7

الأعراف

Al-A'raf

The Heights

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
آیات 206
پارہ 8-9
صفحہ 151-176
قسم مکی
نزول کی ترتیب 39
0:00 / 0:00
آیت: 1 / 206
1

الٓمٓصٓ

alif-lam-meem-sad

ا، ل، م، ص

2

كِتَـٰبٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُن فِى صَدْرِكَ حَرَجٌۭ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِۦ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ

kitābun unzila ilayka falā yakun fī ṣadrika ḥarajun min'hu litundhira bihi wadhik'rā lil'mu'minīna

یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے،1 پس اے محمد ﷺ ، تمہارے دل میں اس سے کوءی جھجک نہ ہو۔2 اس کے اُتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے (منکرین کو)ڈراؤ اور ایمان لانے والے لوگوں کو یاد دہانی ہو۔3

3

ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ ۗ قَلِيلًۭا مَّا تَذَكَّرُونَ

ittabiʿū mā unzila ilaykum min rabbikum walā tattabiʿū min dūnihi awliyāa qalīlan mā tadhakkarūna

لوگو، جو کچھ تمہارے ربّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اُس کی پیروی کرو اور اپنے ربّ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔۔۔1 مگر تم نصیحت کم ہی مانتے ہو

4

وَكَم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَـٰهَا فَجَآءَهَا بَأْسُنَا بَيَـٰتًا أَوْ هُمْ قَآئِلُونَ

wakam min qaryatin ahlaknāhā fajāahā basunā bayātan aw hum qāilūna

کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا اُن پر ہمارا عذاب اچانک رات کے وقت ٹوٹ پڑا، یا دن دہاڑے ایسے وقت آیا جب وہ آرام کر رہے تھے

5

فَمَا كَانَ دَعْوَىٰهُمْ إِذْ جَآءَهُم بَأْسُنَآ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا ظَـٰلِمِينَ

famā kāna daʿwāhum idh jāahum basunā illā an qālū innā kunnā ẓālimīna

اور جب ہمارا عذاب اُن پر آگیا تو ان کی زبان پر اِس کے سوا کوئی صدا نہ تھی کہ واقعی ہم ظالم تھے۔ 1

6

فَلَنَسْـَٔلَنَّ ٱلَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْـَٔلَنَّ ٱلْمُرْسَلِينَ

falanasalanna alladhīna ur'sila ilayhim walanasalanna l-mur'salīna

پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم اُن لوگوں سے باز پرس کریں، 1جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں( کہ اُنہوں نے پیغام رسانی کا فرض کہاں تک انجام دیا اور انہیں اس کا کیا جواب ملا)2

7

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم بِعِلْمٍۢ ۖ وَمَا كُنَّا غَآئِبِينَ

falanaquṣṣanna ʿalayhim biʿil'min wamā kunnā ghāibīna

پھر ہم خود پور ے علم کے ساتھ سرگزشت ان کے آگے پیش کر دیں گے، آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے

8

وَٱلْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ ٱلْحَقُّ ۚ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

wal-waznu yawma-idhin l-ḥaqu faman thaqulat mawāzīnuhu fa-ulāika humu l-muf'liḥūna

اور وزن اس روز عین حق 1ہوگا۔ جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے

9

وَمَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُم بِمَا كَانُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا يَظْلِمُونَ

waman khaffat mawāzīnuhu fa-ulāika alladhīna khasirū anfusahum bimā kānū biāyātinā yaẓlimūna

اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے1 کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاوٴ کرتے رہے تھے

10

وَلَقَدْ مَكَّنَّـٰكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَـٰيِشَ ۗ قَلِيلًۭا مَّا تَشْكُرُونَ

walaqad makkannākum fī l-arḍi wajaʿalnā lakum fīhā maʿāyisha qalīlan mā tashkurūna

ہم نے تمھیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لیے یہاں سامان زیست فراہم کیا، مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو

11

وَلَقَدْ خَلَقْنَـٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَـٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَـٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِـَٔادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ ٱلسَّـٰجِدِينَ

walaqad khalaqnākum thumma ṣawwarnākum thumma qul'nā lil'malāikati us'judū liādama fasajadū illā ib'līsa lam yakun mina l-sājidīna

ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کی، پھر تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو،1 اس پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا

12

قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ ۖ قَالَ أَنَا۠ خَيْرٌۭ مِّنْهُ خَلَقْتَنِى مِن نَّارٍۢ وَخَلَقْتَهُۥ مِن طِينٍۢ

qāla mā manaʿaka allā tasjuda idh amartuka qāla anā khayrun min'hu khalaqtanī min nārin wakhalaqtahu min ṭīnin

پوچھا، "تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا؟" بولا، "میں اُس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اُسے مٹی سے"

13

قَالَ فَٱهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَٱخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ ٱلصَّـٰغِرِينَ

qāla fa-ih'biṭ min'hā famā yakūnu laka an tatakabbara fīhā fa-ukh'ruj innaka mina l-ṣāghirīna

فرمایا ، ”اچھا، تو یہاں سے نیچے اُتر۔ تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے۔ نکل جا کہ درحقیقت تُو اُن لوگوں میں سے ہے جو اپنی ذلّت چاہتے ہیں۔“1

14

قَالَ أَنظِرْنِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ

qāla anẓir'nī ilā yawmi yub'ʿathūna

بولا، "مجھے اُس دن تک مہلت دے جب کہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے"

15

قَالَ إِنَّكَ مِنَ ٱلْمُنظَرِينَ

qāla innaka mina l-munẓarīna

فرمایا، "تجھے مہلت ہے"

16

قَالَ فَبِمَآ أَغْوَيْتَنِى لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَٰطَكَ ٱلْمُسْتَقِيمَ

qāla fabimā aghwaytanī la-aqʿudanna lahum ṣirāṭaka l-mus'taqīma

بولا، "اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر

17

ثُمَّ لَـَٔاتِيَنَّهُم مِّنۢ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَـٰنِهِمْ وَعَن شَمَآئِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَـٰكِرِينَ

thumma laātiyannahum min bayni aydīhim wamin khalfihim waʿan aymānihim waʿan shamāilihim walā tajidu aktharahum shākirīna

اِن انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا، آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے اِن کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائےگا۔“1

18

قَالَ ٱخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًۭا مَّدْحُورًۭا ۖ لَّمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمْ أَجْمَعِينَ

qāla ukh'ruj min'hā madhūman madḥūran laman tabiʿaka min'hum la-amla-anna jahannama minkum ajmaʿīna

فرمایا، " نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا یقین رکھ کہ اِن میں سے جو تیری پیروی کریں گے، تجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا

19

وَيَـٰٓـَٔادَمُ ٱسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ ٱلْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَـٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ

wayāādamu us'kun anta wazawjuka l-janata fakulā min ḥaythu shi'tumā walā taqrabā hādhihi l-shajarata fatakūnā mina l-ẓālimīna

اور اے آدمؑ، تو اور تیری بیوی، دونوں اس جنت میں رہو، جہاں جس چیز کو تمہارا جی چاہے کھاؤ، مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے"

20

فَوَسْوَسَ لَهُمَا ٱلشَّيْطَـٰنُ لِيُبْدِىَ لَهُمَا مَا وُۥرِىَ عَنْهُمَا مِن سَوْءَٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَىٰكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَـٰذِهِ ٱلشَّجَرَةِ إِلَّآ أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ ٱلْخَـٰلِدِينَ

fawaswasa lahumā l-shayṭānu liyub'diya lahumā mā wūriya ʿanhumā min sawātihimā waqāla mā nahākumā rabbukumā ʿan hādhihi l-shajarati illā an takūnā malakayni aw takūnā mina l-khālidīna

پھر شیطان نے اُن کو بہکایا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے اس نے ان سے کہا، "تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ اِس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہو جائے

21

وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّى لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّـٰصِحِينَ

waqāsamahumā innī lakumā lamina l-nāṣiḥīna

اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں

22

فَدَلَّىٰهُمَا بِغُرُورٍۢ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا ٱلشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْءَٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ ٱلْجَنَّةِ ۖ وَنَادَىٰهُمَا رَبُّهُمَآ أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا ٱلشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَآ إِنَّ ٱلشَّيْطَـٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ

fadallāhumā bighurūrin falammā dhāqā l-shajarata badat lahumā sawātuhumā waṭafiqā yakhṣifāni ʿalayhimā min waraqi l-janati wanādāhumā rabbuhumā alam anhakumā ʿan til'kumā l-shajarati wa-aqul lakumā inna l-shayṭāna lakumā ʿaduwwun mubīnun

اس طرح دھو کا دے کر وہ ان دونوں کو رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پرلے آیا آخرکار جب انہوں نے اس درخت کا مزا چکھا تو ان کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے تب ان کے رب نے انہیں پکارا، " کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے؟"

23

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَـٰسِرِينَ

qālā rabbanā ẓalamnā anfusanā wa-in lam taghfir lanā watarḥamnā lanakūnanna mina l-khāsirīna

دونوں بول اُٹھے”اے ربّ! ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تُو نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے۔“ 1

24

قَالَ ٱهْبِطُوا۟ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۭ ۖ وَلَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّۭ وَمَتَـٰعٌ إِلَىٰ حِينٍۢ

qāla ih'biṭū baʿḍukum libaʿḍin ʿaduwwun walakum fī l-arḍi mus'taqarrun wamatāʿun ilā ḥīnin

رمایا، ”اُتر جاوٴ1، تم ایک دُوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے ایک خاص مدّت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامانِ زیست ہے۔“

25

قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ

qāla fīhā taḥyawna wafīhā tamūtūna wamin'hā tukh'rajūna

اور فرمایا، "وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو آخرکار نکالا جائے گا"

26

يَـٰبَنِىٓ ءَادَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًۭا يُوَٰرِى سَوْءَٰتِكُمْ وَرِيشًۭا ۖ وَلِبَاسُ ٱلتَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌۭ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ

yābanī ādama qad anzalnā ʿalaykum libāsan yuwārī sawātikum warīshan walibāsu l-taqwā dhālika khayrun dhālika min āyāti l-lahi laʿallahum yadhakkarūna

اے اولادِآدم1، ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابلِ شرم حصّوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو، اور بہترین لباس تقوٰی کا لباس ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، شاید کہ لوگ اِس سے سبق لیں

27

يَـٰبَنِىٓ ءَادَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ ٱلشَّيْطَـٰنُ كَمَآ أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ ٱلْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءَٰتِهِمَآ ۗ إِنَّهُۥ يَرَىٰكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُۥ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا ٱلشَّيَـٰطِينَ أَوْلِيَآءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ

yābanī ādama lā yaftinannakumu l-shayṭānu kamā akhraja abawaykum mina l-janati yanziʿu ʿanhumā libāsahumā liyuriyahumā sawātihimā innahu yarākum huwa waqabīluhu min ḥaythu lā tarawnahum innā jaʿalnā l-shayāṭīna awliyāa lilladhīna lā yu'minūna

ے بنی آدم، ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اُسی طرح فتنے میں مبتلا کر دے جس طرح اُس نے تمہارے والدین کو جنّت سے نکلوایا تھااور اُن کے لباس اُن پر سے اُتروا دیے تھےتاکہ اُن کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے۔ وہ اور اُس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم اُنھیں نہیں دیکھ سکتے۔ اِن شیاطین کو ہم نے اُن لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔1

28

وَإِذَا فَعَلُوا۟ فَـٰحِشَةًۭ قَالُوا۟ وَجَدْنَا عَلَيْهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا ۗ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِٱلْفَحْشَآءِ ۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

wa-idhā faʿalū fāḥishatan qālū wajadnā ʿalayhā ābāanā wal-lahu amaranā bihā qul inna l-laha lā yamuru bil-faḥshāi ataqūlūna ʿalā l-lahi mā lā taʿlamūna

یہ لوگ جب کو ئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کواِسی طریقہ پر پایا ہے اور اللہ ہی نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔1 اِن سے کہو اللہ بے حیائی کا حکم کبھی نہیں دیا کرتا۔2 کیا تم اللہ کا نام لے کر وہ باتیں کہتے ہوجن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں؟

29

قُلْ أَمَرَ رَبِّى بِٱلْقِسْطِ ۖ وَأَقِيمُوا۟ وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍۢ وَٱدْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ ۚ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ

qul amara rabbī bil-qis'ṭi wa-aqīmū wujūhakum ʿinda kulli masjidin wa-id'ʿūhu mukh'liṣīna lahu l-dīna kamā bada-akum taʿūdūna

اے محمدؐ ، اِن سے کہو، میرے ربّ نے تو راستی اور انصاف کا حکم دیا ہے، اور اُس کا حکم تو یہ ہے کہ ہر عبادت میں اپنا رُخ ٹھیک رکھواور اُسی کو پکارو اپنے دین کو اس کے لیے خالص رکھ کر،جس طرح اُس نے تمہیں اب پیدا کیا ہے اسی طرح تم پھر پیدا کیے جاوٴ گے۔1

30

فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلضَّلَـٰلَةُ ۗ إِنَّهُمُ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلشَّيَـٰطِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ

farīqan hadā wafarīqan ḥaqqa ʿalayhimu l-ḍalālatu innahumu ittakhadhū l-shayāṭīna awliyāa min dūni l-lahi wayaḥsabūna annahum muh'tadūna

ایک گروہ کوتو اس نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی ہے، کیونکہ انہوں نے خدا کے بجائے شیاطین کو اپنا سر پرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں

31

۞ يَـٰبَنِىٓ ءَادَمَ خُذُوا۟ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍۢ وَكُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ وَلَا تُسْرِفُوٓا۟ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِفِينَ

yābanī ādama khudhū zīnatakum ʿinda kulli masjidin wakulū wa-ish'rabū walā tus'rifū innahu lā yuḥibbu l-mus'rifīna

اے بنی آدم، ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو1 اور کھاوٴ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔2

32

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِىٓ أَخْرَجَ لِعِبَادِهِۦ وَٱلطَّيِّبَـٰتِ مِنَ ٱلرِّزْقِ ۚ قُلْ هِىَ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا خَالِصَةًۭ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ

qul man ḥarrama zīnata l-lahi allatī akhraja liʿibādihi wal-ṭayibāti mina l-riz'qi qul hiya lilladhīna āmanū fī l-ḥayati l-dun'yā khāliṣatan yawma l-qiyāmati kadhālika nufaṣṣilu l-āyāti liqawmin yaʿlamūna

اے محمد ؐ ، اِن سے کہو کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا ہے جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟1 کہو، یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں، اور قیامت کے روز تو خالصتًہ انہی کے لیے ہوں گی۔2 اِس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھنے والے ہیں

