanhu waqālū lanā aʿmālunā walakum aʿmālukum salāmun ʿalaykum lā nabtaghī l-jāhilīna
اور جب انہوں نے بیہودہ بات سُنی1 تو یہ کہہ کر اُس سے کنارہ کش ہوگئے کہ ”ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔“
إِنَّكَ لَا تَهْدِى مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ
innaka lā tahdī man aḥbabta walākinna l-laha yahdī man yashāu wahuwa aʿlamu bil-muh'tadīna
اے نبیؐ ، تم جسے چاہو اُسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ اُن لوگوں کو خُوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔1
وَقَالُوٓا۟ إِن نَّتَّبِعِ ٱلْهُدَىٰ مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَآ ۚ أَوَلَمْ نُمَكِّن لَّهُمْ حَرَمًا ءَامِنًۭا يُجْبَىٰٓ إِلَيْهِ ثَمَرَٰتُ كُلِّ شَىْءٍۢ رِّزْقًۭا مِّن لَّدُنَّا وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
waqālū in nattabiʿi l-hudā maʿaka nutakhaṭṭaf min arḍinā awalam numakkin lahum ḥaraman āminan yuj'bā ilayhi thamarātu kulli shayin riz'qan min ladunnā walākinna aktharahum lā yaʿlamūna
وہ کہتے ہیں ”اگر ہم تمہارے ساتھ اِس ہدایت کی پیروی اختیار کر لیں تو اپنی زمین سے اُچک لیے جائیں گے۔“1کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پُر امن حرم کو ان کے لیے جائے قیام بنا دیا جس کی طرف ہر طرح کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں، ہماری طرف سے رزق کے طور پر؟ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔2
وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا ۖ فَتِلْكَ مَسَـٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَن مِّنۢ بَعْدِهِمْ إِلَّا قَلِيلًۭا ۖ وَكُنَّا نَحْنُ ٱلْوَٰرِثِينَ
wakam ahlaknā min qaryatin baṭirat maʿīshatahā fatil'ka masākinuhum lam tus'kan min baʿdihim illā qalīlan wakunnā naḥnu l-wārithīna
اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کر چکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اِترا گئے تھے۔ سو دیکھ لو، وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے، آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے۔1
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ حَتَّىٰ يَبْعَثَ فِىٓ أُمِّهَا رَسُولًۭا يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِنَا ۚ وَمَا كُنَّا مُهْلِكِى ٱلْقُرَىٰٓ إِلَّا وَأَهْلُهَا ظَـٰلِمُونَ
wamā kāna rabbuka muh'lika l-qurā ḥattā yabʿatha fī ummihā rasūlan yatlū ʿalayhim āyātinā wamā kunnā muh'likī l-qurā illā wa-ahluhā ẓālimūna
اور تیرا ربّ بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسُول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات سُناتا۔ اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہو جاتے۔1
وَمَآ أُوتِيتُم مِّن شَىْءٍۢ فَمَتَـٰعُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَزِينَتُهَا ۚ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيْرٌۭ وَأَبْقَىٰٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
wamā ūtītum min shayin famatāʿu l-ḥayati l-dun'yā wazīnatuhā wamā ʿinda l-lahi khayrun wa-abqā afalā taʿqilūna
تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دُنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے بہتر اور باقی تر ہے کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے؟
أَفَمَن وَعَدْنَـٰهُ وَعْدًا حَسَنًۭا فَهُوَ لَـٰقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَـٰهُ مَتَـٰعَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ مِنَ ٱلْمُحْضَرِينَ
afaman waʿadnāhu waʿdan ḥasanan fahuwa lāqīhi kaman mattaʿnāhu matāʿa l-ḥayati l-dun'yā thumma huwa yawma l-qiyāmati mina l-muḥ'ḍarīna
بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو کبھی اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جسے ہم نے صرفِ حیات دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو؟1
وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآءِىَ ٱلَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
wayawma yunādīhim fayaqūlu ayna shurakāiya alladhīna kuntum tazʿumūna
اور (بھُول نہ جائیں یہ لوگ)اُس دن کو جب کہ وہ اِن کو پکارے گا اور پُوچھے گا”کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے؟“1
قَالَ ٱلَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلْقَوْلُ رَبَّنَا هَـٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَغْوَيْنَآ أَغْوَيْنَـٰهُمْ كَمَا غَوَيْنَا ۖ تَبَرَّأْنَآ إِلَيْكَ ۖ مَا كَانُوٓا۟ إِيَّانَا يَعْبُدُونَ
qāla alladhīna ḥaqqa ʿalayhimu l-qawlu rabbanā hāulāi alladhīna aghwaynā aghwaynāhum kamā ghawaynā tabarranā ilayka mā kānū iyyānā yaʿbudūna
یہ قول جن پر چسپاں ہوگا1 وہ کہیں گے”اے ہمارے ربّ ، بے شک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ اِنہیں ہم نے اُسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے۔ ہم آپ کے سامنےبراءت کا اظہار کرتے ہیں۔2 یہ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے۔“3
وَقِيلَ ٱدْعُوا۟ شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَهُمْ وَرَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ۚ لَوْ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ يَهْتَدُونَ
waqīla id'ʿū shurakāakum fadaʿawhum falam yastajībū lahum wara-awū l-ʿadhāba law annahum kānū yahtadūna
پھر اِن سے کہا جائے گا کہ پکارو اب اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو۔1 یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ اِن کو کوئی جواب نہ دیں گے۔ اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے۔ کاش یہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے
وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَآ أَجَبْتُمُ ٱلْمُرْسَلِينَ
wayawma yunādīhim fayaqūlu mādhā ajabtumu l-mur'salīna
اور (فراموش نہ کریں یہ لوگ) وہ دن جبکہ وہ اِن کو پکارے گا اور پوچھے گا کہ "جو رسول بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا؟"
فَعَمِيَتْ عَلَيْهِمُ ٱلْأَنۢبَآءُ يَوْمَئِذٍۢ فَهُمْ لَا يَتَسَآءَلُونَ
faʿamiyat ʿalayhimu l-anbāu yawma-idhin fahum lā yatasāalūna
اُس وقت کوئی جواب اِن کو نہ سُوجھے گا اور نہ یہ آپس میں ایک دُوسرے سے پوچھ ہی سکیں گے
فَأَمَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَـٰلِحًۭا فَعَسَىٰٓ أَن يَكُونَ مِنَ ٱلْمُفْلِحِينَ
fa-ammā man tāba waāmana waʿamila ṣāliḥan faʿasā an yakūna mina l-muf'liḥīna
البتہ جس نے آج توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کر سکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہو گا
وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ وَيَخْتَارُ ۗ مَا كَانَ لَهُمُ ٱلْخِيَرَةُ ۚ سُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ وَتَعَـٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ
warabbuka yakhluqu mā yashāu wayakhtāru mā kāna lahumu l-khiyaratu sub'ḥāna l-lahi wataʿālā ʿammā yush'rikūna
تیرا ربّ پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور (وہ خود ہی اپنے کام کے لیے جسے چاہتا ہے)منتخب کر لیتا ہے، یہ انتخاب اِن لوگوں کے کرنے کا کام نہیں ہے،1 اللہ پاک ہے اور بہت بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
وَرَبُّكَ يَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ
warabbuka yaʿlamu mā tukinnu ṣudūruhum wamā yuʿ'linūna
تیرا ربّ جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں۔1
وَهُوَ ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ لَهُ ٱلْحَمْدُ فِى ٱلْأُولَىٰ وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ وَلَهُ ٱلْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
