الأحقاف
Al-Ahqaf
The Wind-Curved Sandhills
حمٓ
hha-meem
ح م
تَنزِيلُ ٱلْكِتَـٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيمِ
tanzīlu l-kitābi mina l-lahi l-ʿazīzi l-ḥakīmi
اِس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے۔1
مَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَأَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ۚ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ عَمَّآ أُنذِرُوا۟ مُعْرِضُونَ
mā khalaqnā l-samāwāti wal-arḍa wamā baynahumā illā bil-ḥaqi wa-ajalin musamman wa-alladhīna kafarū ʿammā undhirū muʿ'riḍūna
ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق، اور ایک مدّتِ خاص کے تعیّن کے ساتھ پیدا کیا ہے۔1 مگر یہ کافر لو گ اُس حقیقت سے مُنہ موڑے ہوئے ہیں جس سے ان کو خبر دار کیا گیا ہے۔2
قُلْ أَرَءَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَرُونِى مَاذَا خَلَقُوا۟ مِنَ ٱلْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌۭ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ ۖ ٱئْتُونِى بِكِتَـٰبٍۢ مِّن قَبْلِ هَـٰذَآ أَوْ أَثَـٰرَةٍۢ مِّنْ عِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ
qul ara-aytum mā tadʿūna min dūni l-lahi arūnī mādhā khalaqū mina l-arḍi am lahum shir'kun fī l-samāwāti i'tūnī bikitābin min qabli hādhā aw athāratin min ʿil'min in kuntum ṣādiqīna
اے نبی ؐ ، اِن سے کہو”کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا بھی کہ وہ ہستیاں ہیں کیا جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکار تے ہو؟ ذرا مجھے دکھاوٴ تو سہی کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے، یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کیا حصّہ ہے۔ اِس سے پہلے آئی ہوئی کوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیّہ (اِن عقائد کے ثبوت میں)تمہارے پاس ہو تو وہی لے آوٴ اگر تم سچے ہو۔“1
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُۥٓ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ وَهُمْ عَن دُعَآئِهِمْ غَـٰفِلُونَ
waman aḍallu mimman yadʿū min dūni l-lahi man lā yastajību lahu ilā yawmi l-qiyāmati wahum ʿan duʿāihim ghāfilūna
آخر اُس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے1 بلکہ اِس سے بھی بے خبر ہیں کہ پُکارنے والے اُن کو پکار رہے ہیں ،2
وَإِذَا حُشِرَ ٱلنَّاسُ كَانُوا۟ لَهُمْ أَعْدَآءًۭ وَكَانُوا۟ بِعِبَادَتِهِمْ كَـٰفِرِينَ
wa-idhā ḥushira l-nāsu kānū lahum aʿdāan wakānū biʿibādatihim kāfirīna
اور جب تمام انسان جمع کیے جائیں گے اُس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے۔1
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتُنَا بَيِّنَـٰتٍۢ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ هَـٰذَا سِحْرٌۭ مُّبِينٌ
wa-idhā tut'lā ʿalayhim āyātunā bayyinātin qāla alladhīna kafarū lil'ḥaqqi lammā jāahum hādhā siḥ'run mubīnun
اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سُنائی جاتی ہیں اور حق اِن کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اُس کے متعلق کہتے ہیں کہ کہ تو کھُلا جادو ہے۔1
أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۖ قُلْ إِنِ ٱفْتَرَيْتُهُۥ فَلَا تَمْلِكُونَ لِى مِنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِ ۖ كَفَىٰ بِهِۦ شَهِيدًۢا بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ ۖ وَهُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
am yaqūlūna if'tarāhu qul ini if'taraytuhu falā tamlikūna lī mina l-lahi shayan huwa aʿlamu bimā tufīḍūna fīhi kafā bihi shahīdan baynī wabaynakum wahuwa l-ghafūru l-raḥīmu
کیا اُن کا کہنا یہ ہے کہ رسُول نے اِسے خود گھڑ لیا ہے؟1 اِن سے کہو ”اگر میں نے اِسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے، جو باتیں تم بناتے ہواللہ ان کو خوب جانتا ہے، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لیے کافی ہے،2 اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔“3
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًۭا مِّنَ ٱلرُّسُلِ وَمَآ أَدْرِى مَا يُفْعَلُ بِى وَلَا بِكُمْ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ وَمَآ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٌۭ مُّبِينٌۭ
qul mā kuntu bid'ʿan mina l-rusuli wamā adrī mā yuf'ʿalu bī walā bikum in attabiʿu illā mā yūḥā ilayya wamā anā illā nadhīrun mubīnun
اِن سے کہو”،میں کوئی نرالا رسُول تو نہیں ہوں، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا، میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہوں۔“1
قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِن كَانَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ وَكَفَرْتُم بِهِۦ وَشَهِدَ شَاهِدٌۭ مِّنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ عَلَىٰ مِثْلِهِۦ فَـَٔامَنَ وَٱسْتَكْبَرْتُمْ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
qul ara-aytum in kāna min ʿindi l-lahi wakafartum bihi washahida shāhidun min banī is'rāīla ʿalā mith'lihi faāmana wa-is'takbartum inna l-laha lā yahdī l-qawma l-ẓālimīna
اے نبی ؐ ، ان سے کہو”کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہوا اور تم نے اِس کا انکار کر دیا(تو تمہارا کیا انجام ہو گا)؟1 اور اِس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔2 ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔“
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَوْ كَانَ خَيْرًۭا مَّا سَبَقُونَآ إِلَيْهِ ۚ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا۟ بِهِۦ فَسَيَقُولُونَ هَـٰذَآ إِفْكٌۭ قَدِيمٌۭ
waqāla alladhīna kafarū lilladhīna āmanū law kāna khayran mā sabaqūnā ilayhi wa-idh lam yahtadū bihi fasayaqūlūna hādhā if'kun qadīmun
جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جا سکتے تھے۔1 چونکہ اِنہوں نے اُس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پُرانا جھُوٹ ہے۔2
وَمِن قَبْلِهِۦ كِتَـٰبُ مُوسَىٰٓ إِمَامًۭا وَرَحْمَةًۭ ۚ وَهَـٰذَا كِتَـٰبٌۭ مُّصَدِّقٌۭ لِّسَانًا عَرَبِيًّۭا لِّيُنذِرَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ وَبُشْرَىٰ لِلْمُحْسِنِينَ
wamin qablihi kitābu mūsā imāman waraḥmatan wahādhā kitābun muṣaddiqun lisānan ʿarabiyyan liyundhira alladhīna ẓalamū wabush'rā lil'muḥ'sinīna
حالانکہ اِس سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے، اور یہ کتاب اُس کی تصدیق کرنے والی زباِنِ عربی میں آئی ہے تاکہ ظالموں کو متنبّہ کر دے1 اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے
إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَـٰمُوا۟ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
inna alladhīna qālū rabbunā l-lahu thumma is'taqāmū falā khawfun ʿalayhim walā hum yaḥzanūna
یقیناً جن لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا ربّ ہے ، پھر اُس پر جم گئے ، اُن کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔1
أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ خَـٰلِدِينَ فِيهَا جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
ulāika aṣḥābu l-janati khālidīna fīhā jazāan bimā kānū yaʿmalūna
ایسے سب لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اپنے اُن اعمال کے بدلے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں
وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ بِوَٰلِدَيْهِ إِحْسَـٰنًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُۥ كُرْهًۭا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًۭا ۖ وَحَمْلُهُۥ وَفِصَـٰلُهُۥ ثَلَـٰثُونَ شَهْرًا ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةًۭ قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِىٓ أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتَ عَلَىَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَىَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَـٰلِحًۭا تَرْضَىٰهُ وَأَصْلِحْ لِى فِى ذُرِّيَّتِىٓ ۖ إِنِّى تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّى مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ
wawaṣṣaynā l-insāna biwālidayhi iḥ'sānan ḥamalathu ummuhu kur'han wawaḍaʿathu kur'han waḥamluhu wafiṣāluhu thalāthūna shahran ḥattā idhā balagha ashuddahu wabalagha arbaʿīna sanatan qāla rabbi awziʿ'nī an ashkura niʿ'mataka allatī anʿamta ʿalayya waʿalā wālidayya wa-an aʿmala ṣāliḥan tarḍāhu wa-aṣliḥ lī fī dhurriyyatī innī tub'tu ilayka wa-innī mina l-mus'limīna
ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتاوٴ کرے۔ اُس کی ماں نے مشقّت اُٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقُت اُٹھا کر ہی اس کو جنا، اور اس کے حمل اور دُودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے۔1 یہاں تک کہ جب وہ اپنی پُوری طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوگیا تو اُس نے کہا”اے میرے ربّ ، مجھے توفیق دے کہ میں تیری اُن نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تُو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تُو راضی ہو،2 اور میری اولاد کو بھی نیک بناکر مجھے سُکھ دے، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان (مسلم)بندوں میں سے ہوں۔“
أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا۟ وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّـَٔاتِهِمْ فِىٓ أَصْحَـٰبِ ٱلْجَنَّةِ ۖ وَعْدَ ٱلصِّدْقِ ٱلَّذِى كَانُوا۟ يُوعَدُونَ
ulāika alladhīna nataqabbalu ʿanhum aḥsana mā ʿamilū wanatajāwazu ʿan sayyiātihim fī aṣḥābi l-janati waʿda l-ṣid'qi alladhī kānū yūʿadūna
اِس طرح کے لوگوں سے ہم اُن کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور ان کی بُرائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔1 یہ جنّتی لوگوں میں شامل ہوں گے اُس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے
وَٱلَّذِى قَالَ لِوَٰلِدَيْهِ أُفٍّۢ لَّكُمَآ أَتَعِدَانِنِىٓ أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ ٱلْقُرُونُ مِن قَبْلِى وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ ٱللَّهَ وَيْلَكَ ءَامِنْ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ فَيَقُولُ مَا هَـٰذَآ إِلَّآ أَسَـٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ
wa-alladhī qāla liwālidayhi uffin lakumā ataʿidāninī an ukh'raja waqad khalati l-qurūnu min qablī wahumā yastaghīthāni l-laha waylaka āmin inna waʿda l-lahi ḥaqqun fayaqūlu mā hādhā illā asāṭīru l-awalīna
اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا "اُف، تنگ کر دیا تم نے، کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد پھر قبر سے نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں (اُن میں سے تو کوئی اٹھ کر نہ آیا)" ماں اور باپ اللہ کی دوہائی دے کر کہتے ہیں "ارے بدنصیب، مان جا، اللہ کا وعدہ سچا ہے" مگر وہ کہتا ہے "یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں"
أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلْقَوْلُ فِىٓ أُمَمٍۢ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ خَـٰسِرِينَ
ulāika alladhīna ḥaqqa ʿalayhimu l-qawlu fī umamin qad khalat min qablihim mina l-jini wal-insi innahum kānū khāsirīna
یہ وہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہے۔ اِن سے پہلے جِنوں اور انسانوں کے جو ٹولے (اِسی قماش کے)ہو گزرے ہیں اُنہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے۔ بے شک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں۔1
وَلِكُلٍّۢ دَرَجَـٰتٌۭ مِّمَّا عَمِلُوا۟ ۖ وَلِيُوَفِّيَهُمْ أَعْمَـٰلَهُمْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
walikullin darajātun mimmā ʿamilū waliyuwaffiyahum aʿmālahum wahum lā yuẓ'lamūna
دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تاکہ اللہ ان کے کیے کا پُورا پُورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا۔ 1
وَيَوْمَ يُعْرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ عَلَى ٱلنَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَـٰتِكُمْ فِى حَيَاتِكُمُ ٱلدُّنْيَا وَٱسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَٱلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ ٱلْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَفْسُقُونَ
wayawma yuʿ'raḍu alladhīna kafarū ʿalā l-nāri adhhabtum ṭayyibātikum fī ḥayātikumu l-dun'yā wa-is'tamtaʿtum bihā fal-yawma tuj'zawna ʿadhāba l-hūni bimā kuntum tastakbirūna fī l-arḍi bighayri l-ḥaqi wabimā kuntum tafsuqūna
پھر جب یہ کافر آگ کے سامنے لاکھڑے کیے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا”تم اپنے حصّے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کر چکے اور ان کا لُطف تم نے اُٹھا لیا، اب جو تکبّر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں اُں کی پاداش میں آج تم کو ذلّت کا عذاب دیا جائے گا۔“1
۞ وَٱذْكُرْ أَخَا عَادٍ إِذْ أَنذَرَ قَوْمَهُۥ بِٱلْأَحْقَافِ وَقَدْ خَلَتِ ٱلنُّذُرُ مِنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦٓ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ
wa-udh'kur akhā ʿādin idh andhara qawmahu bil-aḥqāfi waqad khalati l-nudhuru min bayni yadayhi wamin khalfihi allā taʿbudū illā l-laha innī akhāfu ʿalaykum ʿadhāba yawmin ʿaẓīmin
ذرا اِنھیں عاد کے بھائی (ہُود ؑ)کا قصّہ سُناوٴ جبکہ اُس نے اَحْقاف میں اپنی قوم کو خبردار کیا تھا۔۔۔۔اور1 ایسے خبردار کرنے والا اُس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اس کے بعد بھی آتے رہے۔۔۔۔ کہ ”اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔“
قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِتَأْفِكَنَا عَنْ ءَالِهَتِنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
qālū aji'tanā litafikanā ʿan ālihatinā fatinā bimā taʿidunā in kunta mina l-ṣādiqīna
انہوں نے کہا "کیا تو اِس لیے آیا ہے کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دے؟ اچھا تو لے آ اپنا وہ عذاب جس سے تو ہمیں ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے"
قَالَ إِنَّمَا ٱلْعِلْمُ عِندَ ٱللَّهِ وَأُبَلِّغُكُم مَّآ أُرْسِلْتُ بِهِۦ وَلَـٰكِنِّىٓ أَرَىٰكُمْ قَوْمًۭا تَجْهَلُونَ
qāla innamā l-ʿil'mu ʿinda l-lahi wa-uballighukum mā ur'sil'tu bihi walākinnī arākum qawman tajhalūna
اُس نے کہاکہ”اِس کا علم تو اللہ کو ہے،1 میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔ مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو۔“2
فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًۭا مُّسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا۟ هَـٰذَا عَارِضٌۭ مُّمْطِرُنَا ۚ بَلْ هُوَ مَا ٱسْتَعْجَلْتُم بِهِۦ ۖ رِيحٌۭ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌۭ
falammā ra-awhu ʿāriḍan mus'taqbila awdiyatihim qālū hādhā ʿāriḍun mum'ṭirunā bal huwa mā is'taʿjaltum bihi rīḥun fīhā ʿadhābun alīmun
پھر جب انہوں نے اُس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگو”یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا۔“۔۔۔۔ ”نہیں،1 بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے
تُدَمِّرُ كُلَّ شَىْءٍۭ بِأَمْرِ رَبِّهَا فَأَصْبَحُوا۟ لَا يُرَىٰٓ إِلَّا مَسَـٰكِنُهُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْقَوْمَ ٱلْمُجْرِمِينَ
tudammiru kulla shayin bi-amri rabbihā fa-aṣbaḥū lā yurā illā masākinuhum kadhālika najzī l-qawma l-muj'rimīna
اپنے ربّ کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا۔“ آخر کار اُن کا حال یہ ہوا کہ اُن کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اِس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔1
وَلَقَدْ مَكَّنَّـٰهُمْ فِيمَآ إِن مَّكَّنَّـٰكُمْ فِيهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًۭا وَأَبْصَـٰرًۭا وَأَفْـِٔدَةًۭ فَمَآ أَغْنَىٰ عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ أَبْصَـٰرُهُمْ وَلَآ أَفْـِٔدَتُهُم مِّن شَىْءٍ إِذْ كَانُوا۟ يَجْحَدُونَ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ
walaqad makkannāhum fīmā in makkannākum fīhi wajaʿalnā lahum samʿan wa-abṣāran wa-afidatan famā aghnā ʿanhum samʿuhum walā abṣāruhum walā afidatuhum min shayin idh kānū yajḥadūna biāyāti l-lahi waḥāqa bihim mā kānū bihi yastahziūna
اُن کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے۔1 اُن کو ہم نے کان، آنکھیں اور دل، سب کچھ دے رکھے تھے، مگر نہ وہ کان اُن کے کسی کام آئے، نہ آنکھیں، نہ دل، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے،2 اور اُسی چیز کے پھیر میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ ٱلْقُرَىٰ وَصَرَّفْنَا ٱلْـَٔايَـٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
walaqad ahlaknā mā ḥawlakum mina l-qurā waṣarrafnā l-āyāti laʿallahum yarjiʿūna
تمہارے گرد و پیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں ہم نے اپنی آیات بھیج کر بار بار طرح طرح سے اُن کو سمجھایا، شاید کہ وہ باز آ جائیں
فَلَوْلَا نَصَرَهُمُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ قُرْبَانًا ءَالِهَةًۢ ۖ بَلْ ضَلُّوا۟ عَنْهُمْ ۚ وَذَٰلِكَ إِفْكُهُمْ وَمَا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ
falawlā naṣarahumu alladhīna ittakhadhū min dūni l-lahi qur'bānan ālihatan bal ḍallū ʿanhum wadhālika if'kuhum wamā kānū yaftarūna
پھر کیوں نہ اُن ہستیوں نے اُن کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرّب اِلی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبُود بنا لیا تھا؟1 بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے، اور یہ تھا اُں کے جھُوٹ اور اُن بناوٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے
وَإِذْ صَرَفْنَآ إِلَيْكَ نَفَرًۭا مِّنَ ٱلْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ ٱلْقُرْءَانَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوٓا۟ أَنصِتُوا۟ ۖ فَلَمَّا قُضِىَ وَلَّوْا۟ إِلَىٰ قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ
wa-idh ṣarafnā ilayka nafaran mina l-jini yastamiʿūna l-qur'āna falammā ḥaḍarūhu qālū anṣitū falammā quḍiya wallaw ilā qawmihim mundhirīna
(اور وہ واقعہ بھی قابلِ ذکر ہے)جب ہم جِنّوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ قرآن سُنیں۔1 جب وہ اُس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے)تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہوجاوٴ۔ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے
قَالُوا۟ يَـٰقَوْمَنَآ إِنَّا سَمِعْنَا كِتَـٰبًا أُنزِلَ مِنۢ بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِىٓ إِلَى ٱلْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ
qālū yāqawmanā innā samiʿ'nā kitāban unzila min baʿdi mūsā muṣaddiqan limā bayna yadayhi yahdī ilā l-ḥaqi wa-ilā ṭarīqin mus'taqīmin
انہوں نے جا کر کہا”اے ہماری قوم کے لوگو، ہم نے ایک کتاب سُنی ہے جو موسیٰ ؑ کے بعد نازل کی گئی ہے، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی، رہنمائی کرتی ہے حق اور راہِ راست کی طرف۔1
يَـٰقَوْمَنَآ أَجِيبُوا۟ دَاعِىَ ٱللَّهِ وَءَامِنُوا۟ بِهِۦ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍۢ
yāqawmanā ajībū dāʿiya l-lahi waāminū bihi yaghfir lakum min dhunūbikum wayujir'kum min ʿadhābin alīmin
اے ہماری قوم کے لوگو، اللہ کی طرف بُلانے والے کی دعوت قبول کر لو اور اس پر ایمان لے آوٴ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذابِ الیم سے بچا دے گا۔“1
وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِىَ ٱللَّهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُۥ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءُ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ فِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍ
waman lā yujib dāʿiya l-lahi falaysa bimuʿ'jizin fī l-arḍi walaysa lahu min dūnihi awliyāu ulāika fī ḍalālin mubīnin
اور1 جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کو زِچ کر دے، اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی و سرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچالیں۔ ایسے لوگ کھُلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَلَمْ يَعْىَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَـٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحْـِۧىَ ٱلْمَوْتَىٰ ۚ بَلَىٰٓ إِنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ
awalam yaraw anna l-laha alladhī khalaqa l-samāwāti wal-arḍa walam yaʿya bikhalqihinna biqādirin ʿalā an yuḥ'yiya l-mawtā balā innahu ʿalā kulli shayin qadīrun
اور کیا اِن لوگوں کو یہ سجھائی نہیں دیتا کہ جس خدا نے یہ زمین اور آسمان پیدا کیے ہیں اور ان کو بناتے ہوئے جو نہ تھکا، وہ ضرور اس پر قادر ہے کہ مُردوں کو جلا اٹھائے؟ کیوں نہیں، یقیناً وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے
وَيَوْمَ يُعْرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ عَلَى ٱلنَّارِ أَلَيْسَ هَـٰذَا بِٱلْحَقِّ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَرَبِّنَا ۚ قَالَ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ
wayawma yuʿ'raḍu alladhīna kafarū ʿalā l-nāri alaysa hādhā bil-ḥaqi qālū balā warabbinā qāla fadhūqū l-ʿadhāba bimā kuntum takfurūna
جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے، اُس وقت اِن سے پوچھا جائے گا "کیا یہ حق نہیں ہے؟" یہ کہیں گے "ہاں، ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حق ہے)" اللہ فرمائے گا، "اچھا تو اب عذاب کا مزا چکھو اپنے اُس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے"
فَٱصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْعَزْمِ مِنَ ٱلرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِل لَّهُمْ ۚ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةًۭ مِّن نَّهَارٍۭ ۚ بَلَـٰغٌۭ ۚ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ
fa-iṣ'bir kamā ṣabara ulū l-ʿazmi mina l-rusuli walā tastaʿjil lahum ka-annahum yawma yarawna mā yūʿadūna lam yalbathū illā sāʿatan min nahārin balāghun fahal yuh'laku illā l-qawmu l-fāsiqūna
پس اے نبی ؐ ، صبر کرو جس طرح اُولو العزم رسُولوں نے صبر کیا ہے ، اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو۔1 جس روز یہ لوگ اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِنہیں خوف دلا یا جا رہا ہے تو اِنہیں یُوں معلوم ہوگا کہ جیسے دنیا میں دِن کی ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ بات پہنچا دی گئی ، اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا؟