33

قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّىَ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَٱلْإِثْمَ وَٱلْبَغْىَ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا۟ بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ سُلْطَـٰنًۭا وَأَن تَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

qul innamā ḥarrama rabbiya l-fawāḥisha mā ẓahara min'hā wamā baṭana wal-ith'ma wal-baghya bighayri l-ḥaqi wa-an tush'rikū bil-lahi mā lam yunazzil bihi sul'ṭānan wa-an taqūlū ʿalā l-lahi mā lā taʿlamūna

اے محمد ؐ ، اِن سے کہو کہ میرے ربّ نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام۔۔۔۔خواہ کھُلے ہوں یا چھُپے۔۔۔۔1 اور گُناہ 2اور حق کے خلاف زیادتی 3اور یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرو جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو کہ وہ حقیقت میں اُس نے فرمائی ہے

34

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌۭ ۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةًۭ ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ

walikulli ummatin ajalun fa-idhā jāa ajaluhum lā yastakhirūna sāʿatan walā yastaqdimūna

ہر قوم کے لیے مہلت کی ایک مدّت مقرر ہے، پھر جب کسی قوم کی مدّت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر و تقدیم نہیں ہوتی۔1

35

يَـٰبَنِىٓ ءَادَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌۭ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ ءَايَـٰتِى ۙ فَمَنِ ٱتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

yābanī ādama immā yatiyannakum rusulun minkum yaquṣṣūna ʿalaykum āyātī famani ittaqā wa-aṣlaḥa falā khawfun ʿalayhim walā hum yaḥzanūna

(اور یہ بات اللہ نے آغاز تخلیق ہی میں صاف فرما دی تھی کہ) اے بنی آدم، یاد رکھو، اگر تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایسے رسول آئیں جو تمہیں میری آیات سنا رہے ہوں، تو جو کوئی نافرمانی سے بچے گا اور اپنے رویہ کی اصلاح کر لے گا اس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے

36

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا وَٱسْتَكْبَرُوا۟ عَنْهَآ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ

wa-alladhīna kadhabū biāyātinā wa-is'takbarū ʿanhā ulāika aṣḥābu l-nāri hum fīhā khālidūna

اور جو لوگ ہماری آیات کو جھُٹلائیں گےاور ان کے مقابلہ میں سرکشی برتیں گےوہی اہلِ دوزخ ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔1

37

فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَـٰتِهِۦٓ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيبُهُم مِّنَ ٱلْكِتَـٰبِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ قَالُوٓا۟ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۖ قَالُوا۟ ضَلُّوا۟ عَنَّا وَشَهِدُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ كَـٰفِرِينَ

faman aẓlamu mimmani if'tarā ʿalā l-lahi kadhiban aw kadhaba biāyātihi ulāika yanāluhum naṣībuhum mina l-kitābi ḥattā idhā jāathum rusulunā yatawaffawnahum qālū ayna mā kuntum tadʿūna min dūni l-lahi qālū ḍallū ʿannā washahidū ʿalā anfusihim annahum kānū kāfirīna

ظاہر ہے کہ اُس سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جو بالکل جھوٹی باتیں گھڑ کر اللہ کی طرف منسُوب کرے یا اللہ کی سچی آیات کو جھُٹلائے۔ ایسے لوگ اپنے نوشتہٴِ تقدیر کے مطابق اپنا حصّہ پاتے رہیں گے،1 یہاں تک کہ وہ گھڑی آجائےگی جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے پہنچیں گے۔ اُس وقت وہ اُن سے پوچھیں گے کہ بتاوٴ، اب کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کو تم خدا کے بجائے پُکارتے تھے؟ وہ کہیں گے کہ ”سب ہم سے گُم ہو گئے“۔ اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ ہم واقعی منکرِ حق تھے

38

قَالَ ٱدْخُلُوا۟ فِىٓ أُمَمٍۢ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ فِى ٱلنَّارِ ۖ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌۭ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا ٱدَّارَكُوا۟ فِيهَا جَمِيعًۭا قَالَتْ أُخْرَىٰهُمْ لِأُولَىٰهُمْ رَبَّنَا هَـٰٓؤُلَآءِ أَضَلُّونَا فَـَٔاتِهِمْ عَذَابًۭا ضِعْفًۭا مِّنَ ٱلنَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّۢ ضِعْفٌۭ وَلَـٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ

qāla ud'khulū fī umamin qad khalat min qablikum mina l-jini wal-insi fī l-nāri kullamā dakhalat ummatun laʿanat ukh'tahā ḥattā idhā iddārakū fīhā jamīʿan qālat ukh'rāhum liūlāhum rabbanā hāulāi aḍallūnā faātihim ʿadhāban ḍiʿ'fan mina l-nāri qāla likullin ḍiʿ'fun walākin lā taʿlamūna

اللہ فرمائے گا جاوٴ،تم بھی اُسی جہنم میں چلے جاوٴ جس میں تم سے پہلے گُزرے ہوئے گروہِ جِن و انس جا چکے ہیں۔ ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا، حتٰی کہ سب وہاں جمع ہو جائیں گےتو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے ربّ، یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا لہٰذا اِنہیں آگ کا دوہرا عذاب دے۔ جوام میں اِرشاد ہوگا، ہر ایک کے لیے دوہرا ہی عذاب ہےمگر تم جانتے نہیں ہو۔1

39

وَقَالَتْ أُولَىٰهُمْ لِأُخْرَىٰهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍۢ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ

waqālat ūlāhum li-ukh'rāhum famā kāna lakum ʿalaynā min faḍlin fadhūqū l-ʿadhāba bimā kuntum taksibūna

اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا(اگر ہم قابلِ الزام تھے) تو تمہی کو ہم پر کون سی فضیلت حاصل تھی، اب اپنی کمائی کے نتیجہ میں عذاب کا مزا چکھو۔ 1

40

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا وَٱسْتَكْبَرُوا۟ عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَٰبُ ٱلسَّمَآءِ وَلَا يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ ٱلْجَمَلُ فِى سَمِّ ٱلْخِيَاطِ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُجْرِمِينَ

inna alladhīna kadhabū biāyātinā wa-is'takbarū ʿanhā lā tufattaḥu lahum abwābu l-samāi walā yadkhulūna l-janata ḥattā yalija l-jamalu fī sammi l-khiyāṭi wakadhālika najzī l-muj'rimīna

یقین جانو، جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کی ہے ان کے لیے آسمان کے دروازے ہرگز نہ کھولے جائیں گے اُن کا جنت میں جانا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزرنا مجرموں کو ہمارے ہاں ایسا ہی بدلہ ملا کرتا ہے

41

لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌۭ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍۢ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّـٰلِمِينَ

lahum min jahannama mihādun wamin fawqihim ghawāshin wakadhālika najzī l-ẓālimīna

ان کے لیے تو جہنم کا بچھونا ہوگا اور جہنم ہی کا اوڑھنا یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں

42

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَآ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ

wa-alladhīna āmanū waʿamilū l-ṣāliḥāti lā nukallifu nafsan illā wus'ʿahā ulāika aṣḥābu l-janati hum fīhā khālidūna

بخلاف اس کے جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا ہے اور اچھے کام کیے ہیں اور اس باب میں ہم ہر ایک کو اس کی استطاعت ہی کے مطابق ذمہ دار ٹھیراتے ہیں وہ اہل جنت ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے

43

وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمُ ٱلْأَنْهَـٰرُ ۖ وَقَالُوا۟ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى هَدَىٰنَا لِهَـٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِىَ لَوْلَآ أَنْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ ۖ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِٱلْحَقِّ ۖ وَنُودُوٓا۟ أَن تِلْكُمُ ٱلْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

wanazaʿnā mā fī ṣudūrihim min ghillin tajrī min taḥtihimu l-anhāru waqālū l-ḥamdu lillahi alladhī hadānā lihādhā wamā kunnā linahtadiya lawlā an hadānā l-lahu laqad jāat rusulu rabbinā bil-ḥaqi wanūdū an til'kumu l-janatu ūrith'tumūhā bimā kuntum taʿmalūna

ان کے دلوں میں ایک دُوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہو گی اسے ہم نکال دیں گے۔1 اُن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور وہ کہیں گے کہ”تعریف خدا ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں راستہ دکھایا، ہم خود راہ نہ پاسکتے تھے اگر خدا ہماری رہنمائی نہ کرتا ، ہمارے ربّ کے بھیجے ہوئے رسول واقعی حق ہی لے کر آئے تھے“۔ اُس وقت نِدا آئے گی کہ”یہ جنّت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو تمہیں اُن کے اعمال کے بدلے میں ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے“۔2

44

وَنَادَىٰٓ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ أَصْحَـٰبَ ٱلنَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّۭا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّۭا ۖ قَالُوا۟ نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّـٰلِمِينَ

wanādā aṣḥābu l-janati aṣḥāba l-nāri an qad wajadnā mā waʿadanā rabbunā ḥaqqan fahal wajadttum mā waʿada rabbukum ḥaqqan qālū naʿam fa-adhana mu-adhinun baynahum an laʿnatu l-lahi ʿalā l-ẓālimīna

پھر یہ جنت کے لوگ دوزخ والوں سے پکار کر کہیں گے، "ہم نے اُن سارے وعدوں کو ٹھیک پا لیا جو ہمارے رب نے ہم سے کیے تھے، کیا تم نے بھی ان وعدوں کو ٹھیک پایا جو تمہارے رب نے کیے تھے؟" وہ جواب دیں گے "ہاں" تب ایک پکارنے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ "خدا کی لعنت اُن ظالموں پر

45

ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًۭا وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ كَـٰفِرُونَ

alladhīna yaṣuddūna ʿan sabīli l-lahi wayabghūnahā ʿiwajan wahum bil-ākhirati kāfirūna

جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے منکر تھے"

46

وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌۭ ۚ وَعَلَى ٱلْأَعْرَافِ رِجَالٌۭ يَعْرِفُونَ كُلًّۢا بِسِيمَىٰهُمْ ۚ وَنَادَوْا۟ أَصْحَـٰبَ ٱلْجَنَّةِ أَن سَلَـٰمٌ عَلَيْكُمْ ۚ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ

wabaynahumā ḥijābun waʿalā l-aʿrāfi rijālun yaʿrifūna kullan bisīmāhum wanādaw aṣḥāba l-janati an salāmun ʿalaykum lam yadkhulūhā wahum yaṭmaʿūna

ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اوٹ حائل ہوگی جس کی بلندیوں (اَعراف) پر کچھ اور لوگ ہوں گے۔ یہ ہر ایک کو اس کے قیافہ سے پہچانیں گے اور جنّت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ ”سلامتی ہو تم پر“ یہ لوگ جنّت میں داخل تو نہیں ہوئے مگر اس کے امیدوار ہوں گے۔1

47

۞ وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَـٰرُهُمْ تِلْقَآءَ أَصْحَـٰبِ ٱلنَّارِ قَالُوا۟ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ

wa-idhā ṣurifat abṣāruhum til'qāa aṣḥābi l-nāri qālū rabbanā lā tajʿalnā maʿa l-qawmi l-ẓālimīna

اور جب ان کی نگاہیں دوزخ والوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے، "اے رب! ہمیں اِن ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو"

48

وَنَادَىٰٓ أَصْحَـٰبُ ٱلْأَعْرَافِ رِجَالًۭا يَعْرِفُونَهُم بِسِيمَىٰهُمْ قَالُوا۟ مَآ أَغْنَىٰ عَنكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ

wanādā aṣḥābu l-aʿrāfi rijālan yaʿrifūnahum bisīmāhum qālū mā aghnā ʿankum jamʿukum wamā kuntum tastakbirūna

پھر یہ اعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ "دیکھ لیا تم نے، آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ ساز و سامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے

49

أَهَـٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ ٱللَّهُ بِرَحْمَةٍ ۚ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَآ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ

ahāulāi alladhīna aqsamtum lā yanāluhumu l-lahu biraḥmatin ud'khulū l-janata lā khawfun ʿalaykum walā antum taḥzanūna

اور کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اِن کو تو خدا پنی رحمت میں سے کچھ بھی نہ دے گا؟ آج انہی سے کہا گیا کہ داخل ہو جاؤ جنت میں، تمہارے لیے نہ خوف ہے نہ رنج"

50

وَنَادَىٰٓ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ أَصْحَـٰبَ ٱلْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا۟ عَلَيْنَا مِنَ ٱلْمَآءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ ۚ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى ٱلْكَـٰفِرِينَ

wanādā aṣḥābu l-nāri aṣḥāba l-janati an afīḍū ʿalaynā mina l-māi aw mimmā razaqakumu l-lahu qālū inna l-laha ḥarramahumā ʿalā l-kāfirīna

اور دوزخ کے لوگ جنت والوں کو پکاریں گے کہ کچھ تھوڑا سا پانی ہم پر ڈال دو یا جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے اُسی میں سے کچھ پھینک دو وہ جواب دیں گے کہ "اللہ نے یہ دونوں چیزیں اُن منکرین حق پر حرام کر دی ہیں

51

ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَهُمْ لَهْوًۭا وَلَعِبًۭا وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ فَٱلْيَوْمَ نَنسَىٰهُمْ كَمَا نَسُوا۟ لِقَآءَ يَوْمِهِمْ هَـٰذَا وَمَا كَانُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا يَجْحَدُونَ

alladhīna ittakhadhū dīnahum lahwan walaʿiban wagharrathumu l-ḥayatu l-dun'yā fal-yawma nansāhum kamā nasū liqāa yawmihim hādhā wamā kānū biāyātinā yajḥadūna

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تفریح بنا لیا تھا اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ اللہ فرماتا ہے کہ آج ہم بھی انہیں اسی طرح بُھلا دیں گے جس طرح وہ اِس دن کی ملاقات بھُولے رہے اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے۔“1

52

وَلَقَدْ جِئْنَـٰهُم بِكِتَـٰبٍۢ فَصَّلْنَـٰهُ عَلَىٰ عِلْمٍ هُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ

walaqad ji'nāhum bikitābin faṣṣalnāhu ʿalā ʿil'min hudan waraḥmatan liqawmin yu'minūna

ہم اِن لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس کو ہم نے علم کی بنا پر مفصّل بنایا ہے1 اور جو ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔2

53

هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُۥ ۚ يَوْمَ يَأْتِى تَأْوِيلُهُۥ يَقُولُ ٱلَّذِينَ نَسُوهُ مِن قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِٱلْحَقِّ فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُوا۟ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ ٱلَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ ۚ قَدْ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

hal yanẓurūna illā tawīlahu yawma yatī tawīluhu yaqūlu alladhīna nasūhu min qablu qad jāat rusulu rabbinā bil-ḥaqi fahal lanā min shufaʿāa fayashfaʿū lanā aw nuraddu fanaʿmala ghayra alladhī kunnā naʿmalu qad khasirū anfusahum waḍalla ʿanhum mā kānū yaftarūna