wahuwa l-lahu lā ilāha illā huwa lahu l-ḥamdu fī l-ūlā wal-ākhirati walahu l-ḥuk'mu wa-ilayhi tur'jaʿūna
وہی ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، فرماں روائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو
قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِن جَعَلَ ٱللَّهُ عَلَيْكُمُ ٱلَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ مَنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ ٱللَّهِ يَأْتِيكُم بِضِيَآءٍ ۖ أَفَلَا تَسْمَعُونَ
qul ara-aytum in jaʿala l-lahu ʿalaykumu al-layla sarmadan ilā yawmi l-qiyāmati man ilāhun ghayru l-lahi yatīkum biḍiyāin afalā tasmaʿūna
اے نبیؐ، اِن سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کونسا معبود ہے جو تمہیں روشنی لا دے؟ کیا تم سُنتے نہیں ہو؟
قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِن جَعَلَ ٱللَّهُ عَلَيْكُمُ ٱلنَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ مَنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ ٱللَّهِ يَأْتِيكُم بِلَيْلٍۢ تَسْكُنُونَ فِيهِ ۖ أَفَلَا تُبْصِرُونَ
qul ara-aytum in jaʿala l-lahu ʿalaykumu l-nahāra sarmadan ilā yawmi l-qiyāmati man ilāhun ghayru l-lahi yatīkum bilaylin taskunūna fīhi afalā tub'ṣirūna
اِن سے پوچھو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کونسا معبُود ہے جو تمہیں رات لا دے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کر سکو؟ کیا تم کو سُوجھتا نہیں؟
وَمِن رَّحْمَتِهِۦ جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ لِتَسْكُنُوا۟ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
wamin raḥmatihi jaʿala lakumu al-layla wal-nahāra litaskunū fīhi walitabtaghū min faḍlihi walaʿallakum tashkurūna
یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم (رات میں) سکون حاصل کرو اور (دن کو) اپنے رب کا فضل تلاش کرو، شاید کہ تم شکر گزار بنو
وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآءِىَ ٱلَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
wayawma yunādīhim fayaqūlu ayna shurakāiya alladhīna kuntum tazʿumūna
(یاد رکھیں یہ لوگ) وہ دن جبکہ وہ انہیں پکارے گا پھر پوچھے گا "کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے؟"
وَنَزَعْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍۢ شَهِيدًۭا فَقُلْنَا هَاتُوا۟ بُرْهَـٰنَكُمْ فَعَلِمُوٓا۟ أَنَّ ٱلْحَقَّ لِلَّهِ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ
wanazaʿnā min kulli ummatin shahīdan faqul'nā hātū bur'hānakum faʿalimū anna l-ḥaqa lillahi waḍalla ʿanhum mā kānū yaftarūna
اور ہم ہر اُمّت میں سے ایک گواہ نکال لائیں گے1 پھر کہیں گے کہ”لاوٴ اب اپنی دلیل۔“2 اس وقت انہیں معلوم ہو جائے گا کہ حق اللہ کی طرف ہے، اور گم ہو جائیں گے ان کے وہ سارے جھُوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے
۞ إِنَّ قَـٰرُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ ۖ وَءَاتَيْنَـٰهُ مِنَ ٱلْكُنُوزِ مَآ إِنَّ مَفَاتِحَهُۥ لَتَنُوٓأُ بِٱلْعُصْبَةِ أُو۟لِى ٱلْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُۥ قَوْمُهُۥ لَا تَفْرَحْ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْفَرِحِينَ
inna qārūna kāna min qawmi mūsā fabaghā ʿalayhim waātaynāhu mina l-kunūzi mā inna mafātiḥahu latanūu bil-ʿuṣ'bati ulī l-quwati idh qāla lahu qawmuhu lā tafraḥ inna l-laha lā yuḥibbu l-fariḥīna
یہ ایک واقعہ ہے1 کہ قارون موسیٰؑ کی قوم کا ایک شخص تھا، پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہوگیا۔2 اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اُٹھا سکتی تھی۔3 ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا ”پھُول نہ جا، اللہ پھُولنے والوں کو پسند نہیں کرتا