اب کیا یہ لوگ اِس کے سوا کسی اور بات کے منتظر ہیں کہ وہ انجام سامنے آجائے جس کی یہ کتاب خبر دے رہی ہے؟1 جس روز وہ انجام سامنے آگیا تو وہی لوگ جنہوں نے پہلے اسے نظر انداز کر دیا تھا کہیں گے ”واقعی ہمارے ربّ کے رسول حق لے کر آئے تھے، پھر کیا اب ہمیں کچھ سفارشی ملیں گے جو ہمارے حق میں سفارش کریں؟ یا ہمیں دوبارہ واپس ہی بھیج دیا جائے تاکہ جو کچھ ہم پہلے کرتے تھے اس کے بجائے اب دوسرے طریقے پر کام کر کے دکھائیں2“۔۔۔۔۔انہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے تصنیف کر رکھے تھے آج ان سے گم ہوگئے

54

إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ يُغْشِى ٱلَّيْلَ ٱلنَّهَارَ يَطْلُبُهُۥ حَثِيثًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتٍۭ بِأَمْرِهِۦٓ ۗ أَلَا لَهُ ٱلْخَلْقُ وَٱلْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

inna rabbakumu l-lahu alladhī khalaqa l-samāwāti wal-arḍa fī sittati ayyāmin thumma is'tawā ʿalā l-ʿarshi yugh'shī al-layla l-nahāra yaṭlubuhu ḥathīthan wal-shamsa wal-qamara wal-nujūma musakharātin bi-amrihi alā lahu l-khalqu wal-amru tabāraka l-lahu rabbu l-ʿālamīna

درحقیقت تمہارا ربّ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا 1، پھر اپنے تختِ سلطنت پر جلوہ فرما ہوا۔2 جو رات کو دن پر ڈھا نک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے۔ جس نے سُورج اور چاند اور تارے پیدا کیے۔ سب اس کے فرمان کے تابع ہیں۔ خبر دار رہو! اُسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے3۔ بڑا برکت ہے اللہ4 ، سارے جہانوں کا مالک و پروردگار

55

ٱدْعُوا۟ رَبَّكُمْ تَضَرُّعًۭا وَخُفْيَةً ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ

id'ʿū rabbakum taḍarruʿan wakhuf'yatan innahu lā yuḥibbu l-muʿ'tadīna

ا پنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، یقیناً و ہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

56

وَلَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَـٰحِهَا وَٱدْعُوهُ خَوْفًۭا وَطَمَعًا ۚ إِنَّ رَحْمَتَ ٱللَّهِ قَرِيبٌۭ مِّنَ ٱلْمُحْسِنِينَ

walā tuf'sidū fī l-arḍi baʿda iṣ'lāḥihā wa-id'ʿūhu khawfan waṭamaʿan inna raḥmata l-lahi qarībun mina l-muḥ'sinīna

زمین میں فساد برپا نہ کرو جبکہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے1 اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ،2 یقیناً اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے

57

وَهُوَ ٱلَّذِى يُرْسِلُ ٱلرِّيَـٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهِۦ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَقَلَّتْ سَحَابًۭا ثِقَالًۭا سُقْنَـٰهُ لِبَلَدٍۢ مَّيِّتٍۢ فَأَنزَلْنَا بِهِ ٱلْمَآءَ فَأَخْرَجْنَا بِهِۦ مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ ۚ كَذَٰلِكَ نُخْرِجُ ٱلْمَوْتَىٰ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

wahuwa alladhī yur'silu l-riyāḥa bush'ran bayna yaday raḥmatihi ḥattā idhā aqallat saḥāban thiqālan suq'nāhu libaladin mayyitin fa-anzalnā bihi l-māa fa-akhrajnā bihi min kulli l-thamarāti kadhālika nukh'riju l-mawtā laʿallakum tadhakkarūna

اور وہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے آگے خوشخبری لیے ہوئے بھیجتا ہے، پھر جب وہ پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھا لیتی ہیں تو انہیں کسی مردہ سر زمین کی طرف حرکت دیتا ہے، اور وہاں مینہ برسا کر (اُسی مری ہوئی زمین سے) طرح طرح کے پھل نکال لاتا ہے دیکھو، اس طرح ہم مُردوں کو حالت موت سے نکالتے ہیں، شاید کہ تم اس مشاہدے سے سبق لو

58

وَٱلْبَلَدُ ٱلطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُۥ بِإِذْنِ رَبِّهِۦ ۖ وَٱلَّذِى خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًۭا ۚ كَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لِقَوْمٍۢ يَشْكُرُونَ

wal-baladu l-ṭayibu yakhruju nabātuhu bi-idh'ni rabbihi wa-alladhī khabutha lā yakhruju illā nakidan kadhālika nuṣarrifu l-āyāti liqawmin yashkurūna

جو زمین اچھی ہوتی ہے وہ اپنے ربّ کے حکم سے خوب پھل پھول لاتی ہے اور جوزمین خراب ہوتی ہے اس سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ 1اس طرح ہم نشانیوں کو بار بار پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو شکر گزار ہونے والے ہیں

59

لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦ فَقَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥٓ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ

laqad arsalnā nūḥan ilā qawmihi faqāla yāqawmi uʿ'budū l-laha mā lakum min ilāhin ghayruhu innī akhāfu ʿalaykum ʿadhāba yawmin ʿaẓīmin

ہم نے نوح ؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا۔1 اس نے کہا”اے برادرانِ وقم، اللہ کی بندگی کرو، اُسکے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔2 میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔“

60

قَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِهِۦٓ إِنَّا لَنَرَىٰكَ فِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍۢ

qāla l-mala-u min qawmihi innā lanarāka fī ḍalālin mubīnin

اس کی قوم کے سرداروں نے جواب دیا "ہم کو تو یہ نظر آتا ہے کہ تم صریح گمراہی میں مبتلا ہو"

61

قَالَ يَـٰقَوْمِ لَيْسَ بِى ضَلَـٰلَةٌۭ وَلَـٰكِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

qāla yāqawmi laysa bī ḍalālatun walākinnī rasūlun min rabbi l-ʿālamīna

نوحؑ نے کہا "اے برادران قوم، میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہو ں بلکہ، میں رب العالمین کا رسول ہوں

62

أُبَلِّغُكُمْ رِسَـٰلَـٰتِ رَبِّى وَأَنصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

uballighukum risālāti rabbī wa-anṣaḥu lakum wa-aʿlamu mina l-lahi mā lā taʿlamūna

تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں، تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمھیں معلوم نہیں ہے

63

أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَآءَكُمْ ذِكْرٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا۟ وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

awaʿajib'tum an jāakum dhik'run min rabbikum ʿalā rajulin minkum liyundhirakum walitattaqū walaʿallakum tur'ḥamūna

کیا تمہیں اس بات پرتعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے ربّ کی یاددہانی آئی تاکہ تمہیں خبر دار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاوٴ اور تم پر رحم کیا جائے؟1“

64

فَكَذَّبُوهُ فَأَنجَيْنَـٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ فِى ٱلْفُلْكِ وَأَغْرَقْنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَآ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمًا عَمِينَ

fakadhabūhu fa-anjaynāhu wa-alladhīna maʿahu fī l-ful'ki wa-aghraqnā alladhīna kadhabū biāyātinā innahum kānū qawman ʿamīna

مگر انہوں نے اس کو جُھٹلادیا۔ آخرِکار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور اُن لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جُھٹلایا تھا، 1یقیناًوہ اندھے لوگ ہیں

65

۞ وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًۭا ۗ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥٓ ۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ

wa-ilā ʿādin akhāhum hūdan qāla yāqawmi uʿ'budū l-laha mā lakum min ilāhin ghayruhu afalā tattaqūna

اور عاد 1کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود ؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا ”اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سِوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ پھر کیا تم غلط روی سے پرہیز نہ کروگے؟“

66

قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦٓ إِنَّا لَنَرَىٰكَ فِى سَفَاهَةٍۢ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ ٱلْكَـٰذِبِينَ

qāla l-mala-u alladhīna kafarū min qawmihi innā lanarāka fī safāhatin wa-innā lanaẓunnuka mina l-kādhibīna

اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے، جواب میں کہا "ہم تو تمہیں بے عقلی میں مبتلا سمجھتے ہیں اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو"

67

قَالَ يَـٰقَوْمِ لَيْسَ بِى سَفَاهَةٌۭ وَلَـٰكِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

qāla yāqawmi laysa bī safāhatun walākinnī rasūlun min rabbi l-ʿālamīna

اس نے کہا "اے برادران قوم، میں بے عقلی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں

68

أُبَلِّغُكُمْ رِسَـٰلَـٰتِ رَبِّى وَأَنَا۠ لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ

uballighukum risālāti rabbī wa-anā lakum nāṣiḥun amīnun

تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں، اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے

69

أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَآءَكُمْ ذِكْرٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ ۚ وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍۢ وَزَادَكُمْ فِى ٱلْخَلْقِ بَصْۜطَةًۭ ۖ فَٱذْكُرُوٓا۟ ءَالَآءَ ٱللَّهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

awaʿajib'tum an jāakum dhik'run min rabbikum ʿalā rajulin minkum liyundhirakum wa-udh'kurū idh jaʿalakum khulafāa min baʿdi qawmi nūḥin wazādakum fī l-khalqi baṣ'ṭatan fa-udh'kurū ālāa l-lahi laʿallakum tuf'liḥūna

کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے ربّ کی یاد دہانی آئی تا کہ وہ تمہیں خبردار کرے؟ بھُول نہ جاوٴ کہ تمہارے ربّ نے نوح ؑ کی قوم کے بعد تم کو اُس کا جانشین بنایا اور تمہیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو،1 اُمید ہے کہ فلاح پاوٴ گے۔“

70

قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ ٱللَّهَ وَحْدَهُۥ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا ۖ فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ

qālū aji'tanā linaʿbuda l-laha waḥdahu wanadhara mā kāna yaʿbudu ābāunā fatinā bimā taʿidunā in kunta mina l-ṣādiqīna

انہوں نے جواب دیا ”کیا تُو ہمارے پاس اِس لیے آیا ہے کہ ہم اکیلے اللہ ہی کی عبادت کریں اور اُنہیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں؟1 اچھا تو لے آ وہ عذاب جس کی تُو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تُو سچا ہے۔“

71

قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ رِجْسٌۭ وَغَضَبٌ ۖ أَتُجَـٰدِلُونَنِى فِىٓ أَسْمَآءٍۢ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّا نَزَّلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـٰنٍۢ ۚ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ

qāla qad waqaʿa ʿalaykum min rabbikum rij'sun waghaḍabun atujādilūnanī fī asmāin sammaytumūhā antum waābāukum mā nazzala l-lahu bihā min sul'ṭānin fa-intaẓirū innī maʿakum mina l-muntaẓirīna

اس نے کہا ”تمہارے ربّ کی پھٹکار تم پر پڑ گئی اور اس کا غضب ٹُوٹ پڑا۔ کیا تم مجھ سے اُن ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں1، جن کے لیے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے2؟ اچھا تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔“

72

فَأَنجَيْنَـٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍۢ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا ۖ وَمَا كَانُوا۟ مُؤْمِنِينَ

fa-anjaynāhu wa-alladhīna maʿahu biraḥmatin minnā waqaṭaʿnā dābira alladhīna kadhabū biāyātinā wamā kānū mu'minīna

آخرِکار ہم نے اپنی مہربانی سے ہود ؑ اور اس کے ساتھیوں کو بچا لیا اور اُن لوگوں کی جڑ کاٹ دی جو ہماری آیات کو جُھٹلا چکے تھے اور ایمان لانے والے نہ تھے۔ 1

73

وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَـٰلِحًۭا ۗ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ قَدْ جَآءَتْكُم بَيِّنَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ هَـٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمْ ءَايَةًۭ ۖ فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِىٓ أَرْضِ ٱللَّهِ ۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٍۢ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

wa-ilā thamūda akhāhum ṣāliḥan qāla yāqawmi uʿ'budū l-laha mā lakum min ilāhin ghayruhu qad jāatkum bayyinatun min rabbikum hādhihi nāqatu l-lahi lakum āyatan fadharūhā takul fī arḍi l-lahi walā tamassūhā bisūin fayakhudhakum ʿadhābun alīmun

اور ثمود 1 کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اس نے کہا ”اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سِوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے ربّ کی کُھلی دلیل آگئی ہے۔ یہ اللہ کی اُونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی کے طور پر ہے 2، لہٰذا اِسے چھوڑو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے۔ اس کو کسی بُرے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک دردناک عذاب تمہیں آلے گا

74

وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعْدِ عَادٍۢ وَبَوَّأَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورًۭا وَتَنْحِتُونَ ٱلْجِبَالَ بُيُوتًۭا ۖ فَٱذْكُرُوٓا۟ ءَالَآءَ ٱللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ

wa-udh'kurū idh jaʿalakum khulafāa min baʿdi ʿādin wabawwa-akum fī l-arḍi tattakhidhūna min suhūlihā quṣūran watanḥitūna l-jibāla buyūtan fa-udh'kurū ālāa l-lahi walā taʿthaw fī l-arḍi muf'sidīna

یا د کرو وہ وقت جب اللہ نے قومِ عاد کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور تم کو زمین میں یہ منزلت بخشی کہ آج تم اُس کے ہموار میدانوں میں عالی شان محل بناتے اور اس کے پہاڑوں کو مکانات کی شکل میں تراشتے ہو۔1 پس اس کی قدرت کے کرشموں سے غافل نہ ہوجاوٴ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔“2

75

قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لِلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ لِمَنْ ءَامَنَ مِنْهُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَـٰلِحًۭا مُّرْسَلٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۚ قَالُوٓا۟ إِنَّا بِمَآ أُرْسِلَ بِهِۦ مُؤْمِنُونَ

qāla l-mala-u alladhīna is'takbarū min qawmihi lilladhīna us'tuḍ'ʿifū liman āmana min'hum ataʿlamūna anna ṣāliḥan mur'salun min rabbihi qālū innā bimā ur'sila bihi mu'minūna

اُس کی قوم کے سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے، کمزور طبقہ کے اُن لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے کہا "کیا تم واقعی یہ جانتے ہو کہ صالحؑ اپنے رب کا پیغمبر ہے؟" انہوں نے جواب دیا "بے شک جس پیغام کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے اُسے ہم مانتے ہیں"

76

قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا بِٱلَّذِىٓ ءَامَنتُم بِهِۦ كَـٰفِرُونَ

qāla alladhīna is'takbarū innā bi-alladhī āmantum bihi kāfirūna

اُن برائی کے مدعیوں نے کہا جس چیز کو تم نے مانا ہے ہم اس کے منکر ہیں"

77

فَعَقَرُوا۟ ٱلنَّاقَةَ وَعَتَوْا۟ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوا۟ يَـٰصَـٰلِحُ ٱئْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ

faʿaqarū l-nāqata waʿataw ʿan amri rabbihim waqālū yāṣāliḥu i'tinā bimā taʿidunā in kunta mina l-mur'salīna

پھر انہوں نے اس اُونٹنی کو مار ڈالا 1 اور پُورے تمّرد کے ساتھ اپنے ربّ کے حکم کی خلاف ورزی کر گزرے ، اور صالح سے کہہ دیا کہ”لے آوہ عذاب جس کی تُو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تُو واقعی پیغمبروں میں سے ہے۔“

78

فَأَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِمْ جَـٰثِمِينَ

fa-akhadhathumu l-rajfatu fa-aṣbaḥū fī dārihim jāthimīna

آخرِ کار ایک دہلا دینے والی آفت1 نے اُنہیں آلیااور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے

79

فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَـٰقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّى وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُحِبُّونَ ٱلنَّـٰصِحِينَ

fatawallā ʿanhum waqāla yāqawmi laqad ablaghtukum risālata rabbī wanaṣaḥtu lakum walākin lā tuḥibbūna l-nāṣiḥīna

اور صالحؑ یہ کہتا ہوا ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ "اے میری قوم، میں نے اپنے رب کا پیغام تجھے پہنچا دیا اور میں نے تیری بہت خیر خواہی کی، مگر میں کیا کروں کہ تجھے اپنے خیر خواہ پسند ہی نہیں ہیں"

80

وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَتَأْتُونَ ٱلْفَـٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍۢ مِّنَ ٱلْعَـٰلَمِينَ

walūṭan idh qāla liqawmihi atatūna l-fāḥishata mā sabaqakum bihā min aḥadin mina l-ʿālamīna

اور لوطؑ کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا ، پھر یاد کرو جب اُس نے اپنی قوم سے کہا1 ”کیا تم ایسے بے حیا ہوگئے ہو کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟

81

إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهْوَةًۭ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِ ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌۭ مُّسْرِفُونَ

innakum latatūna l-rijāla shahwatan min dūni l-nisāi bal antum qawmun mus'rifūna

تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو1، حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔“

82

وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ أَخْرِجُوهُم مِّن قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌۭ يَتَطَهَّرُونَ

wamā kāna jawāba qawmihi illā an qālū akhrijūhum min qaryatikum innahum unāsun yataṭahharūna

مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ”نکالو اِن لوگوں کو اپنی بستیوں سے ، بڑے پاکباز بنتے ہیں یہ۔1“

83

فَأَنجَيْنَـٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَـٰبِرِينَ

fa-anjaynāhu wa-ahlahu illā im'ra-atahu kānat mina l-ghābirīna

آخرِکار ہم نے لوط ؑ اور اس کے گھر والوں کو۔۔۔۔ بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔۔۔۔1

84

وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًۭا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلْمُجْرِمِينَ

wa-amṭarnā ʿalayhim maṭaran fa-unẓur kayfa kāna ʿāqibatu l-muj'rimīna

بچا کر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی ایک بارش1، پھر دیکھو کہ اُن مجرموں کا کیا انجام ہوا۔2

85

وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًۭا ۗ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ قَدْ جَآءَتْكُم بَيِّنَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ فَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ وَٱلْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَـٰحِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

wa-ilā madyana akhāhum shuʿayban qāla yāqawmi uʿ'budū l-laha mā lakum min ilāhin ghayruhu qad jāatkum bayyinatun min rabbikum fa-awfū l-kayla wal-mīzāna walā tabkhasū l-nāsa ashyāahum walā tuf'sidū fī l-arḍi baʿda iṣ'lāḥihā dhālikum khayrun lakum in kuntum mu'minīna

اور مَدیَن 1والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب ؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا ”اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے ربّ کی صاف رہنمائی آگئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پُورے کرو، لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو2، اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے3، اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم واقعی مومن ہو4

86

وَلَا تَقْعُدُوا۟ بِكُلِّ صِرَٰطٍۢ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنْ ءَامَنَ بِهِۦ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًۭا ۚ وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ كُنتُمْ قَلِيلًۭا فَكَثَّرَكُمْ ۖ وَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلْمُفْسِدِينَ

walā taqʿudū bikulli ṣirāṭin tūʿidūna wataṣuddūna ʿan sabīli l-lahi man āmana bihi watabghūnahā ʿiwajan wa-udh'kurū idh kuntum qalīlan fakatharakum wa-unẓurū kayfa kāna ʿāqibatu l-muf'sidīna

اور (زندگی کے) ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہو جاؤ یاد کرو وہ زمانہ جبکہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تمہیں بہت کر دیا، اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے

87

وَإِن كَانَ طَآئِفَةٌۭ مِّنكُمْ ءَامَنُوا۟ بِٱلَّذِىٓ أُرْسِلْتُ بِهِۦ وَطَآئِفَةٌۭ لَّمْ يُؤْمِنُوا۟ فَٱصْبِرُوا۟ حَتَّىٰ يَحْكُمَ ٱللَّهُ بَيْنَنَا ۚ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَـٰكِمِينَ

wa-in kāna ṭāifatun minkum āmanū bi-alladhī ur'sil'tu bihi waṭāifatun lam yu'minū fa-iṣ'birū ḥattā yaḥkuma l-lahu baynanā wahuwa khayru l-ḥākimīna

اگر تم میں سے ایک گروہ اس تعلیم پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں، ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا، تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے"

88

۞ قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لَنُخْرِجَنَّكَ يَـٰشُعَيْبُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِى مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَـٰرِهِينَ

qāla l-mala-u alladhīna is'takbarū min qawmihi lanukh'rijannaka yāshuʿaybu wa-alladhīna āmanū maʿaka min qaryatinā aw lataʿūdunna fī millatinā qāla awalaw kunnā kārihīna

اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے، ا س سے کہا کہ "اے شعیبؑ، ہم تجھے اور اُن لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا" شعیبؑ نے جواب دیا "کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں؟

89

قَدِ ٱفْتَرَيْنَا عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِى مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّىٰنَا ٱللَّهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَآ أَن نَّعُودَ فِيهَآ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا ٱفْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِٱلْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْفَـٰتِحِينَ

qadi if'taraynā ʿalā l-lahi kadhiban in ʿud'nā fī millatikum baʿda idh najjānā l-lahu min'hā wamā yakūnu lanā an naʿūda fīhā illā an yashāa l-lahu rabbunā wasiʿa rabbunā kulla shayin ʿil'man ʿalā l-lahi tawakkalnā rabbanā if'taḥ baynanā wabayna qawminā bil-ḥaqi wa-anta khayru l-fātiḥīna

ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری مِلّت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے۔ ہمارے لیے تو اس کی طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں اِلّا یہ کہ خدا ہمارا ربّ ہی ایسا چاہے 1،ہمارے ربّ کا علم ہر چیز پر حاوی ہے، اُسی پر ہم نے اعتماد کر لیا، اے ربّ! ہمارےاور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تُو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔“

90

وَقَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لَئِنِ ٱتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًۭا لَّخَـٰسِرُونَ

waqāla l-mala-u alladhīna kafarū min qawmihi la-ini ittabaʿtum shuʿayban innakum idhan lakhāsirūna

اس کی قوم کے سرداروں نے ، جو اس کی بات ماننےسے انکار کر چکے تھے، آپس میں کہا”اگر تم نے شعیب ؑ کی پیروی قبول کرلی تو برباد ہو جاوٴ 1گے۔“

91

فَأَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِمْ جَـٰثِمِينَ

fa-akhadhathumu l-rajfatu fa-aṣbaḥū fī dārihim jāthimīna

مگر ہوا یہ کہ ایک دہلا دینے والی آفت نے اُن کو آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے

92

ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ شُعَيْبًۭا كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيهَا ۚ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ شُعَيْبًۭا كَانُوا۟ هُمُ ٱلْخَـٰسِرِينَ

alladhīna kadhabū shuʿayban ka-an lam yaghnaw fīhā alladhīna kadhabū shuʿayban kānū humu l-khāsirīna

جن لوگوں نے شعیب ؑ کو جُھٹلایا وہ ایسے مِٹے کہ گویا کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے۔ شعیب ؑ کے جُھٹلانے والے ہی آخرِکار برباد ہو کر رہے۔1

93

فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَـٰقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَـٰلَـٰتِ رَبِّى وَنَصَحْتُ لَكُمْ ۖ فَكَيْفَ ءَاسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍۢ كَـٰفِرِينَ

fatawallā ʿanhum waqāla yāqawmi laqad ablaghtukum risālāti rabbī wanaṣaḥtu lakum fakayfa āsā ʿalā qawmin kāfirīna

اور شعیبؑ یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نِکل گیا کہ ”اے برادرانِ قوم، میں نے اپنے ربّ کے پیغامات تمہیں پہنچا دیے اور تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کر دیا۔ اب میں اُس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبولِ حق سے انکار کرتی ہے۔1“

94

وَمَآ أَرْسَلْنَا فِى قَرْيَةٍۢ مِّن نَّبِىٍّ إِلَّآ أَخَذْنَآ أَهْلَهَا بِٱلْبَأْسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ

wamā arsalnā fī qaryatin min nabiyyin illā akhadhnā ahlahā bil-basāi wal-ḍarāi laʿallahum yaḍḍarraʿūna

کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو اور اُس بستی کے لوگوں کو پہلے تنگی اور سختی میں مبتلا نہ کیا ہو اس خیال سے کہ شاید وہ عاجزی پر اتر آئیں

95

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ ٱلسَّيِّئَةِ ٱلْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوا۟ وَّقَالُوا۟ قَدْ مَسَّ ءَابَآءَنَا ٱلضَّرَّآءُ وَٱلسَّرَّآءُ فَأَخَذْنَـٰهُم بَغْتَةًۭ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

thumma baddalnā makāna l-sayi-ati l-ḥasanata ḥattā ʿafaw waqālū qad massa ābāanā l-ḍarāu wal-sarāu fa-akhadhnāhum baghtatan wahum lā yashʿurūna

پھر ہم نے اُن کی بدحالی کو خوشحالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خُوب پھلے پھُولے اور کہنے لگے کہ ”ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور بُرے دن آتے ہی رہے ہیں۔“آخرِ کار ہم نے اُنہیں اچانک پکڑ لیا اور اُنہیں خبر تک نہ ہوئی۔1

96

وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ ٱلْقُرَىٰٓ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَـٰتٍۢ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ وَلَـٰكِن كَذَّبُوا۟ فَأَخَذْنَـٰهُم بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

walaw anna ahla l-qurā āmanū wa-ittaqaw lafataḥnā ʿalayhim barakātin mina l-samāi wal-arḍi walākin kadhabū fa-akhadhnāhum bimā kānū yaksibūna

اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھو ل دیتے، مگر اُنہوں نے تو جھٹلایا، لہٰذا ہم نے اُس بری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑ لیا جو وہ سمیٹ رہے تھے

97

أَفَأَمِنَ أَهْلُ ٱلْقُرَىٰٓ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَـٰتًۭا وَهُمْ نَآئِمُونَ

afa-amina ahlu l-qurā an yatiyahum basunā bayātan wahum nāimūna

پھر کیا بستیوں کے لوگ اب اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ہماری گرفت کبھی اچانک اُن پر رات کے وقت نہ آ جائے گی جب کہ وہ سوتے پڑے ہوں؟

98

أَوَأَمِنَ أَهْلُ ٱلْقُرَىٰٓ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًۭى وَهُمْ يَلْعَبُونَ

awa-amina ahlu l-qurā an yatiyahum basunā ḍuḥan wahum yalʿabūna

یا انہیں اطمینان ہو گیا ہے کہ ہمارا مضبوط ہاتھ کبھی یکایک ان پر دن کے وقت نہ پڑے گا جب کہ وہ کھیل رہے ہوں؟

99

أَفَأَمِنُوا۟ مَكْرَ ٱللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْخَـٰسِرُونَ

afa-aminū makra l-lahi falā yamanu makra l-lahi illā l-qawmu l-khāsirūna

کیا یہ لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہیں1 ؟ حالانکہ اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے جو تباہ ہونے والی ہو

100

أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِ أَهْلِهَآ أَن لَّوْ نَشَآءُ أَصَبْنَـٰهُم بِذُنُوبِهِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ

awalam yahdi lilladhīna yarithūna l-arḍa min baʿdi ahlihā an law nashāu aṣabnāhum bidhunūbihim wanaṭbaʿu ʿalā qulūbihim fahum lā yasmaʿūna

اور کیا اُن لوگوں کو جو سابق اہلِ زمین کے بعد زمین کے وارث ہوتے ہیں، اِس امر ِواقعی نے کچھ سبق نہیں دیا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے قصوروں پر انہیں پکڑ سکتے ہیں؟1 ( مگر وہ سبق آموز حقائق سے تغافل برتتے رہے) اور ہم ان کےدِلوں پر مُہر لگا دیتے ہیں، پھر وہ کچھ نہیں سُنتے۔2

101

تِلْكَ ٱلْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآئِهَا ۚ وَلَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ بِمَا كَذَّبُوا۟ مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلْكَـٰفِرِينَ

til'ka l-qurā naquṣṣu ʿalayka min anbāihā walaqad jāathum rusuluhum bil-bayināti famā kānū liyu'minū bimā kadhabū min qablu kadhālika yaṭbaʿu l-lahu ʿalā qulūbi l-kāfirīna

یہ قومیں جن کے قصے ہم تمہیں سُنا رہے ہیں (تمہارے سامنے مثال میں موجود ہیں) ان کے رسُول ان کے پاس کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو وہ ایک دفعہ جھُٹلا چکے تھے پھر اُسے وہ ماننے والے نہ تھے۔ دیکھو اس طرح ہم منکرینِ حق کے دلوں پر مُہر لگا دیتے ہیں۔1

102

وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍۢ ۖ وَإِن وَجَدْنَآ أَكْثَرَهُمْ لَفَـٰسِقِينَ

wamā wajadnā li-aktharihim min ʿahdin wa-in wajadnā aktharahum lafāsiqīna

ہم ان میں سے اکثر میں کوئی پاس ِ عہد نہ پایا بلکہ اکثر کو فاسق ہی پایا۔1

103

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِم مُّوسَىٰ بِـَٔايَـٰتِنَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ فَظَلَمُوا۟ بِهَا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلْمُفْسِدِينَ

thumma baʿathnā min baʿdihim mūsā biāyātinā ilā fir'ʿawna wamala-ihi faẓalamū bihā fa-unẓur kayfa kāna ʿāqibatu l-muf'sidīna

پھر اُن قوموں کے بعد (جن کا ذکر اُوپر کیا گیا) ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا 1مگر انہوں نے بھی ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا،2 پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا

104

وَقَالَ مُوسَىٰ يَـٰفِرْعَوْنُ إِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

waqāla mūsā yāfir'ʿawnu innī rasūlun min rabbi l-ʿālamīna

موسیٰ نے کہا”اے فرعون1، میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا گیا ہوں

105

حَقِيقٌ عَلَىٰٓ أَن لَّآ أَقُولَ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ ۚ قَدْ جِئْتُكُم بِبَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَرْسِلْ مَعِىَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ

ḥaqīqun ʿalā an lā aqūla ʿalā l-lahi illā l-ḥaqa qad ji'tukum bibayyinatin min rabbikum fa-arsil maʿiya banī is'rāīla

میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں، میں تم لوگوں کے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے صریح دلیلِ ماموریّت لے کر آیا ہوں، لہٰذا تُو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔“ 1

106

قَالَ إِن كُنتَ جِئْتَ بِـَٔايَةٍۢ فَأْتِ بِهَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ

qāla in kunta ji'ta biāyatin fati bihā in kunta mina l-ṣādiqīna

فرعون نے کہا "اگر تو کوئی نشانی لایا ہے اور اپنے دعوے میں سچا ہے تو اسے پیش کر"

107

فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌۭ مُّبِينٌۭ

fa-alqā ʿaṣāhu fa-idhā hiya thuʿ'bānun mubīnun

موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا اور یکا یک وہ ایک جیتا جاگتا اژدہا تھا

108

وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّـٰظِرِينَ

wanazaʿa yadahu fa-idhā hiya bayḍāu lilnnāẓirīna

اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا۔1

109

قَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ إِنَّ هَـٰذَا لَسَـٰحِرٌ عَلِيمٌۭ

qāla l-mala-u min qawmi fir'ʿawna inna hādhā lasāḥirun ʿalīmun

ا س پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ "یقیناً یہ شخص بڑا ماہر جادو گر ہے

110

يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُم مِّنْ أَرْضِكُمْ ۖ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ

yurīdu an yukh'rijakum min arḍikum famādhā tamurūna

تمہیں تمہاری زمین سے بے دخل کرنا چاہتا ہے1، اب کہو کیا کہتے ہو؟“

111

قَالُوٓا۟ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَأَرْسِلْ فِى ٱلْمَدَآئِنِ حَـٰشِرِينَ

qālū arjih wa-akhāhu wa-arsil fī l-madāini ḥāshirīna

پھر اُن سب نے فرعون کو مشورہ دیا کہ اسے اور اس کے بھائی کو انتظار میں رکھیے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے

112

يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَـٰحِرٍ عَلِيمٍۢ

yatūka bikulli sāḥirin ʿalīmin

کہ ہر ماہرِ فن جادوگر کو آپ کےپاس لے آئیں۔1

113

وَجَآءَ ٱلسَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوٓا۟ إِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِن كُنَّا نَحْنُ ٱلْغَـٰلِبِينَ

wajāa l-saḥaratu fir'ʿawna qālū inna lanā la-ajran in kunnā naḥnu l-ghālibīna

چنانچہ جادوگر فرعون کے پاس آ گئے اُنہوں نے "اگر ہم غالب رہے تو ہمیں اس کا صلہ تو ضرور ملے گا؟"

114

قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ لَمِنَ ٱلْمُقَرَّبِينَ

qāla naʿam wa-innakum lamina l-muqarabīna

فرعون نے جواب دیا "ہاں، اور تم مقرب بارگاہ ہو گے"

115

قَالُوا۟ يَـٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ نَحْنُ ٱلْمُلْقِينَ

qālū yāmūsā immā an tul'qiya wa-immā an nakūna naḥnu l-mul'qīna

پھر اُنہوں نے موسیٰؑ سے کہا "تم پھینکتے ہو یا ہم پھینکیں؟"

116

قَالَ أَلْقُوا۟ ۖ فَلَمَّآ أَلْقَوْا۟ سَحَرُوٓا۟ أَعْيُنَ ٱلنَّاسِ وَٱسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَآءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍۢ

qāla alqū falammā alqaw saḥarū aʿyuna l-nāsi wa-is'tarhabūhum wajāū bisiḥ'rin ʿaẓīmin

موسیٰؑ نے جواب دیا "تم ہی پھینکو" انہوں نے جو اپنے آنچھر پھینکے تو نگاہوں کو مسحور اور دلوں کو خوف زدہ کر دیا اور بڑا ہی زبردست جادو بنا لائے

117

۞ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ

wa-awḥaynā ilā mūsā an alqi ʿaṣāka fa-idhā hiya talqafu mā yafikūna

ہم نے موسیٰ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا۔ اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھُوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا۔1

118

فَوَقَعَ ٱلْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

fawaqaʿa l-ḥaqu wabaṭala mā kānū yaʿmalūna

اس طرح جو حق تھا وہ حق ثابت ہوا اور جو کچھ اُنہوں نے بنا رکھا تھا وہ باطل ہو کر رہ گیا

119

فَغُلِبُوا۟ هُنَالِكَ وَٱنقَلَبُوا۟ صَـٰغِرِينَ

faghulibū hunālika wa-inqalabū ṣāghirīna

فرعون اور اس کے ساتھی میدان مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور (فتح مند ہونے کے بجائے) الٹے ذلیل ہو گئے

120

وَأُلْقِىَ ٱلسَّحَرَةُ سَـٰجِدِينَ

wa-ul'qiya l-saḥaratu sājidīna

اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرا دیا

121

قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

qālū āmannā birabbi l-ʿālamīna

کہنے لگے "ہم نے مان لیا رب العالمین کو

122

رَبِّ مُوسَىٰ وَهَـٰرُونَ

rabbi mūsā wahārūna

اُس ربّ کو جسے موسیٰ اور ہارون مانتے ہیں۔“1

123

قَالَ فِرْعَوْنُ ءَامَنتُم بِهِۦ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌۭ مَّكَرْتُمُوهُ فِى ٱلْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا۟ مِنْهَآ أَهْلَهَا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ

qāla fir'ʿawnu āmantum bihi qabla an ādhana lakum inna hādhā lamakrun makartumūhu fī l-madīnati litukh'rijū min'hā ahlahā fasawfa taʿlamūna

فرعون نے کہا "تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں؟ یقیناً یہ کوئی خفیہ ساز ش تھی جو تم لوگوں نے اس دارالسلطنت میں کی تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کر دو اچھا توا س کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے

124

لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَـٰفٍۢ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ

la-uqaṭṭiʿanna aydiyakum wa-arjulakum min khilāfin thumma la-uṣallibannakum ajmaʿīna

میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا اور اس کے بعد تم سب کو سولی پر چڑھاؤں گا"

125

قَالُوٓا۟ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ

qālū innā ilā rabbinā munqalibūna

انہوں نے جواب دیا "بہر حال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے

126

وَمَا تَنقِمُ مِنَّآ إِلَّآ أَنْ ءَامَنَّا بِـَٔايَـٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا ۚ رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًۭا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ

wamā tanqimu minnā illā an āmannā biāyāti rabbinā lammā jāatnā rabbanā afrigh ʿalaynā ṣabran watawaffanā mus'limīna

تُو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اِس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے ربّ کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انہیں مان لیا۔ اے ربّ ، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اُٹھا اِس حال میں کہ ہم تیرے فرمانبردار ہوں۔1“

127

وَقَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُۥ لِيُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَءَالِهَتَكَ ۚ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبْنَآءَهُمْ وَنَسْتَحْىِۦ نِسَآءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَـٰهِرُونَ

waqāla l-mala-u min qawmi fir'ʿawna atadharu mūsā waqawmahu liyuf'sidū fī l-arḍi wayadharaka waālihataka qāla sanuqattilu abnāahum wanastaḥyī nisāahum wa-innā fawqahum qāhirūna

فرعون سے اُس کی قوم کے سرداروں نے کہا”کیا تُو موسیٰ اور اس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبُودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے؟“ فرعون نے جواب دیا”میں اُن کے بیٹوں کو قتل کراوٴ ں گا اور اُن کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں 1گا۔ ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے

128

قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ ٱسْتَعِينُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱصْبِرُوٓا۟ ۖ إِنَّ ٱلْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۖ وَٱلْعَـٰقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ

qāla mūsā liqawmihi is'taʿīnū bil-lahi wa-iṣ'birū inna l-arḍa lillahi yūrithuhā man yashāu min ʿibādihi wal-ʿāqibatu lil'muttaqīna

موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا "اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کامیابی انہی کے لیے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں"

129

قَالُوٓا۟ أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِنۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ

qālū ūdhīnā min qabli an tatiyanā wamin baʿdi mā ji'tanā qāla ʿasā rabbukum an yuh'lika ʿaduwwakum wayastakhlifakum fī l-arḍi fayanẓura kayfa taʿmalūna

اس کی قوم کے لوگوں نے کہا "تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں" اس نے جواب دیا "قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو"

130

وَلَقَدْ أَخَذْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ بِٱلسِّنِينَ وَنَقْصٍۢ مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ

walaqad akhadhnā āla fir'ʿawna bil-sinīna wanaqṣin mina l-thamarāti laʿallahum yadhakkarūna

ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے

131

فَإِذَا جَآءَتْهُمُ ٱلْحَسَنَةُ قَالُوا۟ لَنَا هَـٰذِهِۦ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۭ يَطَّيَّرُوا۟ بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ ۗ أَلَآ إِنَّمَا طَـٰٓئِرُهُمْ عِندَ ٱللَّهِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

fa-idhā jāathumu l-ḥasanatu qālū lanā hādhihi wa-in tuṣib'hum sayyi-atun yaṭṭayyarū bimūsā waman maʿahu alā innamā ṭāiruhum ʿinda l-lahi walākinna aktharahum lā yaʿlamūna

مگر اُن کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اِسی کے مستحق ہیں، اور جب برا زمانہ آتا تو موسیٰؑ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لیے فال بد ٹھیراتے، حالانکہ در حقیقت ان کی فال بد تو اللہ کے پاس تھی، مگر ان میں سے اکثر بے علم تھے

132

وَقَالُوا۟ مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِۦ مِنْ ءَايَةٍۢ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ

waqālū mahmā tatinā bihi min āyatin litasḥaranā bihā famā naḥnu laka bimu'minīna

انہوں نے موسیٰ سے کہا”تُو ہمیں مسحور کرنے کے لیے خواہ کوئی نشانی لے آئے، ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں۔“1

133

فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلطُّوفَانَ وَٱلْجَرَادَ وَٱلْقُمَّلَ وَٱلضَّفَادِعَ وَٱلدَّمَ ءَايَـٰتٍۢ مُّفَصَّلَـٰتٍۢ فَٱسْتَكْبَرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوْمًۭا مُّجْرِمِينَ

fa-arsalnā ʿalayhimu l-ṭūfāna wal-jarāda wal-qumala wal-ḍafādiʿa wal-dama āyātin mufaṣṣalātin fa-is'takbarū wakānū qawman muj'rimīna

آخرِ کارہم نے ان پر طوفان بھیجا1، ٹِڈی دل چھوڑے، سُرسُریاں پھیلائیں2، مینڈک نکالے، اور خون برسایا، یہ سب نشانیاں الگ الگ کر کے دکھائیں، مگر وہ سرکشی کیے چلے گئےاور بڑے ہی مجرم لوگ تھے

134

وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ ٱلرِّجْزُ قَالُوا۟ يَـٰمُوسَى ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ ۖ لَئِن كَشَفْتَ عَنَّا ٱلرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ

walammā waqaʿa ʿalayhimu l-rij'zu qālū yāmūsā ud'ʿu lanā rabbaka bimā ʿahida ʿindaka la-in kashafta ʿannā l-rij'za lanu'minanna laka walanur'silanna maʿaka banī is'rāīla

جب کبھی اُن پر بلا نازل ہو جاتی تو کہتے "اے موسیٰؑ، تجھے اپنے رب کی طرف سے جو منصب حاصل ہے اس کی بنا پر ہمارے حق میں دعا کر، اگر اب کے تو ہم پر سے یہ بلا ٹلوا دے تو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے"

135

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ ٱلرِّجْزَ إِلَىٰٓ أَجَلٍ هُم بَـٰلِغُوهُ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ

falammā kashafnā ʿanhumu l-rij'za ilā ajalin hum bālighūhu idhā hum yankuthūna

مگر جب ہم ان پر سے اپنا عذاب ایک وقت مقرر تک کے لیے، جس کو وہ بہرحال پہنچنے والے تھے، ہٹا لیتے تو وہ یکلخت اپنے عہد سے پھر جاتے

136

فَٱنتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَـٰهُمْ فِى ٱلْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَـٰفِلِينَ

fa-intaqamnā min'hum fa-aghraqnāhum fī l-yami bi-annahum kadhabū biāyātinā wakānū ʿanhā ghāfilīna

تب ہم نے اُن سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کر دیا کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا اور اُن سے بے پروا ہو گئے تھے

137

وَأَوْرَثْنَا ٱلْقَوْمَ ٱلَّذِينَ كَانُوا۟ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَـٰرِقَ ٱلْأَرْضِ وَمَغَـٰرِبَهَا ٱلَّتِى بَـٰرَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ ٱلْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ بِمَا صَبَرُوا۟ ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُۥ وَمَا كَانُوا۟ يَعْرِشُونَ

wa-awrathnā l-qawma alladhīna kānū yus'taḍʿafūna mashāriqa l-arḍi wamaghāribahā allatī bāraknā fīhā watammat kalimatu rabbika l-ḥus'nā ʿalā banī is'rāīla bimā ṣabarū wadammarnā mā kāna yaṣnaʿu fir'ʿawnu waqawmuhu wamā kānū yaʿrishūna

اور اُن کی جگہ ہم نے اُن لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، اُس سرزمین کے مشرق و مغرب کاوارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالامال کیا تھا۔1 اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے ربّ کا وعدہٴِ خیر پورا ہوکیونکہ اُنہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور فرعون اور اُ س کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کر دیا گیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے

138

وَجَـٰوَزْنَا بِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْبَحْرَ فَأَتَوْا۟ عَلَىٰ قَوْمٍۢ يَعْكُفُونَ عَلَىٰٓ أَصْنَامٍۢ لَّهُمْ ۚ قَالُوا۟ يَـٰمُوسَى ٱجْعَل لَّنَآ إِلَـٰهًۭا كَمَا لَهُمْ ءَالِهَةٌۭ ۚ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌۭ تَجْهَلُونَ

wajāwaznā bibanī is'rāīla l-baḥra fa-ataw ʿalā qawmin yaʿkufūna ʿalā aṣnāmin lahum qālū yāmūsā ij'ʿal lanā ilāhan kamā lahum ālihatun qāla innakum qawmun tajhalūna

بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر سے گزار دیا، پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر اُن کا گزر ہوا جو اپنے چند بُتوں کی گرویدہ بنی ہوئی تھی۔ کہنے لگے، ”اے موسیٰ،ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دے جیسے اِن لوگوں کے معبود ہیں۔1“ موسیٰ نے کہا”تم لوگ بڑی نادانی کی باتیں کرتے ہو

139

إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ مُتَبَّرٌۭ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَـٰطِلٌۭ مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

inna hāulāi mutabbarun mā hum fīhi wabāṭilun mā kānū yaʿmalūna

یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ تو برباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کر رہے ہیں وہ سراسر باطل ہے"