وَٱبْتَغِ فِيمَآ ءَاتَىٰكَ ٱللَّهُ ٱلدَّارَ ٱلْـَٔاخِرَةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ ٱلدُّنْيَا ۖ وَأَحْسِن كَمَآ أَحْسَنَ ٱللَّهُ إِلَيْكَ ۖ وَلَا تَبْغِ ٱلْفَسَادَ فِى ٱلْأَرْضِ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُفْسِدِينَ
wa-ib'taghi fīmā ātāka l-lahu l-dāra l-ākhirata walā tansa naṣībaka mina l-dun'yā wa-aḥsin kamā aḥsana l-lahu ilayka walā tabghi l-fasāda fī l-arḍi inna l-laha lā yuḥibbu l-muf'sidīna
جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دُنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا"
قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِىٓ ۚ أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِۦ مِنَ ٱلْقُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةًۭ وَأَكْثَرُ جَمْعًۭا ۚ وَلَا يُسْـَٔلُ عَن ذُنُوبِهِمُ ٱلْمُجْرِمُونَ
qāla innamā ūtītuhu ʿalā ʿil'min ʿindī awalam yaʿlam anna l-laha qad ahlaka min qablihi mina l-qurūni man huwa ashaddu min'hu quwwatan wa-aktharu jamʿan walā yus'alu ʿan dhunūbihimu l-muj'rimūna
تو اُس نے کہا”یہ سب کچھ تو مجھے اُس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے“1۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا اس کو یہ علم نہ تھا کہ اللہ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کر چکا ہے جو اس سے زیادہ قوت اور جمعیت رکھتے تھے؟2 مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پُوچھے جاتے۔3
فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِۦ فِى زِينَتِهِۦ ۖ قَالَ ٱلَّذِينَ يُرِيدُونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا يَـٰلَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ أُوتِىَ قَـٰرُونُ إِنَّهُۥ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍۢ
fakharaja ʿalā qawmihi fī zīnatihi qāla alladhīna yurīdūna l-ḥayata l-dun'yā yālayta lanā mith'la mā ūtiya qārūnu innahu ladhū ḥaẓẓin ʿaẓīmin
ایک روز وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پُورے ٹھاٹھ میں نکلا جو لوگ حیات دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے "کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے، یہ تو بڑا نصیبے والا ہے"
وَقَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ ٱللَّهِ خَيْرٌۭ لِّمَنْ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَـٰلِحًۭا وَلَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ٱلصَّـٰبِرُونَ
waqāla alladhīna ūtū l-ʿil'ma waylakum thawābu l-lahi khayrun liman āmana waʿamila ṣāliḥan walā yulaqqāhā illā l-ṣābirūna
مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے”افسوس تمہارے حال پر ، اللہ کا ثواب بہتر ہے اُس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو۔“1
فَخَسَفْنَا بِهِۦ وَبِدَارِهِ ٱلْأَرْضَ فَمَا كَانَ لَهُۥ مِن فِئَةٍۢ يَنصُرُونَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُنتَصِرِينَ
fakhasafnā bihi wabidārihi l-arḍa famā kāna lahu min fi-atin yanṣurūnahu min dūni l-lahi wamā kāna mina l-muntaṣirīna
آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دَھنسا دیا پھر کوئی اس کے حامیوں کا گروہ نہ تھا جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کو آتا اور نہ وہ خود اپنی مدد آپ کر سکا
وَأَصْبَحَ ٱلَّذِينَ تَمَنَّوْا۟ مَكَانَهُۥ بِٱلْأَمْسِ يَقُولُونَ وَيْكَأَنَّ ٱللَّهَ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَيَقْدِرُ ۖ لَوْلَآ أَن مَّنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَا ۖ وَيْكَأَنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلْكَـٰفِرُونَ
wa-aṣbaḥa alladhīna tamannaw makānahu bil-amsi yaqūlūna wayka-anna l-laha yabsuṭu l-riz'qa liman yashāu min ʿibādihi wayaqdiru lawlā an manna l-lahu ʿalaynā lakhasafa binā wayka-annahu lā yuf'liḥu l-kāfirūna