140

قَالَ أَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْغِيكُمْ إِلَـٰهًۭا وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى ٱلْعَـٰلَمِينَ

qāla aghayra l-lahi abghīkum ilāhan wahuwa faḍḍalakum ʿalā l-ʿālamīna

پھر موسیٰؑ نے کہا "کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لیے تلاش کروں؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قوموں پر فضیلت بخشی ہے

141

وَإِذْ أَنجَيْنَـٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ ۖ يُقَتِّلُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ

wa-idh anjaynākum min āli fir'ʿawna yasūmūnakum sūa l-ʿadhābi yuqattilūna abnāakum wayastaḥyūna nisāakum wafī dhālikum balāon min rabbikum ʿaẓīmun

اور (اللہ فرماتا ہے) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرعون والوں سے تمہیں نجات دی جن کا حال یہ تھا کہ تمہیں سخت عذاب میں مبتلا رکھتے تھے، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی

142

۞ وَوَٰعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَـٰثِينَ لَيْلَةًۭ وَأَتْمَمْنَـٰهَا بِعَشْرٍۢ فَتَمَّ مِيقَـٰتُ رَبِّهِۦٓ أَرْبَعِينَ لَيْلَةًۭ ۚ وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَـٰرُونَ ٱخْلُفْنِى فِى قَوْمِى وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ ٱلْمُفْسِدِينَ

wawāʿadnā mūsā thalāthīna laylatan wa-atmamnāhā biʿashrin fatamma mīqātu rabbihi arbaʿīna laylatan waqāla mūsā li-akhīhi hārūna ukh'luf'nī fī qawmī wa-aṣliḥ walā tattabiʿ sabīla l-muf'sidīna

ہم نے موسیٰ کو تیس شب و روز کے لیے (کوہِ سیناپر) طلب کیا اور بعد میں دس(1۰) دن کا اور اضافہ کر دیا ، اِس طرح اُس کے ربّ کی مقرر کردہ مُدّت پُورے چالیس (۴۰) دن ہوگئی۔2 موسیٰ نے چلتے ہوئے اپنے بھائی سے کہا کہ ”میرے پیچھے تم میرے قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا۔100“

143

وَلَمَّا جَآءَ مُوسَىٰ لِمِيقَـٰتِنَا وَكَلَّمَهُۥ رَبُّهُۥ قَالَ رَبِّ أَرِنِىٓ أَنظُرْ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَن تَرَىٰنِى وَلَـٰكِنِ ٱنظُرْ إِلَى ٱلْجَبَلِ فَإِنِ ٱسْتَقَرَّ مَكَانَهُۥ فَسَوْفَ تَرَىٰنِى ۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكًّۭا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًۭا ۚ فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبْحَـٰنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُؤْمِنِينَ

walammā jāa mūsā limīqātinā wakallamahu rabbuhu qāla rabbi arinī anẓur ilayka qāla lan tarānī walākini unẓur ilā l-jabali fa-ini is'taqarra makānahu fasawfa tarānī falammā tajallā rabbuhu lil'jabali jaʿalahu dakkan wakharra mūsā ṣaʿiqan falammā afāqa qāla sub'ḥānaka tub'tu ilayka wa-anā awwalu l-mu'minīna

جب وہ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے التجا کی کہ "اے رب، مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں" فرمایا "تو مجھے نہیں دیکھ سکتا ہاں ذرا سامنے کے پہاڑ کی طرف دیکھ، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تو مجھے دیکھ سکے گا" چنانچہ اس کے رب نے جب پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰؑ غش کھا کر گر پڑا جب ہوش آیا تو بولا "پاک ہے تیری ذات، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والا میں ہوں"

144

قَالَ يَـٰمُوسَىٰٓ إِنِّى ٱصْطَفَيْتُكَ عَلَى ٱلنَّاسِ بِرِسَـٰلَـٰتِى وَبِكَلَـٰمِى فَخُذْ مَآ ءَاتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ

qāla yāmūsā innī iṣ'ṭafaytuka ʿalā l-nāsi birisālātī wabikalāmī fakhudh mā ātaytuka wakun mina l-shākirīna

فرمایا "اے موسیٰؑ، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میر ی پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا"

145

وَكَتَبْنَا لَهُۥ فِى ٱلْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَىْءٍۢ مَّوْعِظَةًۭ وَتَفْصِيلًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍۢ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا۟ بِأَحْسَنِهَا ۚ سَأُو۟رِيكُمْ دَارَ ٱلْفَـٰسِقِينَ

wakatabnā lahu fī l-alwāḥi min kulli shayin mawʿiẓatan watafṣīlan likulli shayin fakhudh'hā biquwwatin wamur qawmaka yakhudhū bi-aḥsanihā sa-urīkum dāra l-fāsiqīna

اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو ہر شعبہٴ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی1 اور اس سے کہا”اِن ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں۔ 2عنقریب میں تمہیں فاسقوں کے گھر دکھاوٴں گا۔3

146

سَأَصْرِفُ عَنْ ءَايَـٰتِىَ ٱلَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَإِن يَرَوْا۟ كُلَّ ءَايَةٍۢ لَّا يُؤْمِنُوا۟ بِهَا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًۭا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلْغَىِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًۭا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَـٰفِلِينَ

sa-aṣrifu ʿan āyātiya alladhīna yatakabbarūna fī l-arḍi bighayri l-ḥaqi wa-in yaraw kulla āyatin lā yu'minū bihā wa-in yaraw sabīla l-rush'di lā yattakhidhūhu sabīlan wa-in yaraw sabīla l-ghayi yattakhidhūhu sabīlan dhālika bi-annahum kadhabū biāyātinā wakānū ʿanhā ghāfilīna

میں اپنی نشانیوں سے اُن لوگوں کی نگاہیں پھیر دوں گا جو بغیر کِسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں 1، وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں کبھی اس پر ایمان نہ لائیں گے ، اگر سیدھا راستہ اُن کے سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیڑھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے، اس لیے کہ اُنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھُٹلا یا اور ان سے بے پروائی کرتے رہے

147

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا وَلِقَآءِ ٱلْـَٔاخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَـٰلُهُمْ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

wa-alladhīna kadhabū biāyātinā waliqāi l-ākhirati ḥabiṭat aʿmāluhum hal yuj'zawna illā mā kānū yaʿmalūna

ہماری نشانیوں کو جس کسی نے جھُٹلا یا اور آخرت کی پیشی کا اِنکار کیا اُس کے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔1 کیا لوگ اِس کے سِوا کچھ اور جزا پا سکتے ہیں کہ جیسا کریں ویسا بھریں؟“

148

وَٱتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَىٰ مِنۢ بَعْدِهِۦ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًۭا جَسَدًۭا لَّهُۥ خُوَارٌ ۚ أَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّهُۥ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا ۘ ٱتَّخَذُوهُ وَكَانُوا۟ ظَـٰلِمِينَ

wa-ittakhadha qawmu mūsā min baʿdihi min ḥuliyyihim ʿij'lan jasadan lahu khuwārun alam yaraw annahu lā yukallimuhum walā yahdīhim sabīlan ittakhadhūhu wakānū ẓālimīna

موسیٰ کے پیچھے 1اس کی قوم کےلوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پُتلا بنایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ کیا اُنہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے ؟ مگر پھر بھی اُنہوں نے اسے معبود بنا لیا اور وہ سخت ظالم تھے۔2

149

وَلَمَّا سُقِطَ فِىٓ أَيْدِيهِمْ وَرَأَوْا۟ أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا۟ قَالُوا۟ لَئِن لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَـٰسِرِينَ

walammā suqiṭa fī aydīhim wara-aw annahum qad ḍallū qālū la-in lam yarḥamnā rabbunā wayaghfir lanā lanakūnanna mina l-khāsirīna

پھر جب ان کی فریب خوردگی کا طلسم ٹوٹ گیا او ر اُنہوں نے دیکھ لیا کہ در حقیقت وہ گمراہ ہو گئے ہیں تو کہنے لگے کہ "اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہو جائیں گے"

150

وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوْمِهِۦ غَضْبَـٰنَ أَسِفًۭا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِى مِنۢ بَعْدِىٓ ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى ٱلْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُۥٓ إِلَيْهِ ۚ قَالَ ٱبْنَ أُمَّ إِنَّ ٱلْقَوْمَ ٱسْتَضْعَفُونِى وَكَادُوا۟ يَقْتُلُونَنِى فَلَا تُشْمِتْ بِىَ ٱلْأَعْدَآءَ وَلَا تَجْعَلْنِى مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ

walammā rajaʿa mūsā ilā qawmihi ghaḍbāna asifan qāla bi'samā khalaftumūnī min baʿdī aʿajil'tum amra rabbikum wa-alqā l-alwāḥa wa-akhadha birasi akhīhi yajurruhu ilayhi qāla ib'na umma inna l-qawma is'taḍʿafūnī wakādū yaqtulūnanī falā tush'mit biya l-aʿdāa walā tajʿalnī maʿa l-qawmi l-ẓālimīna

اُدھر سے موسیٰ غصّے اور رنج میں بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف پلٹا۔ آتے ہی اس نے کہا ”بہت بُری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے ربّ کے حکم کا انتظار کر لیتے؟“ اور تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا۔ ہارون نے کہا ”اے میری ماں کے بیٹے، اِن لوگوں نے مجھے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے، پس تُو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر۔“1

151

قَالَ رَبِّ ٱغْفِرْ لِى وَلِأَخِى وَأَدْخِلْنَا فِى رَحْمَتِكَ ۖ وَأَنتَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ

qāla rabbi igh'fir lī wali-akhī wa-adkhil'nā fī raḥmatika wa-anta arḥamu l-rāḥimīna

تب موسیٰؑ نے کہا "اے رب، مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، تو سب سے بڑھ کر رحیم ہے"

152

إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌۭ مِّن رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌۭ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُفْتَرِينَ

inna alladhīna ittakhadhū l-ʿij'la sayanāluhum ghaḍabun min rabbihim wadhillatun fī l-ḥayati l-dun'yā wakadhālika najzī l-muf'tarīna

(جواب میں ارشاد ہوا کہ) "جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا وہ ضرور اپنے رب کے غضب میں گرفتار ہو کر رہیں گے اور دنیا کی زندگی میں ذلیل ہوں گے جھوٹ گھڑنے والوں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں

153

وَٱلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ثُمَّ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِهَا وَءَامَنُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

wa-alladhīna ʿamilū l-sayiāti thumma tābū min baʿdihā waāmanū inna rabbaka min baʿdihā laghafūrun raḥīmun

اور جو لوگ برے عمل کریں پھر توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں تو یقیناً اِس توبہ و ایمان کے بعد تیرا رب درگزر اور رحم فرمانے والا ہے"

154

وَلَمَّا سَكَتَ عَن مُّوسَى ٱلْغَضَبُ أَخَذَ ٱلْأَلْوَاحَ ۖ وَفِى نُسْخَتِهَا هُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ لِّلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُونَ

walammā sakata ʿan mūsā l-ghaḍabu akhadha l-alwāḥa wafī nus'khatihā hudan waraḥmatun lilladhīna hum lirabbihim yarhabūna

پھر جب موسیٰؑ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے وہ تختیاں اٹھا لیں جن کی تحریر میں ہدایت اور رحمت تھی اُن لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں

155

وَٱخْتَارَ مُوسَىٰ قَوْمَهُۥ سَبْعِينَ رَجُلًۭا لِّمِيقَـٰتِنَا ۖ فَلَمَّآ أَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُم مِّن قَبْلُ وَإِيَّـٰىَ ۖ أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَّآ ۖ إِنْ هِىَ إِلَّا فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَن تَشَآءُ وَتَهْدِى مَن تَشَآءُ ۖ أَنتَ وَلِيُّنَا فَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَا ۖ وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْغَـٰفِرِينَ

wa-ikh'tāra mūsā qawmahu sabʿīna rajulan limīqātinā falammā akhadhathumu l-rajfatu qāla rabbi law shi'ta ahlaktahum min qablu wa-iyyāya atuh'likunā bimā faʿala l-sufahāu minnā in hiya illā fit'natuka tuḍillu bihā man tashāu watahdī man tashāu anta waliyyunā fa-igh'fir lanā wa-ir'ḥamnā wa-anta khayru l-ghāfirīna

اور اُس نے اپنی قوم کے ستّر آدمیوں کو منتخب کیا تاکہ وہ (اُس کے ساتھ) ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر حاضر ہوں1۔ جب اِن لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آپکڑا تو موسٰی نے عرض کیا”اے میرے سرکار، آپ چاہتے تو پہلے ہی اِن کو اور مجھے ہلاک کر سکتے تھے۔کیا آپ اُس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کر دیں گے؟ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی ایک آزمائش تھی جس کے ذریعہ سے آپ جسے چاہتےہیں گمراہی میں مبتلاکر دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت بخش دیتے ہیں۔2 ہمارے سر پرست تو آپ ہی ہیں۔ پس ہمیں معاف کر دیجیے اور ہم پر رحم فرمائیے، آپ سب سے بڑھ کر معاف فر مانے والے ہیں

156

۞ وَٱكْتُبْ لَنَا فِى هَـٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ وَفِى ٱلْـَٔاخِرَةِ إِنَّا هُدْنَآ إِلَيْكَ ۚ قَالَ عَذَابِىٓ أُصِيبُ بِهِۦ مَنْ أَشَآءُ ۖ وَرَحْمَتِى وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍۢ ۚ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَـٰتِنَا يُؤْمِنُونَ

wa-uk'tub lanā fī hādhihi l-dun'yā ḥasanatan wafī l-ākhirati innā hud'nā ilayka qāla ʿadhābī uṣību bihi man ashāu waraḥmatī wasiʿat kulla shayin fasa-aktubuhā lilladhīna yattaqūna wayu'tūna l-zakata wa-alladhīna hum biāyātinā yu'minūna

اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجیے اور آخرت کی بھی، ہم نے آپ کی طرف رجوع کر لیا۔“جواب میں ارشاد ہوا”سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے1 ، اور اُسے میں اُن لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے، زکوٰة دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے۔“

157

ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِىَّ ٱلْأُمِّىَّ ٱلَّذِى يَجِدُونَهُۥ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَىٰهُمْ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَـٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ ٱلْخَبَـٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَٱلْأَغْلَـٰلَ ٱلَّتِى كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُوا۟ ٱلنُّورَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ ۙ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

alladhīna yattabiʿūna l-rasūla l-nabiya l-umiya alladhī yajidūnahu maktūban ʿindahum fī l-tawrāti wal-injīli yamuruhum bil-maʿrūfi wayanhāhum ʿani l-munkari wayuḥillu lahumu l-ṭayibāti wayuḥarrimu ʿalayhimu l-khabāitha wayaḍaʿu ʿanhum iṣ'rahum wal-aghlāla allatī kānat ʿalayhim fa-alladhīna āmanū bihi waʿazzarūhu wanaṣarūhu wa-ittabaʿū l-nūra alladhī unzila maʿahu ulāika humu l-muf'liḥūna

(پس آج یہ رحمت اُ ن لوگوں کا حِصہ ہے) جو اِس پیغمبرنبی اُمّی کی پیروی اختیار کریں 1 جس کا ذکر اُنہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔2 وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے3، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔4لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اُس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں

158

قُلْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۖ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِىِّ ٱلْأُمِّىِّ ٱلَّذِى يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَـٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

qul yāayyuhā l-nāsu innī rasūlu l-lahi ilaykum jamīʿan alladhī lahu mul'ku l-samāwāti wal-arḍi lā ilāha illā huwa yuḥ'yī wayumītu faāminū bil-lahi warasūlihi l-nabiyi l-umiyi alladhī yu'minu bil-lahi wakalimātihi wa-ittabiʿūhu laʿallakum tahtadūna

اے محمدؐ، کہو کہ "اے انسانو، میں تم سب کی طرف اُس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی اُمی پر جو اللہ اور اس کے ارشادات کو مانتا ہے، اور پیروی اختیار کرو اُس کی، امید ہے کہ تم راہ راست پا لو گے"

159

وَمِن قَوْمِ مُوسَىٰٓ أُمَّةٌۭ يَهْدُونَ بِٱلْحَقِّ وَبِهِۦ يَعْدِلُونَ

wamin qawmi mūsā ummatun yahdūna bil-ḥaqi wabihi yaʿdilūna

1موسٰی کی قوم میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو حق کے مطابق ہدایت کرتا اور حق ہی کے مطابق انصاف کر تا تھا۔2

160

وَقَطَّعْنَـٰهُمُ ٱثْنَتَىْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أُمَمًۭا ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ إِذِ ٱسْتَسْقَىٰهُ قَوْمُهُۥٓ أَنِ ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْحَجَرَ ۖ فَٱنۢبَجَسَتْ مِنْهُ ٱثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًۭا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍۢ مَّشْرَبَهُمْ ۚ وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلْغَمَـٰمَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَـٰتِ مَا رَزَقْنَـٰكُمْ ۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَـٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

waqaṭṭaʿnāhumu ith'natay ʿashrata asbāṭan umaman wa-awḥaynā ilā mūsā idhi is'tasqāhu qawmuhu ani iḍ'rib biʿaṣāka l-ḥajara fa-inbajasat min'hu ith'natā ʿashrata ʿaynan qad ʿalima kullu unāsin mashrabahum waẓallalnā ʿalayhimu l-ghamāma wa-anzalnā ʿalayhimu l-mana wal-salwā kulū min ṭayyibāti mā razaqnākum wamā ẓalamūnā walākin kānū anfusahum yaẓlimūna

اور ہم نے اس قوم کو بارہ گھرانوں میں تقسیم کرکے انہیں مستقل گرہوں کی شکل دے دی تھی۔1 اور جب موسٰی سے اس کی قوم نے پانی مانگا تو ہم نے اس کو اشارہ کیا کہ فلاح چٹان پر اپنی لاٹھی مارو۔چناچہ اس چٹان سے یکایک بارہ چشمے پُھوٹ نِکلے اور ہرگروہ نے اپنےپانی لینے کی جگہ متعیّن کرلی، ہم نے اُن پر بادل کا سایہ کیا اور اُن پر من و سلوٰی اُتارا۔2 کھاؤ وہ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو بخشی ہیں۔ مگر اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا تو ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے

161

وَإِذْ قِيلَ لَهُمُ ٱسْكُنُوا۟ هَـٰذِهِ ٱلْقَرْيَةَ وَكُلُوا۟ مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا۟ حِطَّةٌۭ وَٱدْخُلُوا۟ ٱلْبَابَ سُجَّدًۭا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيٓـَٔـٰتِكُمْ ۚ سَنَزِيدُ ٱلْمُحْسِنِينَ

wa-idh qīla lahumu us'kunū hādhihi l-qaryata wakulū min'hā ḥaythu shi'tum waqūlū ḥiṭṭatun wa-ud'khulū l-bāba sujjadan naghfir lakum khaṭīātikum sanazīdu l-muḥ'sinīna

1یاد کرو وہ وقت جب ان سےکہا گیا تھا کہ اِس بستی میں جاکر بس جاؤ اور اس کی پیداوار سے اپنے حسبِ منشا روزی حاصل کرو اور حِطَّةُٗ حِطَّةُٗ کہتے جاؤ اور شہر کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو، ہم تمہاری خطائیں معاف کریں گے اور نیک رویہ رکھنے والوں مزید فضل سے نوازیں گے

162

فَبَدَّلَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ ٱلَّذِى قِيلَ لَهُمْ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُوا۟ يَظْلِمُونَ

fabaddala alladhīna ẓalamū min'hum qawlan ghayra alladhī qīla lahum fa-arsalnā ʿalayhim rij'zan mina l-samāi bimā kānū yaẓlimūna

مگر جو لوگ اُن میں ظالم تھے اُنھوں نے اُس بات کو جو اُن سے کہی گئی تھی بدل ڈالا، اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اُن کے ظلم کی پاداش میں اُن پر آسمان سے عذاب بھیج دیا۔ 1

163

وَسْـَٔلْهُمْ عَنِ ٱلْقَرْيَةِ ٱلَّتِى كَانَتْ حَاضِرَةَ ٱلْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِى ٱلسَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًۭا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ ۙ لَا تَأْتِيهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَبْلُوهُم بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ

wasalhum ʿani l-qaryati allatī kānat ḥāḍirata l-baḥri idh yaʿdūna fī l-sabti idh tatīhim ḥītānuhum yawma sabtihim shurraʿan wayawma lā yasbitūna lā tatīhim kadhālika nablūhum bimā kānū yafsuqūna

اور ذرا اِ ن سے اُس بستی کا حال بھی پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی 1۔ اِنہیں یاد دلاؤ وہ واقعہ کہ وہاں کے لوگ سَبْت (ہفتہ) کے دن احکامِ الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن اُبھر اُبھر کر سطح پر اُن کے سامنے آتی تھیں 2اور سَبْت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں۔ یہ اس لیےہوتا تھا کہ ہم ان کی نافر مانیوں کی وجہ سے ان کو آزمائش میں ڈال رہے 3تھے

164

وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌۭ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ ٱللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًۭا شَدِيدًۭا ۖ قَالُوا۟ مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

wa-idh qālat ummatun min'hum lima taʿiẓūna qawman l-lahu muh'likuhum aw muʿadhibuhum ʿadhāban shadīdan qālū maʿdhiratan ilā rabbikum walaʿallahum yattaqūna

اور انہیں یہ بھی یاد لاؤ کہ جب اُن میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ "تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے " تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ "ہم یہ سب کچھ تمہارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس امید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں"

165

فَلَمَّا نَسُوا۟ مَا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦٓ أَنجَيْنَا ٱلَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ ٱلسُّوٓءِ وَأَخَذْنَا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ بِعَذَابٍۭ بَـِٔيسٍۭ بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ

falammā nasū mā dhukkirū bihi anjaynā alladhīna yanhawna ʿani l-sūi wa-akhadhnā alladhīna ẓalamū biʿadhābin baīsin bimā kānū yafsuqūna

آخر کا ر جب اُن ہدایات کو با لکل ہی فراموش کر گئے جو انہیں یاد کرائی گئی تھیں تو ہم نے اُن لوگوں کو بچا لیا جو بُرائی سے روکتے تھے اور باقی سب لوگوں کو جو ظالم تھے ان کی نافرمانیوں پر سخت عذاب میں پکڑ لیا۔1

166

فَلَمَّا عَتَوْا۟ عَن مَّا نُهُوا۟ عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُونُوا۟ قِرَدَةً خَـٰسِـِٔينَ

falammā ʿataw ʿan mā nuhū ʿanhu qul'nā lahum kūnū qiradatan khāsiīna

پھر جب وہ پوری سر کشی کے ساتھ وہی کام کیے چلے گئے جس سے انہیں روکا گیا تھا، تو ہم نے کہا کہ بندر ہو جاؤذلیل اور خوار۔1

167

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ مَن يَسُومُهُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ ۗ إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ ٱلْعِقَابِ ۖ وَإِنَّهُۥ لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

wa-idh ta-adhana rabbuka layabʿathanna ʿalayhim ilā yawmi l-qiyāmati man yasūmuhum sūa l-ʿadhābi inna rabbaka lasarīʿu l-ʿiqābi wa-innahu laghafūrun raḥīmun

اور یاد کرو جبکہ تمہارے رب نے اعلان کر دیا1 کہ”وہ قیامت تک برابر ایسے لوگ بنی اسرائیل پر مسلّط کرتا رہے گا جو ان کو بدترین عذاب دیں گے،2“ یقیناً تمہارا رب سزا دینے میں تیز دست ہے اور یقیناً وہ در گزر اور رحم سے بھی کام لینے والا ہے

168

وَقَطَّعْنَـٰهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ أُمَمًۭا ۖ مِّنْهُمُ ٱلصَّـٰلِحُونَ وَمِنْهُمْ دُونَ ذَٰلِكَ ۖ وَبَلَوْنَـٰهُم بِٱلْحَسَنَـٰتِ وَٱلسَّيِّـَٔاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

waqaṭṭaʿnāhum fī l-arḍi umaman min'humu l-ṣāliḥūna wamin'hum dūna dhālika wabalawnāhum bil-ḥasanāti wal-sayiāti laʿallahum yarjiʿūna

ہم نے ان کو زمین میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے بہت سی قوموں میں تقسیم کر دیا کچھ لوگ ان میں نیک تھے اور کچھ ا س سے مختلف اور ہم ان کو اچھے اور برے حالات سے آزمائش میں مبتلا کرتے رہے کہ شاید یہ پلٹ آئیں

169

فَخَلَفَ مِنۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌۭ وَرِثُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَـٰذَا ٱلْأَدْنَىٰ وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِن يَأْتِهِمْ عَرَضٌۭ مِّثْلُهُۥ يَأْخُذُوهُ ۚ أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِم مِّيثَـٰقُ ٱلْكِتَـٰبِ أَن لَّا يَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ وَدَرَسُوا۟ مَا فِيهِ ۗ وَٱلدَّارُ ٱلْـَٔاخِرَةُ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

fakhalafa min baʿdihim khalfun warithū l-kitāba yakhudhūna ʿaraḍa hādhā l-adnā wayaqūlūna sayugh'faru lanā wa-in yatihim ʿaraḍun mith'luhu yakhudhūhu alam yu'khadh ʿalayhim mīthāqu l-kitābi an lā yaqūlū ʿalā l-lahi illā l-ḥaqa wadarasū mā fīhi wal-dāru l-ākhiratu khayrun lilladhīna yattaqūna afalā taʿqilūna

پھر اگلی نسلوں کے بعد ایسے نا خلف لوگ ان کے جا نشین ہوئے جو کتاب الٰہی کے وارث ہو کر اسی دنیائے دَنی کے فائدے سمیٹتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ توقع ہے ہمیں معاف کر دیا جائے گا، اور اگر وہی متاعِ دنیا پھر سامنے آتی ہے تو پھر لپک کر اُسے لے لیتے ہیں۔1 کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا جا چکا ہےکہ اللہ کے نام پر وہی بات کہیں جو حق ہو؟ اور یہ خود پڑھ چکے ہیں جو کتاب میں لکھا ہے۔2 آخرت کی قیام گاہ تو خدا ترس لوگوں کے لیے ہی بہتر ہے3، کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے؟

170

وَٱلَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِٱلْكِتَـٰبِ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُصْلِحِينَ

wa-alladhīna yumassikūna bil-kitābi wa-aqāmū l-ṣalata innā lā nuḍīʿu ajra l-muṣ'liḥīna

جو لوگ کتاب کی پابندی کر تے ہیں اور جنہوں نے نماز قائم رکھی ہے، یقیناً ایسے نیک کردار لوگوں کا اجر ہم ضائع نہیں کریں گے

171

۞ وَإِذْ نَتَقْنَا ٱلْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُۥ ظُلَّةٌۭ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُۥ وَاقِعٌۢ بِهِمْ خُذُوا۟ مَآ ءَاتَيْنَـٰكُم بِقُوَّةٍۢ وَٱذْكُرُوا۟ مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

wa-idh nataqnā l-jabala fawqahum ka-annahu ẓullatun waẓannū annahu wāqiʿun bihim khudhū mā ātaynākum biquwwatin wa-udh'kurū mā fīhi laʿallakum tattaqūna

انہیں وہ وقت بھی کچھ یاد ہے جبکہ ہم نے پہاڑ کو ہلا کر اُن پر اس طرح چھا دیا تھا کہ گویا وہ چھتری ہےاور یہ گمان کر رہے تھے کہ وہ ان پر آ پڑے گا اور اُس وقت ہم نے اُن سے کہا تھا کہ جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامو اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو،توقع ہے کہ تم غلط روی سے بچے رہو گے۔ 1

172

وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنۢ بَنِىٓ ءَادَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ ۛ شَهِدْنَآ ۛ أَن تَقُولُوا۟ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَـٰذَا غَـٰفِلِينَ

wa-idh akhadha rabbuka min banī ādama min ẓuhūrihim dhurriyyatahum wa-ashhadahum ʿalā anfusihim alastu birabbikum qālū balā shahid'nā an taqūlū yawma l-qiyāmati innā kunnā ʿan hādhā ghāfilīna

1اور اے نبی، لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پُشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا ”کیا میں تمارا رب نہیں ہوں؟“ انہوں نے کہا”ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں ، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں2“۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ ”ہم اس بات سے بے خبر تھے“

173

أَوْ تَقُولُوٓا۟ إِنَّمَآ أَشْرَكَ ءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةًۭ مِّنۢ بَعْدِهِمْ ۖ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلْمُبْطِلُونَ

aw taqūlū innamā ashraka ābāunā min qablu wakunnā dhurriyyatan min baʿdihim afatuh'likunā bimā faʿala l-mub'ṭilūna

یا یہ نہ کہنے لگو کہ ”شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے کی تھی اور ہم بعد کو ان کی نسل سے پیدا ہوئے، پھر کیا آپ ہمیں اُس قصُور میں پکڑتے ہیں جو غلط کار لوگوں نے کیا تھا۔“1

174

وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْـَٔايَـٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

wakadhālika nufaṣṣilu l-āyāti walaʿallahum yarjiʿūna

دیکھو، اِس طرح ہم نشانیاں واضح طور پر پیش کرتے ہیں۔1 اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ پلٹ آئیں۔2

175

وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ٱلَّذِىٓ ءَاتَيْنَـٰهُ ءَايَـٰتِنَا فَٱنسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ ٱلشَّيْطَـٰنُ فَكَانَ مِنَ ٱلْغَاوِينَ

wa-ut'lu ʿalayhim naba-a alladhī ātaynāhu āyātinā fa-insalakha min'hā fa-atbaʿahu l-shayṭānu fakāna mina l-ghāwīna

اور اے محمد ؐ ، اِن کے سامنے اُس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا 1 مگر وہ ان کی پابندی سے نِکل بھاگا۔ آخر کار شیطان اس کے پیچھے پڑ گیا یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا

176

وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَـٰهُ بِهَا وَلَـٰكِنَّهُۥٓ أَخْلَدَ إِلَى ٱلْأَرْضِ وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ ۚ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ ٱلْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث ۚ ذَّٰلِكَ مَثَلُ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا ۚ فَٱقْصُصِ ٱلْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ

walaw shi'nā larafaʿnāhu bihā walākinnahu akhlada ilā l-arḍi wa-ittabaʿa hawāhu famathaluhu kamathali l-kalbi in taḥmil ʿalayhi yalhath aw tatruk'hu yalhath dhālika mathalu l-qawmi alladhīna kadhabū biāyātinā fa-uq'ṣuṣi l-qaṣaṣa laʿallahum yatafakkarūna

اگر ہم چاہتے اسے اُن آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے، مگر وہ تو زمین کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑارہا، لہٰذا اس کی حالت کتّے کی سی ہو گئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔1 یہی مثال ہے اُن لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ تم یہ حکایات اِن کو سناتے رہو، شاید کہ یہ کچھ غوروفکرکریں

177

سَآءَ مَثَلًا ٱلْقَوْمُ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا وَأَنفُسَهُمْ كَانُوا۟ يَظْلِمُونَ

sāa mathalan l-qawmu alladhīna kadhabū biāyātinā wa-anfusahum kānū yaẓlimūna

بڑی ہی بری مثال ہے ایسے لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، اور وہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے ہیں

178

مَن يَهْدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلْمُهْتَدِى ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَـٰسِرُونَ

man yahdi l-lahu fahuwa l-muh'tadī waman yuḍ'lil fa-ulāika humu l-khāsirūna

جسے اللہ ہدایت بخشے بس وہی راہ راست پاتا ہے اور جس کو اللہ اپنی رہنمائی سے محروم کر دے وہی ناکام و نامراد ہو کر رہتا ہے

179

وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌۭ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌۭ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ ءَاذَانٌۭ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَآ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ كَٱلْأَنْعَـٰمِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْغَـٰفِلُونَ

walaqad dharanā lijahannama kathīran mina l-jini wal-insi lahum qulūbun lā yafqahūna bihā walahum aʿyunun lā yub'ṣirūna bihā walahum ādhānun lā yasmaʿūna bihā ulāika kal-anʿāmi bal hum aḍallu ulāika humu l-ghāfilūna

اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جِن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔1، ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان تو ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں

180

وَلِلَّهِ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ فَٱدْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا۟ ٱلَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِىٓ أَسْمَـٰٓئِهِۦ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

walillahi l-asmāu l-ḥus'nā fa-id'ʿūhu bihā wadharū alladhīna yul'ḥidūna fī asmāihi sayuj'zawna mā kānū yaʿmalūna

1اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے، اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو اور اُن لوگو ں کو چھوڑ دوجو اس کے نام رکھنے میں راستی سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس کا بدلہ وہ پاکر رہیں گے۔2

181

وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ أُمَّةٌۭ يَهْدُونَ بِٱلْحَقِّ وَبِهِۦ يَعْدِلُونَ

wamimman khalaqnā ummatun yahdūna bil-ḥaqi wabihi yaʿdilūna

ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ہدایت اور حق ہی کے مطابق انصاف کرتا ہے

182

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ

wa-alladhīna kadhabū biāyātinā sanastadrijuhum min ḥaythu lā yaʿlamūna

رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی

183

وَأُمْلِى لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ

wa-um'lī lahum inna kaydī matīnun

میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے

184

أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا۟ ۗ مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌۭ مُّبِينٌ

awalam yatafakkarū mā biṣāḥibihim min jinnatin in huwa illā nadhīrun mubīnun

اور کیا اِن لوگوں نے کبھی سوچا نہیں؟ اِن کے رفیق پر جنون کا کوئی اثر نہیں ہے وہ تو ایک خبردار ہے جو (برا انجام سامنے آنے سے پہلے) صاف صاف متنبہ کر رہا ہے

185

أَوَلَمْ يَنظُرُوا۟ فِى مَلَكُوتِ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍۢ وَأَنْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَدِ ٱقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ ۖ فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ

awalam yanẓurū fī malakūti l-samāwāti wal-arḍi wamā khalaqa l-lahu min shayin wa-an ʿasā an yakūna qadi iq'taraba ajaluhum fabi-ayyi ḥadīthin baʿdahu yu'minūna

کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پر کبھی غور نہیں کیا اور کسی چیز کو بھی جو خدا نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا؟ 1اور کیا یہ بھی انہوں نے نہیں سوچا کہ شاید ان کی مہلتِ زندگی پوری ہونے کا وقت قریب آلگا ہو؟2 پھر آخر پیغمبر ؐ کی اِس تنبیہ کے بعد اور کون سی بات ایسی ہو سکتی ہے۔ جس پریہ ایمان لائیں؟

186

مَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَلَا هَادِىَ لَهُۥ ۚ وَيَذَرُهُمْ فِى طُغْيَـٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ

man yuḍ'lili l-lahu falā hādiya lahu wayadharuhum fī ṭugh'yānihim yaʿmahūna

جس کو اللہ رہنمائی سے محروم کر دے اُس کے لیے پھر کوئی رہنما نہیں ہے، اور اللہ اِنہیں اِن کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے دیتا ہے

187

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّى ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَآ إِلَّا هُوَ ۚ ثَقُلَتْ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةًۭ ۗ يَسْـَٔلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِىٌّ عَنْهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ ٱللَّهِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

yasalūnaka ʿani l-sāʿati ayyāna mur'sāhā qul innamā ʿil'muhā ʿinda rabbī lā yujallīhā liwaqtihā illā huwa thaqulat fī l-samāwāti wal-arḍi lā tatīkum illā baghtatan yasalūnaka ka-annaka ḥafiyyun ʿanhā qul innamā ʿil'muhā ʿinda l-lahi walākinna akthara l-nāsi lā yaʿlamūna

یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی؟ کہو "اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے اُسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہوگا وہ تم پر اچانک آ جائے گا" یہ لوگ اس کے متعلق تم سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تم اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہو کہو "اس کا علم تو صرف اللہ کو ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے نا واقف ہیں"

188

قُل لَّآ أَمْلِكُ لِنَفْسِى نَفْعًۭا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ لَٱسْتَكْثَرْتُ مِنَ ٱلْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِىَ ٱلسُّوٓءُ ۚ إِنْ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٌۭ وَبَشِيرٌۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ

qul lā amliku linafsī nafʿan walā ḍarran illā mā shāa l-lahu walaw kuntu aʿlamu l-ghayba la-is'takthartu mina l-khayri wamā massaniya l-sūu in anā illā nadhīrun wabashīrun liqawmin yu'minūna

اے محمدؐ ، ان سے کہو کہ ”میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا، اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کر لیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا۔میں 1تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوشخبری سُنانے والا ہوں اُن لوگوں کےلیے جو میری بات مانیں۔“

189

۞ هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍۢ وَٰحِدَةٍۢ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا ۖ فَلَمَّا تَغَشَّىٰهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًۭا فَمَرَّتْ بِهِۦ ۖ فَلَمَّآ أَثْقَلَت دَّعَوَا ٱللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ ءَاتَيْتَنَا صَـٰلِحًۭا لَّنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ

huwa alladhī khalaqakum min nafsin wāḥidatin wajaʿala min'hā zawjahā liyaskuna ilayhā falammā taghashāhā ḥamalat ḥamlan khafīfan famarrat bihi falammā athqalat daʿawā l-laha rabbahumā la-in ātaytanā ṣāliḥan lanakūnanna mina l-shākirīna

وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں نے مل کر اللہ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے

190

فَلَمَّآ ءَاتَىٰهُمَا صَـٰلِحًۭا جَعَلَا لَهُۥ شُرَكَآءَ فِيمَآ ءَاتَىٰهُمَا ۚ فَتَعَـٰلَى ٱللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ

falammā ātāhumā ṣāliḥan jaʿalā lahu shurakāa fīmā ātāhumā fataʿālā l-lahu ʿammā yush'rikūna

مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح و سالم بچہ دے دیا تو وہ اُس کی اِس بخشش و عنایت میں دوسروں کو اِس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلند و برتر ہے اِن مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔1

191

أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْـًۭٔا وَهُمْ يُخْلَقُونَ

ayush'rikūna mā lā yakhluqu shayan wahum yukh'laqūna

کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ اُن کو خدا کا شریک ٹھیراتے ہیں جو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں

192

وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًۭا وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ

walā yastaṭīʿūna lahum naṣran walā anfusahum yanṣurūna

جو نہ ان کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں

193

وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ ۚ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنتُمْ صَـٰمِتُونَ

wa-in tadʿūhum ilā l-hudā lā yattabiʿūkum sawāon ʿalaykum adaʿawtumūhum am antum ṣāmitūna

اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں، تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی رہے۔1

194

إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَٱدْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا۟ لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ

inna alladhīna tadʿūna min dūni l-lahi ʿibādun amthālukum fa-id'ʿūhum falyastajībū lakum in kuntum ṣādiqīna

تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو ان سے دعائیں مانگ دیکھو، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں

195

أَلَهُمْ أَرْجُلٌۭ يَمْشُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ أَيْدٍۢ يَبْطِشُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌۭ يُبْصِرُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ ءَاذَانٌۭ يَسْمَعُونَ بِهَا ۗ قُلِ ٱدْعُوا۟ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ

alahum arjulun yamshūna bihā am lahum aydin yabṭishūna bihā am lahum aʿyunun yub'ṣirūna bihā am lahum ādhānun yasmaʿūna bihā quli id'ʿū shurakāakum thumma kīdūni falā tunẓirūni

کیا یہ پاوٴں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سُنیں؟ 1اے محمدؐ ، ان سے کہہ دو کہ”بُلا لواپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مِل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو

196

إِنَّ وَلِـِّۧىَ ٱللَّهُ ٱلَّذِى نَزَّلَ ٱلْكِتَـٰبَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى ٱلصَّـٰلِحِينَ

inna waliyyiya l-lahu alladhī nazzala l-kitāba wahuwa yatawallā l-ṣāliḥīna

میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتا ب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے،1

197

وَٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ

wa-alladhīna tadʿūna min dūnihi lā yastaṭīʿūna naṣrakum walā anfusahum yanṣurūna

بخلاف اِس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں

198

وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا۟ ۖ وَتَرَىٰهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ

wa-in tadʿūhum ilā l-hudā lā yasmaʿū watarāhum yanẓurūna ilayka wahum lā yub'ṣirūna

بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے"

199

خُذِ ٱلْعَفْوَ وَأْمُرْ بِٱلْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ ٱلْجَـٰهِلِينَ

khudhi l-ʿafwa wamur bil-ʿur'fi wa-aʿriḍ ʿani l-jāhilīna

اے نبیؐ، نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کیے جاؤ، اور جاہلوں سے نہ الجھو

200

وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيْطَـٰنِ نَزْغٌۭ فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِ ۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

wa-immā yanzaghannaka mina l-shayṭāni nazghun fa-is'taʿidh bil-lahi innahu samīʿun ʿalīmun

اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو، وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

201

إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ إِذَا مَسَّهُمْ طَـٰٓئِفٌۭ مِّنَ ٱلشَّيْطَـٰنِ تَذَكَّرُوا۟ فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ

inna alladhīna ittaqaw idhā massahum ṭāifun mina l-shayṭāni tadhakkarū fa-idhā hum mub'ṣirūna

حقیقت میں جو لو گ متقی ہیں اُن کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انہیں چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریق کار کیا ہے

202

وَإِخْوَٰنُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِى ٱلْغَىِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ

wa-ikh'wānuhum yamuddūnahum fī l-ghayi thumma lā yuq'ṣirūna

رہے ان کے (یعنی شیاطین کے) بھائی بند تو وہ اُنہیں ان کی کج روی میں کھینچے لیے چلے جاتے ہیں اور انہیں بھٹکانے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے۔1

203

وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِم بِـَٔايَةٍۢ قَالُوا۟ لَوْلَا ٱجْتَبَيْتَهَا ۚ قُلْ إِنَّمَآ أَتَّبِعُ مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ مِن رَّبِّى ۚ هَـٰذَا بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمْ وَهُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ

wa-idhā lam tatihim biāyatin qālū lawlā ij'tabaytahā qul innamā attabiʿu mā yūḥā ilayya min rabbī hādhā baṣāiru min rabbikum wahudan waraḥmatun liqawmin yu'minūna

اے نبی، جب تم ان لوگوں کے سامنے کوئی نشانی (یعنی معجزہ) پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لیے کوئی نشانی کیوں نہ انتخاب کر لی؟1 اِن سےکہو”میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے ربّ نےمیری طرف بھیجی ہے۔ یہ بصیر ت کی روشنیاں ہیں تمہارے ربّ کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے اُن لوگوں کے لیے جو اسے قبول کریں۔2

204

وَإِذَا قُرِئَ ٱلْقُرْءَانُ فَٱسْتَمِعُوا۟ لَهُۥ وَأَنصِتُوا۟ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

wa-idhā quri-a l-qur'ānu fa-is'tamiʿū lahu wa-anṣitū laʿallakum tur'ḥamūna

جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سُنو اور خاموش رہو ، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہوجائے۔“1

205

وَٱذْكُر رَّبَّكَ فِى نَفْسِكَ تَضَرُّعًۭا وَخِيفَةًۭ وَدُونَ ٱلْجَهْرِ مِنَ ٱلْقَوْلِ بِٱلْغُدُوِّ وَٱلْـَٔاصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ ٱلْغَـٰفِلِينَ

wa-udh'kur rabbaka fī nafsika taḍarruʿan wakhīfatan wadūna l-jahri mina l-qawli bil-ghuduwi wal-āṣāli walā takun mina l-ghāfilīna

اے نبیؐ ، اپنے ربّ کو صبح و شام یاد کیا کرو دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ۔ تم اُن لوگوں میں نہ ہو جاوٴ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔1

206

إِنَّ ٱلَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِۦ وَيُسَبِّحُونَهُۥ وَلَهُۥ يَسْجُدُونَ ۩

inna alladhīna ʿinda rabbika lā yastakbirūna ʿan ʿibādatihi wayusabbiḥūnahu walahu yasjudūna

جو فرشتے تمہارے ربّ کے حضور تقرب کا مقام رکھتے ہیں وہ کبھی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آکر اُس کی عبادت سےمنہ نہیں موڑتے ،455___ اور اُس کی تسبیح کرتے ہیں،456___ اور اُس کے آگے جُھکتے رہتےہیں۔ 457___ ؏۲۴ السجدة 4

سجدہ

اس سورہ کے بارے میں