اب وہی لوگ جو کل اس کی منزلت کی تمنا کر رہے تھے کہنے لگے”افسوس، ہم بھُول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تُلا دیتا ہے۔1 اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں دَھنسا دیتا۔ افسوس ہم کو یاد نہ رہا کہ کافر فلاح نہیں پایا کرتے۔“2
تِلْكَ ٱلدَّارُ ٱلْـَٔاخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّۭا فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فَسَادًۭا ۚ وَٱلْعَـٰقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ
til'ka l-dāru l-ākhiratu najʿaluhā lilladhīna lā yurīdūna ʿuluwwan fī l-arḍi walā fasādan wal-ʿāqibatu lil'muttaqīna
وہ آخرت کا گھر1 تو ہم اُن لوگوں کے لیے مخصُوص کر دیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے2 اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں۔3 اور انجام کی بھلائی متقین ہی کے لیے ہے۔4
مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيْرٌۭ مِّنْهَا ۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى ٱلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
man jāa bil-ḥasanati falahu khayrun min'hā waman jāa bil-sayi-ati falā yuj'zā alladhīna ʿamilū l-sayiāti illā mā kānū yaʿmalūna
جو کوئی بھَلائی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بھَلائی ہے، اور جو بُرائی لے کر آئے تو بُرائیاں کرنے والوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے عمل وہ کرتے تھے
إِنَّ ٱلَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ لَرَآدُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍۢ ۚ قُل رَّبِّىٓ أَعْلَمُ مَن جَآءَ بِٱلْهُدَىٰ وَمَنْ هُوَ فِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍۢ
inna alladhī faraḍa ʿalayka l-qur'āna larādduka ilā maʿādin qul rabbī aʿlamu man jāa bil-hudā waman huwa fī ḍalālin mubīnin
اے نبیؐ ، یقین جانو کہ جس نے یہ قرآن تم پر فرض کیا ہے1 وہ تمہیں ایک بہترین انجام کو پہنچانے والا ہے۔2 اِن لوگوں سے کہہ دو کہ ”میرا ربّ خُوب جانتا ہے کہ ہدایت لے کر کون آیا ہے اور کھُلی گمراہی میں کون مُبتلا ہے۔“
وَمَا كُنتَ تَرْجُوٓا۟ أَن يُلْقَىٰٓ إِلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبُ إِلَّا رَحْمَةًۭ مِّن رَّبِّكَ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ ظَهِيرًۭا لِّلْكَـٰفِرِينَ
wamā kunta tarjū an yul'qā ilayka l-kitābu illā raḥmatan min rabbika falā takūnanna ẓahīran lil'kāfirīna
“ تم اس بات کے ہرگز اُمیدوار نہ تھے کہ تم پر کتاب نازل کی جائے گی، یہ تو محض تمہارے ربّ کی مہربانی سے (تم پر نازل ہوئی ہے)،1 پس تم کافروں کے مددگار نہ بنو۔2
وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ بَعْدَ إِذْ أُنزِلَتْ إِلَيْكَ ۖ وَٱدْعُ إِلَىٰ رَبِّكَ ۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ
walā yaṣuddunnaka ʿan āyāti l-lahi baʿda idh unzilat ilayka wa-ud'ʿu ilā rabbika walā takūnanna mina l-mush'rikīna
اور ایسا کبھی نہ ہونے پائے کہ اللہ کی آیات جب تم پر نازل ہوں تو کُفّار تمہیں اُن سے باز رکھیں۔1 اپنے ربّ کی طرف دعوت دو اور ہرگز مشرکوں میں شامل نہ ہو
وَلَا تَدْعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَـٰهًا ءَاخَرَ ۘ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ كُلُّ شَىْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُۥ ۚ لَهُ ٱلْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
walā tadʿu maʿa l-lahi ilāhan ākhara lā ilāha illā huwa kullu shayin hālikun illā wajhahu lahu l-ḥuk'mu wa-ilayhi tur'jaʿūna
اور اللہ کے سوا کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو۔ اُس کے سوا کوئی معبُود نہیں ہے۔ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اُس کی ذات کے۔ فرماں روائی اسی کی ہے1 اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو